آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْزَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَصَلَّى، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بکری کی (پکی ہوئی) دست پیش کی گئی، آپ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز پڑھی، اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
It was narrated that Umm Salamah said: "Some meat from the shoulder of a sheep was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he ate some of it, then he performed prayer without touching water (for ablution).”