پاکی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 2 · 298 hadiths · Page 8 of 15

407Sunan Ibne-Majah

خوب اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا اور ناک صاف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا.

لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے! آپ ﷺ نے فرمایا: تم مکمل طور پر وضو کرو، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، الا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔

It was narrated from Asim bin Laqit bin Sabrah that his father said: "I said: O Messenger of Allah! ﷺ Tell me about ablution: He said: Perform ablution properly and sniff water up into your nostrils thoroughly, unless you are fasting."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٥ (١٤٢)، الصوم ٢٧ (٢٣٦٦)، سنن الترمذی/الطہارة ٣٠ (٣٨)، الصوم ٦٩ (٧٨٨)، سنن النسائی/الطہارة ٧١ (٨٧)، ٩٢ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٢)، وأخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٣٤ (٧٣٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٤٨ )
408Sunan Ibne-Majah

خوب اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا اور ناک صاف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ الْمُرِّيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بار یا تین بار اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Sniff up water into the nostrils thoroughly, two or three times."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٥ (١٤١)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٨، ٣١٥، ٣٥٢) (صحیح )
409Sunan Ibne-Majah

خوب اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا اور ناک صاف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وضو کرے تو اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑے، اور جب استنجاء کرے تو طاق ڈھیلے استعمال کرے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever performs ablution, let him clean his nose, and whoever uses pebbles to clean himself after defecating, let him use an odd number."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢٥ (١٦١)، صحیح مسلم/الطہارة ٨ (٢٣٧)، سنن النسائی/الطہارة ٧٢ (٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہار ة ١ (٣)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٧، ٤٠١)، سنن الدارمی/الطہارة ٣٢ (٧٣٠) (صحیح )
410Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء کا ایک ایک بار دھونا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ الثُّمَالِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثْتَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: نَعَمْ.

ثابت بن ابوصفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر سے پوچھا: کیا آپ کو جابر بن عبداللہ ؓ سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو میں اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، کہا: ہاں، میں نے کہا: اور دو دو بار اور تین تین بار؟ کہا: ہاں۔

. It was narrated that Thabit bin Abi Safiyyah Ath-Thumali said: "I asked Abu Jafar: ‘Was it narrated to you from Jabir bin Abdullah that the Prophet ﷺ performed ablution washing each part once? He said: Yes. I said: And each part twice and each part thrice? He said: Yes."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٣٥ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٢) (ضعیف) (سند میں ثابت بن ابی صفیہ ضعیف اور رافضی ہے اس لئے یہ ضعیف ہے، اور شریک القاضی سیٔ الحفظ، لیکن اصل متن شواہد کی بناء پر ثابت ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٤٢٢ )
411Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء کا ایک ایک بار دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ غُرْفَةً غُرْفَةً.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک چلو سے دھویا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution, taking one handful (of water) at a time."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢٢ (١٥٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٣ (١٣٨)، سنن الترمذی/الطہارة ٣٢ (٤٢)، سنن النسائی/الطہارة ٦٤ (٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٣٣٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٢٩ (٧٢٤) (صحیح )
412Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء کا ایک ایک بار دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔

. It was narrated that Umar said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ during the campaign of Tabuk performing ablution, washing each part once."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٣ (٤٢ تعلیقاً )، (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شاید کی بناء پر یہ حدیث قوی ہے )
413Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْشَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا يَتَوَضَّآَنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَيَقُولَانِ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَاهُ أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان اور علی ؓ کو دیکھا کہ وہ اعضاء وضو کو تین تین بار دھوتے تھے، اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی تھا۔

. It was narrated that Shaqiq bin Salamah said: "I saw Uthman and Ali performing ablution, washing each part three times, and they said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١١٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٣٤ (٤٤) (صحیح ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
414Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور اس کو نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کیا ١ ؎۔

. It was narrated that Ibn "Umar performed ablution washing each part three times, and he attributed that to the Prophet.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے، ان متعدد احادیث سے ثابت ہوا کہ شریعت نے آسانی کے لئے تین تین بار، دو دو بار، اور ایک ایک بار اعضاء وضو کو دھونا سب مشروع رکھا ہے جس طرح آسان ہو کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٦٥ (٨١)، (تحفة الأشراف: ٧٤٥٨) (صحیح) (سند میں ولید اور مطلب کثیر التدلیس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
415Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.

ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔

. It was narrated from Aisha (RA) and Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ did ablution washing each part three times.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣٢، ١٧٦٧٠) (صحیح) (سند میں خالد بن حیان ہیں، جو روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
416Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ فَائِدِ أَبِى الْوَرْقَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح ایک بار کیا۔

. It was narrated that Abdullah bin Abi Awfa said. "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution, washing each part three times, and wiprng his head once."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٥١٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٧١) (صحیح) (اس حدیث میں فائد بن عبد الرحمن متروک و منکر الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٠٠ )
417Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.

ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعضاء وضو کو تین تین بار دھوتے تھے۔

It was narrated that Abu Malik Ash ari said. "The Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution washing each part three times."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٩) (صحیح) (اس حدیث کے راوی لیث بن أبی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: احادیث باب ہذا )
418Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء تین بار دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.

ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔

It was narrated from Rabi bint Muawwidh bin AIra that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution washing each part three times.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٤٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٢٦)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٥ (٣٣)، مسند احمد (٦/٣٥٩) (حسن صحیح )
419Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء ایک بار، دو بار اور تین بار دھونا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً، فَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً إِلَّا بِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ، فَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ الْقَدْرِ مِنَ الْوُضُوءِ، وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَقَالَ: هَذَا أَسْبَغُ الْوُضُوءِ، وَهُوَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے ، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا ، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو ۔

It was narrated that Ibn Umar said. "The Messenger of Allah ﷺ performed ablution washing each part once. He said: This is the ablution of the person from whom Allah will not accept his prayer without it. Then he performed ablution washing each part twice, and he said. This is the ablution that Allah appreciates. Then he performed ablution washing each part three times, and said. This is how ablution is performed properly, and this is my ablution and the ablution of the Close Friend of Allah, Ibrahim. Whoever performs ablution like this, then on completing it says. Ashhadu an ld ittiho illalldh, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and his Messenger), eight gates of Paradise will be opened to him and he may enter through whichever one he wants.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٠، ومصباح الزجاجة: ١٧٣) (ضعیف جدًا) (سند میں عبدالرحیم متروک ہے، ابن معین نے ” کذاب خبیث “ کہا ہے، نیز اس میں زید العمی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٣٥ ، والإرواء: ٨٥ )
420Sunan Ibne-Majah

وضو میں اعضاء ایک بار، دو بار اور تین بار دھونا

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ: هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِأَوْ قَالَ: وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ، لَمْ يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً، ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ، أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، فَقَالَ: هَذَا وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي.

ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے ، یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر آپ ﷺ نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا ، پھر آپ ﷺ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے ۔

It was narrated from Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah ﷺ called for water and performed ablution washing each part once. He said: "This is the minimum requirement of ablution or he said: The ablution of one who, if he does not perform this ablution, Allah will not accept his prayer." Then he performed ablution washing each part twice, and he said: This is the ablution of one who, if he performs it, Allah will give him two shares of reward." Then he performed ablution washing each part three times, and said: This is my ablution and the ablution of the Messengers who were sent before me."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٧٤) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن عرادة اور زید الحواری ” العمی “ دونوں ضعیف ہیں )
421Sunan Ibne-Majah

وضو میں میانہ روی اختیار کرنے اور حد سے بڑھنے کی کراہت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: وَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو ۔

. It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is a devil for ablution who is called Walahan, so be on guard against the insinuating thoughts (Waswas) about water.”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٤٣ (٥٧)، (تحفة الأشراف: ٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٦) (ضعیف جدًا) (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے، اور کذابین سے تدلیس کرتا ہے )
422Sunan Ibne-Majah

وضو میں میانہ روی اختیار کرنے اور حد سے بڑھنے کی کراہت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ، أَوْ تَعَدَّى، أَوْ ظَلَمَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا، آپ ﷺ نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا، پھر فرمایا: یہی (مکمل) وضو ہے، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا، یا حد سے تجاوز کیا، یا ظلم کیا ۔

. It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that a Bedouin came to the Prophet ﷺ and asked him about ablution. He showed him how to perform it washing each part of the body three times. Then he said: This is ablution, and whoever does more than this, has done evil, transgressed the limits and wronged himself.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥١ (١٣٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٤ (١٤٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠) (حسن صحیح )
423Sunan Ibne-Majah

وضو میں میانہ روی اختیار کرنے اور حد سے بڑھنے کی کراہت

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا، يَقُولُ سَمِعْتُابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم ﷺ رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم ﷺ نے کیا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Amr heard Kuraib saying: "I heard Ibn Abbas say: I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah, and the Prophet ﷺ got up and performed ablution from an old water skin, and he did a brief ablution. Then I got up and did the same as he had done."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥ (١٣٨)، والأذان ١٦١ (٧٢٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٧ (٢٣٢)، سنن النسائی/ الغسل ٢٩ (٤٤٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٤٤، ٢٨٣، ٣٣٠) (صحیح )
424Sunan Ibne-Majah

وضو میں میانہ روی اختیار کرنے اور حد سے بڑھنے کی کراہت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: لَا تُسْرِفْ، لَا تُسْرِفْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اسراف (فضول خرچی) نہ کرو، اسراف (فضول خرچی) نہ کرو ۔

. It is narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ saw a man performing ablution, and he said: Do not be extravagant, do not be extravagant (in using water)."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٩٠) (موضوع) (اس میں بقیہ مدلس، محمد بن الفضل کذاب اور فضل بن عطیہ ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٨٢ )
425Sunan Ibne-Majah

وضو میں میانہ روی اختیار کرنے اور حد سے بڑھنے کی کراہت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: مَا هَذَا السَّرَفُ؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سعد ؓ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟ ، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو ١ ؎۔

. It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ passed by Sad when he was performing ablution, and he said: What is this extravagance? He said: Can there be any extravagance in ablution? He said: Yes, even if you are on the bank of a flowing river.

Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے وضو میں بھی فضول خرچی منع ہے، آج کل بلاوجہ پانی زیادہ بہانے کا رواج ہوگیا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کا خاص خیال رکھیں، اور بلا ضرورت پانی نہ بہائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢١) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ١١٠ ، سند میں ابن لہیعہ ضعیف، اور حیی بن عبداللہ صاحب وھم راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الارواء: ١٤٠ ، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٢٩٢ ، وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٨٢ )
426Sunan Ibne-Majah

خوب اچھی طرح وضو کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ.

ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کامل وضو کا حکم دیا ١ ؎۔

. It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform ablution properly.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اسباغ الوضوء کے معنی ہیں، ہر اس عضو تک جس کا دھونا وضو میں ضروری ہے، پوری طرح احتیاط کے ساتھ پانی پہنچانا، تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٨)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٦ (١٤١)، الخیل ٩ (٣٦١١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٢٢٥، ٢٣٢، ٢٣٤، ٢٤٩، ٢٥٥) (صحیح )