پاکی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 2 · 298 hadiths · Page 7 of 15

387Sunan Ibne-Majah

سمندری پانی سے وضو کرنا

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَصِيدُ، وَكَانَتْ لِي قِرْبَةٌ أَجْعَلُ فِيهَا مَاءً، وَإِنِّي تَوَضَّأْتُ بِمَاءِ الْبَحْرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَهُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.

ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کرلیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔

It was narrated that Ibn Firasi said: "I was fishing and I had a vessel with me in which I kept water, and I used seawater for ablution. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible:"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٩) (صحیح) (مسلم بن مخشی نے فراسی سے نہیں سنا، ابن الفراسی سے سنا ہے، اور ابن الفراسی صحابی نہیں ہیں، اور دراصل یہ حدیث ابن الفراسی نے اپنے باب فراسی سے روایت کی ہے، جو لگتا ہے کہ اس طریق سے ساقط ہوگئے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
388Sunan Ibne-Majah

سمندری پانی سے وضو کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهَسْتَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was asked about seawater, and he said: "Its water is a means of purification, and its dead meat is permissible."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٠) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی جابر ؓ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
389Sunan Ibne-Majah

وضو میں کسی سے مدد طلب کرنا اور اس کا پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑگئی، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔

. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧ (٣٦٣)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ٦٦ (٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٥٩ (١٤٩)، موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤١)، حم ٤/٢٥٥، سنن الدارمی/الطہارة ٤١ (٧٤٠) (صحیح) (یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٥٤٥ )
390Sunan Ibne-Majah

وضو میں کسی سے مدد طلب کرنا اور اس کا پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ: اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.

ربیع بنت معوذ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ڈالو ١ ؎، میں نے پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔

. It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Prophet ﷺ went out to relieve himself and when he came back, I met him with a water skin and poured water for him. He washed his hands and his face, then he Went to wash his forearms but his garment was too tight, so he brought his arms out from underneath his garment and washed them, then he wiped over his leather socks, then he led us in prayer.……..… Some lines missing…… and he said: Pour it: so I poured it and he washed his face and forearms, then he took fresh water and wiped his head, front and back, and then he washed his feet. He washed each part three times."

Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٢٧)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٥ (٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٤ (٧١٧) (حسن) (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے مَائً جَدِيداً کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١١٧ - ١٢٢ )
391Sunan Ibne-Majah

وضو میں کسی سے مدد طلب کرنا اور اس کا پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ١ ؎۔

. It was narrated that Safwan bin Assai said: "I poured water for the Prophet ﷺ on journeys and as a resident, when he performed ablution."

Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کرانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی ڈالتے اور آپ ﷺ وضو کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٦، ومصباح الزجاجة: ١٦١) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ولید بن عقبہ مجہول راوی ہیں )
392Sunan Ibne-Majah

وضو میں کسی سے مدد طلب کرنا اور اس کا پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ أُمِّ عَيَّاشٍ، وَكَانَتْ أَمَةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كُنْتُ أُوَضِئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمَةٌ وَهُوَ قَاعِدٌ.

رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی لونڈی ام عیاش ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔

Umm Ayyash, the slave woman of Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah, said: "I used to help the Messenger of Allah ﷺ perform ablution, when I was standing and he was sitting."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٢) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الکریم بن روح ضعیف، اور روح بن عنبسہ مجہول راوی ہیں )
393Sunan Ibne-Majah

جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ رات کو ہاتھ کہاں لگا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ١ ؎۔

Saeed bin Musayyab and Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that Abu Hurairah (RA) used to say: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night.”

Notes · وضاحت
١ ؎: دن کو سو کر اٹھے جب بھی یہی حکم ہے کہ دھوئے بغیر ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، اور یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی ہاتھ دھلنا فرض نہیں ہے، بلکہ اچھا اور مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ١٩ (٢٤)، سنن النسائی/الغسل ٢٩ (٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٢٦ (١٦٢) ولیس عندہ ذکر العدد، صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٢٧٨)، سنن ابی داود/الطہارة ٤٩ (١٠٣)، موطا امام مالک/الطہارة ٢ (٩)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٣، سنن الدارمی/الطہارة ٧٨ (٧٩٣) (صحیح )
394Sunan Ibne-Majah

جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ رات کو ہاتھ کہاں لگا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنِ عُقَيْلٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے ۔

It was narrated from Salim from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has washed it."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٦٨٩٤، ومصباح الزجاجة: ١٦٣) (صحیح )
395Sunan Ibne-Majah

جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ رات کو ہاتھ کہاں لگا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ، وَلَا عَلَى مَا وَضَعَهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you gets up from sleep and wants to perform ablution, he should not put his hand into the vessel he used for ablution until he has washed it, because he does not know where his hand spent the night or where he put it.’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٦٤) (منکر) (اس حدیث میںولا على ما وضعها کا لفظ منکر ہے، اور صحیح مسلم میں یہ حدیث اس کے بغیر موجود ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٩٣ )
396Sunan Ibne-Majah

جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ رات کو ہاتھ کہاں لگا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: دَعَا عَلِيٌّبِمَاءٍفَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ.

حارث کہتے ہیں کہ علی ؓ نے پانی منگایا اور برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Harith said: " Ali called for water, and he washed his hands before putting them in the vessel, then he said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٢ ، ومصباح الزجاجة: ١٦٥ ) (صحیح) سند میں حارث ضعیف ہے، اور ابواسحاق ثقہ لیکن مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٩٤، ٩٧، ١٠٠، ١٠١، ١٠٦، ١٠٩، ١١١ )
397Sunan Ibne-Majah

وضو میں بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِى سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ.

ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وضو سے پہلے بسم اللہ نہ کہے اس کا وضو نہیں ۔

. It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before doing it).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٢٨، ومصباح الزجاجة: ٦٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٢٥ (٧١٨) (حسن) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨١ )
398Sunan Ibne-Majah

وضو میں بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ثِفَالٍ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّتَهُ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، تَذْكُرُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ.

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔

. It was narrated that Abu Saeed bin Zaid said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it)."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٢٠ (٢٥)، دون قو لہ: ” لا صلاة لمن لا وضوء لہ “ (تحفة الأشراف: ٤٤٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، مسند احمد (٤/٧٠، ٥/٣٨١، ٦/٣٨٢) (حسن )
399Sunan Ibne-Majah

وضو میں بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔

It was narrated that Abu-Hurairahh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٨ (١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٤١٨) (حسن )
400Sunan Ibne-Majah

وضو میں بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُحِب الْأَنْصَارَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَرْحُومٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جو وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو نبی اکرم ﷺ پہ درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو انصار سے محبت نہ کرے ١ ؎۔

. It was narrated by Abdul- Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidi, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: "There is no prayer for one who does not have ablution, and there is no ablution for one who does not mention the Name of Allah (before it). There is no prayer for one who does not send blessing, (SaIat) upon the Prophet, and there is no prayer for one who does not love the Ansar."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٦٨) (منکر) (سند میں عبدالمہیمن ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور منکر ہے، پہلا ٹکڑا شواہد کی بناء پر ثابت ہے، لیکن دوسرا ٹکڑا: لا صلاة لمن لا يصلي ۔۔۔ الخ منکر ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٦٦ ، ٤٨٠٦ ) اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
401Sunan Ibne-Majah

وضو میں دائیں کا خیال رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَاعُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي الطُّهُورِ إِذَا تَطَهَّرَ، وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ، وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب طہارت (وضو و غسل) کرتے اور جب کنگھا کرتے، اور جب جوتے پہنتے تو دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔

. It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ liked to start on the right when purifying himself, when combing his hair and when putting on his footwear.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٨)، الصلاة ٤٧ (٤٢٦)، الأطعمة (٥٣٨٠)، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨)، سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٤٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣١١ (٦٠٨)، سنن النسائی/الطہارة ٩٠ (١١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٤، ١٣٠، ١٤٧، ١٨٨، ٢٠٢، ٢١٠) (صحیح )
402Sunan Ibne-Majah

وضو میں دائیں کا خیال رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَة: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ نُفَيْل وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم وضو کرو تو داہنے اعضاء سے شروع کرو ١ ؎۔

. It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you perform ablution, start on the right."

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ وضو میں پہلے داہنا ہاتھ دھوئے، اور جوتا پہلے داہنے پاؤں میں پہنے، اسی طرح کنگھی پہلے سر کے داہنی طرف کرے پھر بائیں طرف، یہی مسنون ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی یہی عادت مبارکہ تھی۔ اس سند سے بھی اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٤ (٤١٤١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٤) (صحیح )
403Sunan Ibne-Majah

ایک چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی چڑھایا۔

. It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ rinsed his mouth and sniffed water up into his nostrils from one scoop of water.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطہارة ٧ (١٤٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٨ (٣٦)، سنن النسائی/الطہارة ٨٥ (١٠٢)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٢ (١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٨، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٩ (٧٢٤) (صحیح )
404Sunan Ibne-Majah

ایک چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور ایک ہی چلو سے تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and he rinsed his mouth three times, and sniffed water up into his nose three times, from one handful.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٦٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١١١)، سنن الترمذی/الطہارة ٣٧ (٤٨)، سنن النسائی/الطہارة ٧٤ (٩١)، ٧٥ (٩٢)، ٧٦ (٩٣)، ٧٧ (٩٤)، مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح )
405Sunan Ibne-Majah

ایک چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنَا وَضُوءًا؟ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ.

عبداللہ بن زید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے وضو کے لیے پانی مانگا، ہم نے پانی حاضر کیا تو آپ ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Zaid Al-Ansari (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came to us and asked us for water for ablution. I brought water to him and he rinsed his mouth and sniffed water up into his nostrils from one handful."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی چلو سے کلی بھی کرتے تھے اور ناک میں پانی بھی چڑھاتے تھے، بعض روایتوں سے دونوں کے لئے الگ الگ پانی لینے کا ثبوت ملتا ہے، اس سلسلہ میں دونوں طرح کی روایات آتی ہیں، لیکن ایک چلو میں دونوں کو جمع کرنے کی روایات تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور صحیح بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٨ (١٨٥)، ٣٩ (١٨٦)، ٤١ (١٩١)، ٤٢ (١٩٢)، ٤٥ (١٩٧)، ٤٦ (١٩٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٧ (٢٣٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٤ (٣٢)، ٣٦ (٤٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٤٧ (١٠٠)، ٥٠ (١١٨)، سنن النسائی/الطہارة ٨٠ (٩٧)، ٨١ (٩٨)، ٨٢ (٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١ (١)، مسند احمد (٤/٣٨، ٣٩، ٤٠، ٤٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٧ (٧٢١) (صحیح )
406Sunan Ibne-Majah

خوب اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا اور ناک صاف کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْثُرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ.

سلمہ بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے استعمال کرو ۔

It was narrated that Salamah bin Qais said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me: When you perform ablution, clean your nose, and when you use pebbles, to clean yourself after defecating, use an odd number."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٢١ (٢٧)، سنن النسائی/الطہارة ٣٩ (٤٣)، ٧٢ (٨٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٣، ٣٣٩) (صحیح )