عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح ہر عضو تک پانی پہنچا کر وضو کرو، اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پانی پہنچاؤ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you get up for prayer, perform ablution properly and make the water run between your toes and your fingers.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٨٥، ومصباح الزجاجة: ١٨٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٣٠ (٣٩)، إلا قو لہ: اذا قمت الی الصلاة فاسبغ الوضوء مسند احمد (١/٢٨٧، ٣/٤٨١) (حسن صحیح )
لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
Asim bin Laqit bin Sabirah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: perform ablution properly and let the water run between your fingers." (Sahih)
ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی انگوٹھی ہلاتے ١ ؎۔
Ubaidulhlh bin Abu Rafi narrated from his father that whenever the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, he moved his ring.
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو اور غسل وغیرہ میں انگوٹھی، چھلہ وغیرہ کو گھما لینا چاہیے تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٣، ومصباح الزجاجة: ١٨٤) (ضعیف) (سند میں معمر اور ان کے والد محمد بن عبید اللہ دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن وضو میں انگلی کی انگوٹھی کو حرکت دینا آثار صحابہ و تابعین سے ثابت ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، ان کی ایڑیاں سوکھی ظاہر ہو رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایڑیوں کو دھلنے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے، وضو میں اچھی طرح ہر عضو تک پانی پہنچا کر وضو کرو ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some people performing ablution, and their heels were dry, He said: Woe to the heels because of Hell-fire, perform ablution properly!"
Notes · وضاحت
١ ؎: عراقیب: عرقوب کی جمع ہے، اور وہ موٹی رگ ہے جو ایڑی کے اور پاؤں کے پیچھے ہے، یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے (اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: وضو مکمل کیا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
It was narrated that Abu Salamah said: " Aisha (RA) saw Abd ur-Rahman performing ablution, and she said: Perform ablution properly, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Woe to the Achilles tendon because of Hell-fire.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢١)، صحیح مسلم/الطہارة ٩ (٢٤٠)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Woe to the Achilles tendon because of Hell-fire.
Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجۃ (ط۔ مصریہ) اور (ط۔ عوض الشہری) میں للأعقاب ہے، ایسے ہی حیدر آباد آصفیہ کے مصباح الزجاجۃ کے نسخہ میں ہے، فؤاد عبد الباقی، مشہور حسن اور اعظمی کے نسخہ میں للعراقيب ہے، دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٦، ومصباح الزجاجة: ١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٩، ٣٩٣) (صحیح) (اصل حدیث صحیحین میں عبد اللہ بن عمرو سے اور صحیح مسلم میں أبوہریرہ و ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے )
خالد بن ولید، یزید بن ابوسفیان، شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا وضو مکمل کیا کرو، ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
It was narrated from Khalid bin Walid, Yazid bin Abu Sufyan (RA) , ShurahbiI bin Hasanah and Amr bin As that they all heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Complete the ablution, Woe to the heels because of Hell-fire."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٥، ٣٥١٠، ومصباح الزجاجة: ٤٨٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/٢/٢٠٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٣٤ (٧٣٣) (صحیح) (بوصیری نے اسناد کی تحسین کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ و عبداللہ بن عمرو سے، اور صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ ؓ سے أسبغوا الوضوء کے لفظ سے مروی ہے۔
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کہنے لگے: میرا مقصد یہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی اکرم ﷺ کا وضو دکھلا دوں۔
It was narrated that Abu Haiyah said: "I saw Ali performing ablution and he washed his feet up to the ankles, then he said: I wanted to show you how your Prophet ﷺ purified himself."
