ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کرلیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔
It was narrated that Ibn Firasi said: "I was fishing and I had a vessel with me in which I kept water, and I used seawater for ablution. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٩) (صحیح) (مسلم بن مخشی نے فراسی سے نہیں سنا، ابن الفراسی سے سنا ہے، اور ابن الفراسی صحابی نہیں ہیں، اور دراصل یہ حدیث ابن الفراسی نے اپنے باب فراسی سے روایت کی ہے، جو لگتا ہے کہ اس طریق سے ساقط ہوگئے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was asked about seawater, and he said: "Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٠) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی جابر ؓ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑگئی، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.
ربیع بنت معوذ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ڈالو ١ ؎، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔
. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.……..… Some lines missing…… and he said: Pour it: so I poured it and he washed his face and forearms, then he took fresh water and wiped his head, front and back, and then he washed his feet. He washed each part three times."
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٢٧)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٥ (٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٤ (٧١٧) (حسن) (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے مَائً جَدِيداً کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١١٧ - ١٢٢ )
رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی لونڈی ام عیاش ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔
Umm Ayyash, the slave woman of Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah, said: "I used to help the Messenger of Allah ﷺ perform ablution, when I was standing and he was sitting."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٢) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الکریم بن روح ضعیف، اور روح بن عنبسہ مجہول راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ١ ؎۔
Saeed bin Musayyab and Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that Abu Hurairah (RA) used to say: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night.”
Notes · وضاحت
١ ؎: دن کو سو کر اٹھے جب بھی یہی حکم ہے کہ دھوئے بغیر ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، اور یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی ہاتھ دھلنا فرض نہیں ہے، بلکہ اچھا اور مستحب ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے ۔
It was narrated from Salim from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has washed it."
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you gets up from sleep and wants to perform ablution, he should not put his hand into the vessel he used for ablution until he has washed it, because he does not know where his hand spent the night or where he put it.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٦٤) (منکر) (اس حدیث میںولا على ما وضعها کا لفظ منکر ہے، اور صحیح مسلم میں یہ حدیث اس کے بغیر موجود ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٩٣ )
حارث کہتے ہیں کہ علی ؓ نے پانی منگایا اور برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Harith said: " Ali called for water, and he washed his hands before putting them in the vessel, then he said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٢ ، ومصباح الزجاجة: ١٦٥ ) (صحیح) سند میں حارث ضعیف ہے، اور ابواسحاق ثقہ لیکن مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٩٤، ٩٧، ١٠٠، ١٠١، ١٠٦، ١٠٩، ١١١ )
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وضو سے پہلے بسم اللہ نہ کہے اس کا وضو نہیں ۔
. It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before doing it).
سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
. It was narrated that Abu Saeed bin Zaid said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it)."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٢٠ (٢٥)، دون قو لہ: ” لا صلاة لمن لا وضوء لہ “ (تحفة الأشراف: ٤٤٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، مسند احمد (٤/٧٠، ٥/٣٨١، ٦/٣٨٢) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
It was narrated that Abu-Hurairahh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٤١٨) (حسن )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جو وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو نبی اکرم ﷺ پہ درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو انصار سے محبت نہ کرے ١ ؎۔
. It was narrated by Abdul- Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidi, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: "There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it). There is no prayer for one who does not send blessing, (SaIat) upon the Prophet, and there is no prayer for one who does not love the Ansar."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٨) (منکر) (سند میں عبدالمہیمن ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور منکر ہے، پہلا ٹکڑا شواہد کی بناء پر ثابت ہے، لیکن دوسرا ٹکڑا: لا صلاة لمن لا يصلي ۔۔۔ الخ منکر ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٦٦ ، ٤٨٠٦ )
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب طہارت (وضو و غسل) کرتے اور جب کنگھا کرتے، اور جب جوتے پہنتے تو دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔
. It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ liked to start on the right when purifying himself, when combing his hair and when putting on his footwear.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم وضو کرو تو داہنے اعضاء سے شروع کرو ١ ؎۔
. It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you perform ablution, start on the right."
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ وضو میں پہلے داہنا ہاتھ دھوئے، اور جوتا پہلے داہنے پاؤں میں پہنے، اسی طرح کنگھی پہلے سر کے داہنی طرف کرے پھر بائیں طرف، یہی مسنون ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی یہی عادت مبارکہ تھی۔
اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٤١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٤) (صحیح )
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور ایک ہی چلو سے تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and he rinsed his mouth three times, and sniffed water up into his nose three times, from one handful.
عبداللہ بن زید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے وضو کے لیے پانی مانگا، ہم نے پانی حاضر کیا تو آپ ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Zaid Al-Ansari (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came to us and asked us for water for ablution. I brought water to him and he rinsed his mouth and sniffed water up into his nostrils from one handful."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی چلو سے کلی بھی کرتے تھے اور ناک میں پانی بھی چڑھاتے تھے، بعض روایتوں سے دونوں کے لئے الگ الگ پانی لینے کا ثبوت ملتا ہے، اس سلسلہ میں دونوں طرح کی روایات آتی ہیں، لیکن ایک چلو میں دونوں کو جمع کرنے کی روایات تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور صحیح بھی ہیں۔
سلمہ بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے استعمال کرو ۔
It was narrated that Salamah bin Qais said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me: When you perform ablution, clean your nose, and when you use pebbles, to clean yourself after defecating, use an odd number."