پاکی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 2 · 298 hadiths · Page 11 of 15

467Sunan Ibne-Majah

وضو اور غسل کے بعد تولیہ کا استعمال

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَرَدَّهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کرچکے تو میں آپ کے پاس ایک کپڑا لائی، آپ نے اسے واپس لوٹا دیا اور (بدن سے) پانی جھاڑنے لگے ١ ؎۔

Ibn Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: "I brought a piece of cloth (for drying) to the Messenger of Allah ﷺ when he performed a bath to cleanse himself from sexual impurity. He refused it and began to shake off water."

Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے نبی ﷺ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو یا کپڑا صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن صاف کرنے کو پسند نہ کیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٦ (٢٧٤)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٦ (١٠٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٦١ (٢٥٤)، الغسل ٧ (٤٠٨)، ١٤ (٤١٨)، ١٥ (٤١٩)، ٢٢ (٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٧ (٧٧٤) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٥٧٣) (صحیح )
468Sunan Ibne-Majah

وضو اور غسل کے بعد تولیہ کا استعمال

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ، حَدَّثَنَاالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ.

سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنے پہنے ہوئے اون کے جبہ کو الٹ کر اس سے اپنا چہرہ پونچھ لیا ١ ؎۔

It was narrated from Salman Al-Farisi that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, then he turned inside out the woolen garment that he was wearing and wiped his face with it.

Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کے بعد ہاتھ منہ صاف کرنے کے سلسلہ میں ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں لہذا جائز ہے ضروری نہیں، بلکہ زاد المعاد میں ابن القیم نے فرمایا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کی اس باب میں ایک حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک کپڑا تھا جس سے آپ اپنے اعضاء وضو پونچھا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٩، ومصباح الزجاجة: ١٩١) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٣٥٦٤) (حسن )
469Sunan Ibne-Majah

وضو کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ أَبُو سُلَيْمَانَ النَّخَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، بِنَحْوِهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، پھر تین مرتبہ أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اور اس کے رسول ہیں کہا، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever performs ablution and does it well, then says three times: Ashhadu an Id ildha illalldh wahdahu la sharika lah u, wa ashhadu anna Muhammadan ub d uh u wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and His Messenger), eight gates of Paradise will be opened for him; whichever one he wants he may enter."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ١٩٢)، مسند احمد (٣/٢٦٥) (ضعیف) (اس سند میں زید العمی ضعیف ہیں، مگر دیگر صحابہ کرام ؓ سے ثلاث مرات کے بغیر ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٤١ ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
470Sunan Ibne-Majah

وضو کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بھی اچھی طرح سے وضو کرے پھر أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے، اور رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے وہ داخل ہوجائے ۔

It was narrated that Umar bin Khattab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no Muslim who performs ablution and does it well, then says: Ashhadu an Id ildha illalldh, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger), (except that) eight gates of Paradise will be opened for him, and he will enter through whichever one he wants.”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٢٣٤)، سنن ابی داود/الطہارة ٦٥ (١٦٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٤١ (٥٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٨ (١٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٤٣ (٧٤٣) (صحیح )
471Sunan Ibne-Majah

پیتل کے برتن میں وضو کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمَاجِشُونِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ.

صحابی رسول عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے پیتل کے ایک چھوٹے برتن میں پانی حاضر کیا جس سے آپ نے وضو کیا۔

. It was narrated that Abdullah bin Zaid, the Companion of the Prophet ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ came to us, and we brought water out to him in a vessel of brass, and he performed ablution with it."

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٤) (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨) (صحیح )
472Sunan Ibne-Majah

پیتل کے برتن میں وضو کرنا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا مِخْضَبٌ مِنْ صُفْرٍ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ.

ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس پیتل کی ایک تھال تھی جس میں میں نبی اکرم ﷺ کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی ١ ؎۔

It was narrated from Zainab bint Jahsh that she had a tub of brass. She said: "I used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ in it."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں پانی ڈال کر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٩٣)، مسند احمد (٦/ ٢٢٤) (صحیح )
473Sunan Ibne-Majah

پیتل کے برتن میں وضو کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فِي تَوْرٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جھوٹے برتن میں وضو کیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ performed ablution using (the water in) a vessel made of brass, (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: تور: طشت کے مشابہ ایک برتن ہے، اور مخضب: ایک برتن ہے جس میں کپڑے دھوتے ہیں وہ بھی مثل طشت کے ہے، ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ پیتل کے برتن گھر میں رکھنا اور استعمال کرنا بلا کراہت جائز ہے، اور جیسا عوام میں اس کا مکروہ ہونا مذکور ہے وہ خلاف حدیث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤)، سنن الدارمی/الطہارة ١٦ (٧٠٥) (حسن) (تراجع الألبانی رقم: ٦١٥ ، سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، جیسا کہ گزرا ( ٤٧١ ) نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٩ )
474Sunan Ibne-Majah

نیند سے وضو کا ٹوٹنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، وَلَا يَتَوَضَّأُ، قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي وَهُوَ سَاجِدٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سو جاتے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگتے، پھر اٹھ کر بغیر وضو کے نماز پڑھتے۔ طنافسی کہتے ہیں: وکیع کا بیان ہے کہ عائشہ ؓ کی مراد یہ تھی کہ سجدہ کی حالت میں سو جاتے تھے۔

. It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ slept until he was breathing deeply, then he got up and prayed.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٥) (صحیح )
475Sunan Ibne-Majah

نیند سے وضو کا ٹوٹنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی۔

It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ slept until he was breathing deeply, then he got up and prayed. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٤٢٦) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے )
476Sunan Ibne-Majah

نیند سے وضو کا ٹوٹنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ نَوْمُهُ ذَلِكَ وَهُوَ جَالِسٌ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ یعنی نبی اکرم ﷺ کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا۔

. It was narrated that Ibn Abbas said: "He would sleep like that while he was sitting up."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٤٦) (منکر) (سند میں حریث ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٢٢٩ )
477Sunan Ibne-Majah

نیند سے وضو کا ٹوٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے ۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "The eye is the leather strap (that ties up) the anus, so whoever falls asleep, let him perform ablution."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٠ (٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٧، ١١٨، ١٥٠) (حسن )
478Sunan Ibne-Majah

نیند سے وضو کا ٹوٹنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، وَبَوْلٍ، وَنَوْمٍ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزوں کو تین دنوں تک جنابت کے سوا پاخانے، پیشاب اور نیند کے سبب نہ اتاریں ١ ؎۔

It was narrated that Safwian bim Assal said "The Messenger of Allah ﷺ used to command us not to take off our leather socks for three days except in the case of sexual impurity, but not in the case of defecation, urine or sleep [i.e. during travel."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ معمولی نیند سے یا سجدہ وغیرہ میں سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، ہاں لیٹ کر سو گیا تو وضو کرے مسافر کے لئے جائز ہے کہ اگر موزے وضو کے بعد پہنے ہیں تو تین دن تین رات تک نہ اتارے مسح کرتا رہے، اگر غسل جنابت ہو تو اتارنا ضروری ہے، مقیم کے لئے موزوں پر مسح ایک دن ایک رات کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٧١ (٩٦)، الدعوات ٩٩ (٣٥٣٥)، سنن النسائی/الطہارة ٩٨ (١٢٦)، ١١٣ (١٥٨)، ١١٤ (١٥٩)، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٩، ٢٤٠، ٢٤١) (حسن )
479Sunan Ibne-Majah

شرمگاہ کو چھو نے سے وضو ٹوٹنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ چھوئے تو وضو کرے ۔

It was narrated that Busrah bint Safwan said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you touches his penis, let him perform ablution:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٠ (١٨١)، سنن الترمذی/الطہارة ٦١ (٨٢، ٨٤)، سنن النسائی/الطہارة ١١٨ (١٦٣، ١٦٤)، الغسل ٣٠ (٤٤٥، ٤٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٥ (٥٨)، مسند احمد (٦/٤٠٦، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٠ (٧٥١) (صحیح )
480Sunan Ibne-Majah

شرمگاہ کو چھو نے سے وضو ٹوٹنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی اپنی شرمگاہ چھوئے تو اس پر وضو لازم ہے ۔

