Sunan Ibne-Majah 353

پاکی کا بیان

353Sunan Ibne-Majah

جس کو سلام کیا جائے جبکہ وہ پیشاب کر رہا ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِالضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating and greeted him with the Salam, and he did not return the greeting."

Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر جواب نہیں دیا، نہ کہ مطلقاً جواب ہی نہیں دیا، کیونکہ حدیث نمبر ( ٣٥١ ) پر گزر چکا ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور تیمم کیا، اس کے بعد سلام کا جواب دیا، اور سنن نسائی میں مہاجر بن قنفذ ؓ کی روایت میں ہے فلم يرد عليه السلام حتى توضأ فلما توضأ رد عليه وضو کرنے تک آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، پھر جب وضو کرلیا تو سلام کا جواب دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحیض ٢٨ (٣٧٠)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨ (١٦)، سنن الترمذی/ الطہارة ٦٧ (٩٠)، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠)، سنن النسائی/الطہارة ٣٣ (٣٧)، (تحفة الأشراف: ٧٦٩٦) (حسن صحیح )