ربیع ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس ؓ آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس ؓ نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ١ ؎۔
. It was narrated that Rubai said "Ibn Abbas came to me and asked me about this Hadith" meaning the Hadith, that she had narrated, saying that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and washed his feel. "Ibn Abbas said: The people are insisting on washing their feet, but I do not find anything in the Quran except (the injunction to) wipe them:"
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ابن عباس ؓ نے کہا سے آخر تک محدثین کرام کے نزدیک منکر ہے، اس لئے اس کی بنیاد پر حدیث کے ضعف پر استدلال درست نہیں، ابن عباس ؓ خود پیر دھونے پر عامل اور اس کے قائل تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٤٤، ومصباح الزجاجة: ١٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٠) (حسن) (اس میں عباس کا اثر منکر ہے، اس کے راوی ابن عقیل کے حافظہ میں ضعف تھا، اور اس ٹکڑے کی روایت میں کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے)۔
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں ۔
It was narrated that Jami bin Shaddad - Abu Sakhrah - said: "I heard Humran telling Abu Burdah in the Masjid that he had heard Uthman bin Affan narrating that the Prophet ﷺ had said: Whoever performs ablution perfectly as Allah has enjoined, then his prescribed prayer will serve as expiation for what is between them.”
رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کسی کی کوئی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ کامل وضو نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے کہ اپنے چہرے کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کرے ١ ؎۔
. Ali bin Yahya bin Khallad narrated, from his father, from his paternal uncle Rifaah bin Raft that he was sitting with the Prophet ﷺ who said: No persons prayer is complete until he performs ablution properly as Allah has commanded him, washing his face, his arms up to the elbows, wiping his head and his feet up to the ankles."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں بھی رجلیہ کا لفظ يديه پر معطوف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ منہ اور ہاتھ اور پاؤں کو دھوئے، اور سر کا مسح کرے۔
حکم بن سفیان ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ١ ؎۔
It was narrated from Hakam bin Sufyan Ath-Thaqafi that he saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution then take a handful of water and sprinkle it over his private area to remove any doubts about urine drippings.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ستر (شرمگاہ) پر پیشاب کا خطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہوجائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی ایک اچھی تدبیر ہے جسے آپ ﷺ نے امت کو سکھایا ہے۔
زید بن حارثہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آگیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہوجائے) ١ ؎۔
Usamah bin Zaid narrated that his father Zaid bin Harithah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Jibril taught me (how to perform) the ablution, and he ordered me to sprinkle water underneath my garment, lest a drop of urine leak out after the ablution.
Notes · وضاحت
١ ؎: غرض یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے پیشاب کا قطرہ رک جائے گا اور نہ نکلے گا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے۔
اس سند سے بھی ابن لہیعہ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦١) (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن وأمرني أن أنضح تحت ثوبي کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٤١ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٨٤١ ، صحیح أبی داود: ١٥٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو (شرمگاہ پر) چھینٹے مار لیا کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you perform ablution, sprinkle water.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٣٨، (٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٤٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حسن بن علی الہاشمی ضعیف ہیں، لیکن نبی اکرم ﷺ کے فعل سے یہ عمل ثابت ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث ( ٤٦٤ ) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣١٢ ، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢ /٥١٩ - ٥٢٠)۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پہ چھینٹ ماری۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ performed ablution and sprinkled his private part."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٩٠) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں قیس بن ربیع اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم ﷺ نے نہانے کا ارادہ کیا، فاطمہ ؓ نے آپ پر پردہ کئے رکھا، پھر آپ ﷺ نے نہا کر اپنا کپڑا لیا، اور اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا ١ ؎۔
. Umm Hani bint Abu Talib narrated that when it was the year of the Conquest (of Makkah), the Messenger of Allah ﷺ got up to perform a bath and Fatimah screened him. Then he took his garment and wrapped himself in it (such that it became like the towel used to dry oneself).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کپڑا بدن کا پانی خشک کرنے کے لئے تو لئے کے طور پر تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠)، الصلاة ٤ (٣٥٧)، الأدب ٩٤ (٦١٥٨)، صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦)، المسافرین ١٣ (٣٣٦)، سنن الترمذی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٧)، مسند احمد (٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣، ٤٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح )
قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر لائے آپ ﷺ نے اسے لپیٹ لیا۔ قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ اس چادر کی وجہ سے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں میں ورس کے جو نشانات پڑگئے تھے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated that Qais bin Sad said: "The Prophet ﷺ came to us and we gave him water to perform a bath." Then we brought him a Warsiyyah cloth, and he wrapped himself in it. It is as if I can see the marks of the Wars on the folds of his stomach."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٦٠٤) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف اور محمد بن شرجیل مجہول ہیں )