Sunan Ibne-Majah 506

پاکی کا بیان

506Sunan Ibne-Majah

بوسہ کی وجہ سے وضو کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الِاغْتِسَالَ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہوگا ١ ؎۔

It was narrated that Sahl bin Hunaif said: "I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: Ablution is sufficient for you in this case. I said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the prostatic fluid that gets onto my clothes? He said: It is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ تبھی ہے جب یقین ہو کہ یہ مذی ہے، اگر یقین ہو کہ منی ہے، تو غسل کرنا ہی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢١٠)، سنن الترمذی/الطہارة ٨٤ (١١٥)، (تحفة الأشراف: ٤٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٤٩ (٧٥٠) (حسن )