اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا.
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے وضو کرو ١ ؎۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about performing ablution after eating camel meat. He said: Perform ablution after eating it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اونٹ کا گوشت ناقض وضو ہے، یہی صحیح مذہب ہے، اور عام طور پر اصحاب حدیث کی یہی رائے ہے، جو لوگ اسے ناقض وضو نہیں مانتے وہ اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے وضو شرعی مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے وضو لغوی یعنی ہاتھ منہ دھونا مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٢ (١٨٤)، سنن الترمذی/ الطہارة ٦٠ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٨، ٣٠٣) (صحیح )