کبشہ بنت کعب ؓ جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ ؓ کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، ابوقتادہ ؓ نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا: بھتیجی! تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے ۔
. It was narrated from Kabshah bint Kab, who was married to one of the sons of Abu Qatadah, that she poured water for Abu Qatadah to perform ablution. A cat came and drank the water, and he tilted the vessel for it. She started looking at it (in surprise) and he said: "O daughter of my brother, do you find it strange? The Messenger of Allah ﷺ said: They (cats) are not impure; they are of those who go around among you."
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے اور اس سے پہلے بلی اس میں سے پی چکی ہوتی تھی۔
. It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and I used to perform ablution from a single vessel, when the cat had drunk from it beforehand."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ٣٨ (٧٦) (صحیح) (حدیث کی سند میں حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٦٩ ، ٧٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلی نماز کو نہیں توڑتی، اس لیے کہ وہ گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے ١ ؎۔
. It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Cats do not invalidate the prayer, because they are one of the things that are useful in the house."
Notes · وضاحت
١ ؎: عبیداللہ بن عبدالمجید کی کنیت ابوبکر نہیں بلکہ ابوعلی ہے، ابوبکر ان کے بھائی ہیں (ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٥٣) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی الزناد ضعیف اور مضطرب الحدیث ہیں، لیکن سنن کبری بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے موقوفا یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥١٢ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی نے لگن سے غسل کیا، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، اور اس بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہا تو وہ بولیں: اے اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "One of the wives of the Prophet ﷺ took a bath from a large vessel, then the Prophet ﷺ came and had a bath or ablution, and she said: O Messenger of Allah, I was sexually impure. He said: Water does not become impure.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنبی مرد یا عورت اگر برتن میں ہاتھ دھو کر یا ہاتھ وغیرہ ڈال دیں یا اس میں سے نکال کر استعمال کریں تو باقی پانی ناپاک نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل جائز ہے تو وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی نے غسل جنابت کیا، پھر ان کے بچے ہوئے پانی سے نبی اکرم ﷺ نے وضو یا غسل کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that one of the wives of the Prophet ﷺ took a bath to cleanse herself from sexual impurity, then the Prophet ﷺ performed ablution and had a bath with the water left over from her ablution."
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah the wife of the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ performed ablution with the water left over after she had taken a bath to cleanse herself from sexual impurity.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٧١، ومصباح الزجاجة: ١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دونوں کی متابعت موجود ہے، اس لئے کہ حاکم نے مستدرک ( ١ /١٥٩) میں اس حدیث کو محمد بن بکر سے، اور انہوں نے شعبہ سے، اور شعبہ نے سماک سے روایت کیا ہے، اور شعبہ اپنے مشائخ سے صرف صحیح احادیث ہی روایت کرتے ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری ( ١ /٣٠٠)، نیز محمد بن بکر نے شریک کی متابعت کی ہے۔
حکم بن عمرو غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرد کو عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Hakam bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ forbade men to perform ablution with the water left over by a woman.
Notes · وضاحت
١ ؎: مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ممانعت یا عدم جواز کی روایات کو اس پانی پر محمول کیا جائے، جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، یا ان میں وارد ممانعت نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے، جواز کی روایتوں کو برتن میں بچے ہوئے پانی پر محمول کیا جائے، اس صورت میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو ؓ کی ہے، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس ؓ کی وہم ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Sarjis said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade men to perform ablution with the water left over by a woman, and women to perform ablution with water left over by a man, however both (spouses) may start their ablutions at the same time."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپر کی حدیث ( ٣٧٣ ) صحیح ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا: عبداللہ سرجس کی اس باب میں حدیث موقوف صحیح ہے، جس نے اسے مرفوع بیان کیا غلطی کی (سنن ترمذی: ١ / ١٩٣)۔
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث آئی ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ and his wife would take a bath from one vessel, but neither of them would have a bath with the leftover water of the other."
Notes · وضاحت
١ ؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥١، ومصباح الزجاجة: ١٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (اس سند میں الحارث الاعور ضعیف راوی ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
. It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and his wives used to take a bath from a single vessel.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧) (صحیح) (اس سند کی بوصیری نے تحسین کی ہے، اور اس میں شریک القاضی سئ الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
It was narrated that Umm Subyah Al-Juhaniyyah said: "Often my hand would touch the hand of the Messenger of Allah ﷺ while performing ablution from a single vessel."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٩ (٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٦، ٣٦٧) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے لیل ۃ الجن (جنوں سے ملاقات والی رات) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ ، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے ، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا ١ ؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that on the night of the jinn, the Messenger of Allah ﷺ said to him: "Do you have water for ablution?" He said: "No, I have nothing but some Nabidh in a vessel." He said: "Good dates and pure water. (i.e., there is no harm from the mixing of the two)." So he performed ablution with it. This is the narration of Waki.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اور بعد کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور بقول امام طحاوی قابل استدلال نہیں، خود عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ وہ لیل ۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھے، لہذا نبیذ سے وضو درست نہیں، جمہور کا مذہب یہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٢ (٨٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٥ (٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٢، ٤٤٩، ٤٥٠، ٤٥٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں أبوزید مجہول راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعود ؓ سے لیل ۃ الجن میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل (مشک) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو ، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ ﷺ نے وضو کیا ١ ؎۔
. It was narrated from Abdullah bin Abbas that on the Night of the jinn the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Masud: "Do you have water?" He said: "No, only some Nabidh in a large water skin." The Messenger of Allah ﷺ said: "Good dates and pure water," (i.e., there is no harm from the mixing of the two) pour it for me." He said: "So I poured it for him and he performed ablution with it."
Notes · وضاحت
١ ؎: نبیذ وہ پانی ہے جس میں کھجور ڈال کر رات بھر بھگو یا جائے، جس کی وجہ سے پانی قدرے میٹھا ہوجائے، اور اس کا رنگ بھی بدل جائے، وہ نبیذ کہلاتا ہے۔ لیل ۃ الجن: وہ رات ہے جس میں نبی اکرم ﷺ جنوں کو ہدایت کے لئے مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، اور ان سے ملاقات کی، اور ان کو دعوت اسلام دی، اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے، رسول اللہ ﷺ کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا، اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ ابن مسعود ؓ نہیں تھے جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کے اندر سورة احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود ؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا، اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ زبیر بن العوام ؓ تھے، چھٹا واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ بلال بن حارث ؓ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١٦، ومصباح الزجاجة: ١٥٨) (ضعیف) (سند میں حنش ابن لہیعہ دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔
. It was narrated that Mughirah bin Abu Burdah, who was from the tribe of Banu Abdud-Dar, said that he heard Abu Hurairah (RA) say: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, we travel by sea and carry a small amount of water with us. If we use it for ablution, we will become thirsty. Can we perform ablution with seawater?’ The Messenger of Allah ﷺ said: Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible, (i.e. the fish found dead in the sea)."
Notes · وضاحت
١ ؎: سمندر کا مردار حلال ہے: اس سے مراد حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مرگئے اور سمندر نے ان کو ساحل پر ڈال دیا، اسی کو آیت أحل لکم صيد البحر وطعامه (سورة المائدة: 96) میں طَعام سے تعبیر کیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ ہے جو خشکی پر زندہ نہ رہ سکے جیسے مچھلی، تو مچھلی تمام اقسام کی حلال ہیں، رہے دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں، اگر کسی جانور کا نص شرعی سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا کھانا مروی ہے، اور وہ ان کے زمانے میں موجود تھا، تو اس کے بارے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