بوسہ کی وجہ سے وضو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ؟، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ.
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ سے مذی ١ ؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ٢ ؎ میں غسل ہے ۔
. It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about prostatic fluid and he said: For that ablution (is necessary), and for semen, bath is necessary.
Notes · وضاحت
١ ؎: مذی: وہ لیس دار پتلا پانی ہے، جو ابتداء شہوت میں مرد کے عضو تناسل سے بغیر اچھلے نکلتا ہے اور جس پر وضو ہے۔ ٢ ؎: منی سے مراد وہ رطوبت ہے، جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے اچھل کر نکلتی ہے، جس پر غسل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨٣ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٣ (٢٦٩)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٧)، سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٧)، الغسل ٢٨ (٤٣٦)، مسند احمد (١/٨٢، ١٠٨، ١١٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤٧، ١٢٥ )