ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ ، صحابہ کرام ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا ١ ؎، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ٢ ؎، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
It was narrated from Abu Saeed Khudri that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Shall I not tell you of something by means of which Allah expiates for sins and increases good deeds?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Perform ablution properly despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the Masjid and waiting for the next prayer after prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سخت سردی اور بیماری کے باوجود (جس میں پانی کا استعمال سخت ناپسندیدہ کام ہوتا ہے)، مکمل وضو کرنا۔ ٢ ؎: یہ مسجد سے گھر دور ہونے کی صورت میں حاصل ہوگا، اسی طرح اس سے مراد بار بار مسجد جانا بھی ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٦، ومصباح الزجاجة: ١٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ٣٩ (٥١)، مسند احمد (٣/٣، ١٦، ٩٥)، دي الطہارة ٣٠ (٧٢٥) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غلطیوں کے کفارے یہ ہیں: اس وقت کامل وضو کرنا جب دل نہ چاہتا ہو، اور مسجدوں کی طرف (چلنے کے لیے) پاؤں کام میں لانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said. "Sins are expiated by well performed ablution despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the Masjid, (and waiting for the next prayer after prayer)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨١٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٤ (٢٥١) أتم منہ، سنن الترمذی/الطہارة ٣٩ (٥١)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٧ (١٤٣)، مسند احمد (٢/٢٧٧، ٢/٣٠٣) (صحیح )
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated Ammar bin Yasir said: I saw the Messenger of Allah ﷺ running his fingers through his beard. (Da`if)
Notes · وضاحت
١ ؎: داڑھی کے بالوں کا خلال مستحبات وضو میں سے ہے، جن کی داڑھی گھنی ہو انہیں اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، اسی طرح انگلیوں کے خلال کا بھی خیال رکھنا چاہیے، اگر یہ احساس ہو کہ پانی نہیں پہنچا ہوگا تو ضروری ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی داڑھی میں دو بار خلال کرتے، اور اپنی انگلیوں میں بھی دو بار خلال کرتے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said. "When the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, he ran his fingers through his beard and separated his fingers (to let water run through them) twice."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٧٧) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن کثیر اور یزید بن أبان الرقاشی دونوں ضعیف ہیں، لیکن یہ حدیث مرتين کے لفظ کے بغیر صحیح ہے، سنن أبی داود: ١٤٥ ، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن ماجہ: ٣٥١ ، و الإرواء: ٣٥١ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو اپنے گال کے دونوں طرف کچھ ملتے، پھر اپنی داڑھی میں انگلیوں کو نیچے سے داخل کر کے خلال کرتے۔
It was narrated that Ibn Umar said. "Whenever the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, he rubbed the sides of his face then run his fingers through his beard from beneath."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٧٨) (ضعیف) (اس میں عبد الواحد بن قیس مختلف فیہ راوی ہیں، نیزملا حظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٢٢ )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔
It was narrated that Abu Ayyub Al-Ansari said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution and he ran his fingers through his beard." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٩٧، ومصباح الزجاجة: ١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٤١٧) (صحیح) (واصل الرقاشی اور أبو سورة دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، کما تقدم )
یحییٰ بن عمارہ بن ابی حسن مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نانا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری مازنی ؓ سے کہا: آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید ؓ نے کہا: ہاں، اور وضو کا پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا، اور دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح اس طرح کیا کہ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھے، اور ان کو پیچھے کو لے گئے یعنی سر کے اگلے حصے سے شروع کیا، اور دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے گئے پھر اسی جگہ پر واپس لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔
