انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھتے اور کہتے: یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: تم ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جسے آگ پر پکایا گیا ہو ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) would place his hands over his ears and say: "May my ears be made deaf, if I did not hear the Messenger of Allah ﷺ saying: Perform ablution after (eating) that which has been changed by fire.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٢) (ضعیف) (سند میں خالد بن یزید ضعیف راوی ہے، جس کو ابن معین نے متہم بھی کہا ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما تقدم اور یہ واضح رہے کہ باب کی احادیث منسوخ ہیں، جیسا کہ آگے آئے گا )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ ate a shoulder then he wiped his hands on a Mish that was underneath him, then he got up for prayer, and performed the prayer.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٥ (١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٦١١٠، ومصباح الزجاجة: ٢٠١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ١٨ (٥٤٠٤)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٣ (١٨٢)، موطا امام مالک/الطہارة ٥ (١٩)، مسند احمد (١/٣٢٦) (صحیح) (سند میں سماک بن حرب ہیں، جن کی عکرمہ سے راویت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طرق کی وجہ سے یہ صحیح ہے، اس لئے کہ مسند احمد میں سفیان نے سماک کی متابعت کی ہے، ایسے ہی ایوب نے بھی متابعت کی ہے (مسند احمد ١ /٢٧٣) نیز زہیر نے بھی سماک کی متابعت کی ہے، ( ١ /٢٦٧) نیز حدیث کے دوسرے طرق ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٨٢ - ١٨٤)۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکرو عمر ؓ نے روٹی اور گوشت کھایا، اور وضو نہیں کیا۔
. It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet ﷺ , Abu Bakr (RA) and Umar ate some bread and meat, and they did not perform ablution (after that).
زہری کہتے ہیں کہ میں ولید یا عبدالملک کے ساتھ شام کے کھانے پہ حاضر ہوا، جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لیے اٹھا تو جعفر بن عمرو بن امیہ ١ ؎ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد (عمرو بن امیہ ضمری مدنی ؓ) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے آگ پہ پکا ہوا کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ علی بن عبداللہ بن عباس نے کہا کہ میں اپنے والد (عبداللہ بن عباس ؓ) کے بارے میں بھی اسی طرح کی گواہی دیتا ہوں۔
. Zuhri said: "I had dinner with Walid or Abdul-Malik. When the time for prayer came, I got up to perform ablution. Jafar bin "Amr bin Umayyah said: I bear witness that my father bore witness, that the Messenger of Allah ﷺ ate food that had been changed by fire, then he performed prayer and he did not perform ablution.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بکری کی (پکی ہوئی) دست پیش کی گئی، آپ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز پڑھی، اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
It was narrated that Umm Salamah said: "Some meat from the shoulder of a sheep was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he ate some of it, then he performed prayer without touching water (for ablution).”
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٢٣ (١٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٢، ٣٠٦، ٣١٧، ٣١٩، ٣٢٣) (صحیح )
سوید بن نعمان انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے، جب مقام صہباء ١ ؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا، پیا، پھر آپ ﷺ نے پانی منگایا، اور کلی کی، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔
Suwaid bin Numan Ansari narrated that they went out with the Messenger of Allah ﷺ to Khaibar. When they reached As- Sahba (a place near Khaibar), he performed Asr (Afternoon prayer), then he called for food, but no food was brought except for Sawiq. So they ate that and drank, and then he called for water and rinsed his mouth, then he stood up and led us for Maghrib (Sunset) prayer."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر کلی کی، اور اپنے ہاتھ دھو کر نماز پڑھی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ ate meat from the shoulder of a sheep, then he rinsed his mouth and washed his hands, then he prayed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے پچھلے باب کی احادیث منسوخ ہیں، یا پچھلے باب کی احادیث میں وضو سے مراد ہاتھ وغیرہ دھونا ہے ناکہ شرعی وضو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٩، ومصباح الزجاجة: ٢٠٣)، مسند احمد (٢/٣٨٩) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے وضو کرو ١ ؎۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about performing ablution after eating camel meat. He said: Perform ablution after eating it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اونٹ کا گوشت ناقض وضو ہے، یہی صحیح مذہب ہے، اور عام طور پر اصحاب حدیث کی یہی رائے ہے، جو لوگ اسے ناقض وضو نہیں مانتے وہ اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے وضو شرعی مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے وضو لغوی یعنی ہاتھ منہ دھونا مراد ہے۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضو کریں، اور بکری کا گوشت کھائیں تو وضو نہ کریں ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform ablution after eating camel meat but not to perform ablution after eating the mutton."
Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹ اور بکری کے گوشت میں تفریق کی حکمت اور وجہ جاننا ضروری نہیں کیونکہ یہ تعبدی احکام ہیں، ان کی حکمت کا عقل میں آنا ضروری نہیں، شارع کے نزدیک اس میں کوئی نہ کوئی حکمت و مصلحت ضرور پوشیدہ ہوگی گو وہ ہماری عقل میں نہ آئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٥ (٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٢، ١١٠، ١٠٢، ١٠٥، ١٠٨) (صحیح )
اسید بن حضیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکری کا دودھ پی کر وضو نہ کرو، البتہ اونٹنی کا دودھ پی کر وضو کرو ۔
It was narrated that Usaid bin Hudair said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not perform ablution after (drinking) sheeps milk, but perform ablution after (drinking) camels milk.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤، ومصباح الزجاجة: ٢٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٢، ٥/١٢٢) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور سابقہ صحیح احادیث میں اونٹ کے گوشت وضو کا حکم ہے، نہ کہ اونٹنی کے دو دھ پینے سے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اونٹ کے گوشت سے وضو کرلیا کرو، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو، اور اونٹ کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو ١ ؎۔
. Abdullah bin Amr said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Perform ablution after (eating) camel meat, but do not perform ablution after (eating) mutton. Perform ablution after (drinking) camels milk, but do not perform ablution after (drinking) sheeps milk. Perform prayer in the sheep pens but not do so in the camels Mantin.
Notes · وضاحت
١ ؎: آگ پر پکی دیگر چیزوں کے استعمال سے وضو ضروری نہیں ہے، لیکن اونٹ کے گوشت کا معاملہ جدا ہے، اسی لئے شریعت نے اس کو الگ ذکر کیا ہے، اب ہماری سمجھ میں اس کی مصلحت آئے یا نہ آئے ہمیں فرماں برداری کرنا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤١٦، ومصباح الزجاجة: ٢٠٥) (ضعیف) (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز خالد بن یزید مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، اور حدیث کا دوسرا ٹکڑا وتوضئوا من ألبان الإبل ولا توضئوا من ألبان الغنم ضعیف اور منکر ہے، بقیہ حدیث یعنی پہلا اور آخری ٹکڑا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، یعنی اونٹ کے گوشت سے وضو اور بکری کے گوشت سے عدم وضو، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٧٧ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم دودھ پیو تو کلی کرلیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If you drink milk, then rinse your mouths, for there is some greasiness in it.
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دودھ پی کر کلی کرلیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
Abdul-Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidi narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Rinse your mouths after drinking milk, for it has some greasiness in it."
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بکری دودھ کر دودھ پیا، پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ milked a sheep and drank some of its milk, then he called for water and rinsed his mouth and said: It has some greasiness in it."
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، (عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ) میں نے (ام المؤمنین عائشہ ؓ سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی! تو وہ ہنس پڑیں۔
Urwah bin Az-Zubair narrated from Aisha (RA) , that the Messenger of Allah ﷺ kissed one of his women (i.e., wives), then he went out to perform the prayer, and he did not perform ablution. I (Urwah bin Zubair) said: "That was not anyone but you, and she smiled." (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے نماز پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ ﷺ نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
It was narrated from Alshah: "The Messenger of Allah ﷺ would perform ablution, then he would kiss, then he would perform prayer without performing ablution again. And sometimes he did that with me."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٢) (ضعیف) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زینب کے حالات معلوم نہیں، ان کے بارے میں دارقطنی کا قول ہے:لا تقوم بہا حجة قابل اعتماد نہیں ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ سے مذی ١ ؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ٢ ؎ میں غسل ہے ۔
. It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about prostatic fluid and he said: For that ablution (is necessary), and for semen, bath is necessary.
Notes · وضاحت
١ ؎: مذی: وہ لیس دار پتلا پانی ہے، جو ابتداء شہوت میں مرد کے عضو تناسل سے بغیر اچھلے نکلتا ہے اور جس پر وضو ہے۔ ٢ ؎: منی سے مراد وہ رطوبت ہے، جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے اچھل کر نکلتی ہے، جس پر غسل واجب ہے۔
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھو لے، اور وضو کرلے ١ ؎۔
It was narrated from Miqdad bin Aswad that he asked the Prophet ﷺ about a man who approached his wife, but did not ejaculate. He said: "If anyone of you finds that, he should sprinkle water over his private part (meaning he must wash it) and perform ablution." It was narrated that Sahl bin Hunaif said: "I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: Ablution is sufficient for you in this case. I said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the prostatic fluid that gets onto my clothes? He said: It is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر قربت سے انزال نہ ہو تب بھی اس کو بہر حال غسل کرنا ہوگا، مقداد کی یہ حدیث منسوخ ہے: إذا التقى الختان سے، یعنی جب دو ختنے باہم مل جائیں تو غسل واجب ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٧)، سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣)، مسند احمد (١/١٢٤، ٦/٤، ٥) (صحیح )
سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہوگا ١ ؎۔
It was narrated that Sahl bin Hunaif said: "I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: Ablution is sufficient for you in this case. I said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the prostatic fluid that gets onto my clothes? He said: It is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ تبھی ہے جب یقین ہو کہ یہ مذی ہے، اگر یقین ہو کہ منی ہے، تو غسل کرنا ہی ہوگا۔