آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ فَمَضْمَضَ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ، وَصَلَّى.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر کلی کی، اور اپنے ہاتھ دھو کر نماز پڑھی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ ate meat from the shoulder of a sheep, then he rinsed his mouth and washed his hands, then he prayed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے پچھلے باب کی احادیث منسوخ ہیں، یا پچھلے باب کی احادیث میں وضو سے مراد ہاتھ وغیرہ دھونا ہے ناکہ شرعی وضو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٩، ومصباح الزجاجة: ٢٠٣)، مسند احمد (٢/٣٨٩) (صحیح )