Sunan Ibne-Majah 490

پاکی کا بیان

490Sunan Ibne-Majah

آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنے کا جواز۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَضَرْتُ عَشَاءَ الْوَلِيدِ، أَوْ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قُمْتُ لِأَتَوَضَّأَ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُأَكَلَ طَعَامًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وقَالَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بِمِثْلِ ذَلِكَ.

زہری کہتے ہیں کہ میں ولید یا عبدالملک کے ساتھ شام کے کھانے پہ حاضر ہوا، جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لیے اٹھا تو جعفر بن عمرو بن امیہ ١ ؎ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد (عمرو بن امیہ ضمری مدنی ؓ) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے آگ پہ پکا ہوا کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ علی بن عبداللہ بن عباس نے کہا کہ میں اپنے والد (عبداللہ بن عباس ؓ) کے بارے میں بھی اسی طرح کی گواہی دیتا ہوں۔

. Zuhri said: "I had dinner with Walid or Abdul-Malik. When the time for prayer came, I got up to perform ablution. Jafar bin "Amr bin Umayyah said: I bear witness that my father bore witness, that the Messenger of Allah ﷺ ate food that had been changed by fire, then he performed prayer and he did not perform ablution.

Notes · وضاحت
١ ؎: جعفر عبدالملک بن مروان کے رضاعی بھائی تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٠ (٢٠٨)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٤، ٣٥٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ٣٣ (١٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٩، ١٠٧٠٠)، وقدأخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٩١٣٩، ٥/ ٢٨٧، ٢٨٨)، سنن الدارمی/الطہارة ٣٨ (٧٣٧) (صحیح )