عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے جواز میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْسِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ.
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah the wife of the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ performed ablution with the water left over after she had taken a bath to cleanse herself from sexual impurity.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٧١، ومصباح الزجاجة: ١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دونوں کی متابعت موجود ہے، اس لئے کہ حاکم نے مستدرک ( ١ /١٥٩) میں اس حدیث کو محمد بن بکر سے، اور انہوں نے شعبہ سے، اور شعبہ نے سماک سے روایت کیا ہے، اور شعبہ اپنے مشائخ سے صرف صحیح احادیث ہی روایت کرتے ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری ( ١ /٣٠٠)، نیز محمد بن بکر نے شریک کی متابعت کی ہے۔