. It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you touches his penis, then he has to perform ablution.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٩١، ومصباح الزجاجة: ١٩٦) (صحیح) (سند میں عقبہ بن عبدالرحمن متکلم فیہ راوی ہیں، ابن المدینی نے انہیں شیخ مجہول کہا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
481Sunan Ibne-Majah

شرمگاہ کو چھو نے سے وضو ٹوٹنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اپنی شرمگاہ چھوئے تو وضو کرے ۔

It was narrated that Umm Habibah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever touches his sexual organ then let him perform ablution.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٩٧) (صحیح) (سند میں مکحول مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پر یہ صحیح ہے )
482Sunan Ibne-Majah

شرمگاہ کو چھو نے سے وضو ٹوٹنا۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص اپنی شرمگاہ چھوئے وہ وضو کرے ۔

. It was narrated that Abu Ayyub said: "I heard the Messenger of Allah say: ‘Whoever touches his sexual organ, let him perform ablution.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/٤٠٦) (صحیح) (اسحاق بن أبی فردہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
483Sunan Ibne-Majah

ذکر چھونے کی رخصت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ الْحَنَفِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ وُضُوءٌ إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ.

طلق ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: آپ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اس کے چھونے سے وضو نہیں ہے، وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔

Qais bin Talq AI-Hanafi narrated that his father said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ being asked about touching the penis. He said: That does not require ablution, because it is a part of you (your body). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بسرہ بنت صفوان اور طلق بن علی ؓ دونوں کی روایتیں بظاہر متعارض ہیں لیکن بسرہ ؓ کی روایت کو ترجیح اس لئے حاصل ہے کہ وہ زیادہ صحیح و ثابت ہے، اور طلق بن علی ؓ کی روایت منسوخ ہے کیونکہ وہ پہلے کی ہے، اور بسرہ ؓ کی روایت بعد کی ہے جیسا کہ ابن حبان اور حازمی نے اس کی تصریح کی ہے، اور دونوں میں تطبیق اس طرح سے بھی دی جاتی ہے کہ بسرہ ؓ کی حدیث بغیر کسی حاجز (پردہ) کے چھونے سے متعلق ہے، اور طلق کی حدیث حاجز (پردہ) کے اوپر چھونے سے متعلق ہے، لہذا اگر کوئی بغیر کسی حائل کے شرمگاہ چھولے تو وضو کرے اور اگر کوئی پردہ حائل ہو تو وضو کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧١ (١٨٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٢ (٨٥)، سنن النسائی/الطہارة ١١٩ (١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢، ٢٣) (صحیح )
484Sunan Ibne-Majah

ذکر چھونے کی رخصت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ جِذْيَةٌ مِنْكَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۔

It was narrated that Abu Umamah said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about touching the penis and he said: Rather it is a part of you (your body).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٢، ومصباح الزجاجة: ١٩٩) (ضعیف جدًا) (اس سند میں جعفر بن زبیر متروک راوی ہے، شعبہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ اکذب الناس ہے )
485Sunan Ibne-Majah

جو آگ میں پکا ہو اس سے وضو واجب ہونے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ؟ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو ، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ ١ ؎۔

. It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Perform ablution after (eating) that which has been changed by fire." Ibn Abbas said: "Should do ablution after (touching) hot water?" Abu Hurairah (RA) said: "O son of my brother, when I narrate a Hadith of the Messenger of Allah ﷺ to you, then do not try to make any examples for it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات پر سخت تنبیہ ہے کہ حدیث رسول سن کر کسی طرح کی ٹال مٹول کی جائے، آج جن لوگوں نے اپنا وطیرہ یہ بنایا ہوا ہے کہ جب تک اقوال ائمہ نہ پائیں اس وقت تک ان کے دلوں کو تسکین نہیں ہوتی ان کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٥٨ (٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥١)، سنن ابی داود/الطہارة ٧٦ (١٩٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٢ (١٧١)، مسند احمد (٢/٤٥٨، ٥٠٣، ٥٢٩) ومضی مختصرا برقم: (٢٢) دون توضؤوا (حسن )
486Sunan Ibne-Majah

جو آگ میں پکا ہو اس سے وضو واجب ہونے کا بیان۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جس کو آگ پر پکایا گیا ہو ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Perform ablution after (eating) that which has been changed by fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥١)، صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥٣)، مسند احمد (٦/٨٩) (صحیح )