آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِأَطْعِمَةٍ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ.
سوید بن نعمان انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے، جب مقام صہباء ١ ؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا، پیا، پھر آپ ﷺ نے پانی منگایا، اور کلی کی، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔
Suwaid bin Numan Ansari narrated that they went out with the Messenger of Allah ﷺ to Khaibar. When they reached As- Sahba (a place near Khaibar), he performed Asr (Afternoon prayer), then he called for food, but no food was brought except for Sawiq. So they ate that and drank, and then he called for water and rinsed his mouth, then he stood up and led us for Maghrib (Sunset) prayer."