بوسہ کی وجہ سے وضو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ، وَرُبَّمَا فَعَلَهُ بِي.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے نماز پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ ﷺ نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
It was narrated from Alshah: "The Messenger of Allah ﷺ would perform ablution, then he would kiss, then he would perform prayer without performing ablution again. And sometimes he did that with me."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٢) (ضعیف) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زینب کے حالات معلوم نہیں، ان کے بارے میں دارقطنی کا قول ہے:لا تقوم بہا حجة قابل اعتماد نہیں ہیں )