Amr bin Yahya narrated that his father said to Abdullah bin Zaid (RA) who was the grandfather of Arm bin Yahya: "Can you show me how the Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution? Abdullah binZaid said: "Yes." So he called for water, poured it over his hands and washed his hands twice. Then he rinsed his mouth and sniffed water up into his nostrils three times. Then he washed his face three times and his arms up to the elbows twice. Then he wiped his head with his hands, from front to back. He started at the front of his head, then went with them to the nape of his neck, then he brought them back, returning them to the place he started, then he washed his feet."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٩ (١٨٥)، ٤٥ (١٨٦)، ٤٢ (١٩١)، ٤٣ (١٩٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٧ (٢٣٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١١٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٤ (٣٢)، ٣٦، (٤٧) سنن النسائی/الطہارة ٨٠ (٩٨)، ٨١ (٩٨)، ٨٢ (٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١ (١)، مسند احمد (٤/٣٨، ٣٩)، دی/الطہارة ٢٧ (٧٢١)، وقد مضی برقم: (٤٠٥) (صحیح) (عمرو بن یحییٰ بن عمارة بن ابی حسن انصاری مازنی مدنی عبد اللہ زید بن عاصم انصاری ؓ کے نواسہ ہیں، اور ان کے دادا ابو حسن تمیم بن عمرو صحابی رسول ہیں، ملاحظہ ہو: تہذہیب الکمال: ٢٢ /٢٩٦ )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح ایک بار کیا۔
It was narrated that Salamah bin Akwa said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution, and he wiped his head once." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٨٠) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن راشد اور محمد بن الحارث دونوں ضعیف ہیں، لیکن سابقہ متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)۔
ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دو بار کیا ١ ؎۔
It was narrated that Ar-Rubai bint Muawwidh bin Afra’ said: "The Messenger of Allah ﷺ performed ablution and wiped his head twice."
Notes · وضاحت
١ ؎: دو بار سے مراد آگے سے پیچھے لے جانا، اور پیچھے سے آگے لانا ہے، فی الواقع یہ ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر مرتین (دو بار) سے کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٢٦)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٥ (٣٣)، مسند احمد (٦/٣٦٠) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں کان کے اندرونی حصے کا مسح شہادت کی انگلیوں سے کیا، اور ان کے مقابل اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اوپری حصے پر پھیرا، اس طرح کان کے اندرونی اور اوپری دونوں حصوں کا مسح کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ wiped his ears, puttinghis forefingers in his ears and wiping the back of them with his thumbs, so he wiped them inside and out. (Sahih)
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں آپ ﷺ اپنے سر کا مسح ایک بار کرتے تھے، اور گوشہ چشم پر بھی انگلی پھیرتے تھے۔
. It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The ears are part of the head," He used to wipe his head once, and he used to wipe over the inner comers of the eyes (that are close to the nose).
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١٣٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٩ (٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٨، ٢٦٤، ٢٦٨) (حسن) (اس سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، اور ان کی اس روایت میں وكان يمسح رأسه کا لفظ ضعیف ہے، بقیہ حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The ears are part of the head. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سر کے مسح کے پانی سے کان کا مسح بھی کیا جائے گا کیونکہ کان بھی سر ہی کا ایک حصہ ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان کے لئے نیا پانی لینا بھی مشروع ہے لیکن علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں ثابت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے کانوں کے لئے نیا پانی لینا ثابت نہیں، البتہ ابن عمر ؓ کے عمل سے ثابت ہے، علامہ عبدالرحمن مبارکپوری تحفۃ الاحوذی میں کہتے ہیں: میرے علم میں کوئی ایسی صحیح مرفوع روایت نہیں جس میں یہ بیان ہو کہ آپ ﷺ نے کانوں کے لئے نیا پانی لیا ہو، ہاں ابن عمر ؓ سے ایسا کرنا ثابت ہے، امام مالک نے موطا میں نافع کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ ابن عمر ؓ اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے کانوں کے لئے نیا پانی لیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٨٢) (حسن) (اس سند میں عمرو بن الحصین اور محمد بن عبد اللہ بن علاثہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، کما تقدم )
مستورد بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے وضو کیا تو اپنی سب سے چھوٹی انگلی سے اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کیا ١ ؎۔
. It was narrated that Mustawrid bin Shaddad said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution, and he ran his little finger between his toes."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پیروں کی انگلیوں کے درمیان خلال مسنون ہے، انگلیوں کے خلال کا طریقہ یہ ہے کہ دو انگلیوں کے درمیان انگلی اس طرح داخل کرے کہ دونوں انگلیوں کا درمیانی حصہ پوری طرح تر ہوجائے۔
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