بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو، چناچہ (پہلے دن) جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ١ ؎، پھر ان کو حکم دیا، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند، صاف اور چمکدار تھا ٢ ؎، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ٣ ؎ غائب ہوگئی تو انہیں حکم دیا، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا (یعنی تاخیر کی) ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ، اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔
It was narrated from Sulaimân bin Buraidah that his father said: “A man came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of prayer. He said: ‘Pray with us for two days.’ When the sun passed its zenith he commanded Bilal (RA) to call the Adhãn, then he commanded him to give the Iqâmah for Zuhur’; then he commanded him to give the Iqamah for ‘Asr when the sun was high and clearly white. Then he commanded him to give the Iqamah for Maghrib when the sun had set; then he commanded him to give the Iqamah for ‘lsha’ when the red afterglow had disappeared; then he commanded him to give the lqdmah for Pajr when dawn came. On the folloaing day he commanded him to give the Adhan for Zuhr when the extreme heat had passed and it had cooled down; then he prayed ‘Ast when the sun was still high, but he delayed it more than he had done the day before; then he prayed Maghrib before the red afterglow disappeared; he prayed ‘Isha’ when one-third of the night had passed; and he prayed Fajr at the time when it was already light. Then he said: ‘Where is the one who was asking about the times of Prayer?’ The man said: ‘Here I am, O Messenger of Allah.’ He said: ‘The times of your prayer axe between the times you have seen.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی ٣ ؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کردی تو ان سے عروہ نے کہا: سنیے! جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی امامت فرمائی، تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو؟ اس پر عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے، اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ وہ اپنی انگلیوں سے پانچوں نمازوں کو شمار کر رہے تھے۔
It was narrated from Ibn Shihâb that he was sitting on the cushions of ‘Umar bin ‘Abdul‘Aziz wheat he was the leader over Al-M dinah, and with him was ‘Urwali bin Zubair. ‘Umar delayed ‘Asr somewhat, and ‘Urwah said to him: “Jibril came down and led the Messenger of Allah ﷺ in prayer.”‘Umar said to him: “(now what you are saying, O ‘Urwah” He said: “I heard Bashi-ir bin Abu Mas’ud saying, ‘I heard Abu Mas’ud saying, “I heard the Messenger of Allah ﷺ saying, ‘Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him,’ and he counted five prayers on his fingers.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو عروہ نے حدیث کی سند بیان کر کے عمر بن عبدالعزیز کی تسلی کردی، اور دوسری روایت میں ہے کہ عروہ نے ایک اور حدیث بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی جو آگے مذکور ہوگی، عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات مقرر ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی تعلیم دی تھی اور آپ ﷺ اپنے اوقات میں نماز ادا فرماتے تھے، ایک روایت میں ہے کہ اس روز سے عمر بن عبدالعزیز نے کبھی نماز میں دیر نہیں کی، اس سے عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات کی تحدید کے لئے جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو عملی طور پر سکھایا، اس لئے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢ (٥٢١)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢١)، المغازي ١٢ (٤٠٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٤)، سنن النسائی/المواقیت ١ (٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١)، مسند احمد (٤/١٢٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The believing women used to perform the Subh prayer with the Prophet ﷺ , then they would go back to their families and no one would recognize them,” meaning because of the darkness. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہیے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ: وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا (سورة الإسراء: 78) کی تفسیر میں فرمایا: اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Huraisah that the Messenger of Allah ﷺ recited: And recite the Qur’ân during the Fajr. Verily, the recitation of the Qur’ân during Fajr is ever witnessed.” He said: “It is witnessed by the angels of the night and the day.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہوجاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١٣٥)، وحدیث أبي ہریرة أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٥)، التفسیر ١٨ (٣١٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣١ (٦٤٨)، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٤٩)، مسند احمد (٢/٢٣٣) (صحیح )
مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کے ساتھ صبح کی نماز غلس (آخر رات کی تاریکی) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر ؓ کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ، اور ابوبکرو عمر ؓ کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر ؓ کو نیزہ مار کر زخمی کردیا گیا تو عثمان ؓ نے اسے اسفار (اجالے) میں پڑھنا شروع کردیا ١ ؎۔
Mughith bin Sumayi said : I prayed the Subh with ‘Abdullâh bin Zubair in the darkness, and when he said the Taslim, I turned to Ibn ‘Umar and said: ‘What is this prayer?’ He said: ‘This is how we prayed with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr (RA) and ‘Umar. When ‘Umar was stabbed, ‘Uthmân delayed it until there was light.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان ؓ کو اسفار (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہوگیا کہ صحابہ کرام ؓ کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اسفار میں فجر کی نماز پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ اسفار میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس نماز کا وہی تھا جو ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم ﷺ اور شیخین (ابوبکر صدیق و عمر فاروق ؓ) ایسا ہی کرتے رہے۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح کو اچھی طرح روشن کرلیا کرو، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے ۔
It was narrated from Râfi’ bin Khadij that the Prophet ﷺ Said: “Pray the Subh early, for indeed its reward is greater” or “your reward.” (Sahih))
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اتنا اجالا ہوجانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہوجائے، جیسا کہ ابوبرزہ ؓ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہنچان لیتا اس طرح اس میں اور غلس والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوپہر کی نماز جس کو تم ظہر کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: “The Prophet ﷺ used to pray the Hajir prayer, which you call ‘Zuhr’ when the sun had passed its zenith.” (Sahih)
خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کردیا ١ ؎۔
It was narrated that Khabbâb said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the sunbaked ground, but he did not respond to our complaint.” (Sahih) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کی تاخیر گوارا نہ کی، اور ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥١٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٨) مسند احمد (٥/١٠٨، ١١٠) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے اسے نظر انداز کردیا ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdulláh bin Mas’ud said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the sunbaked ground, but he did not respond to our complaint.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد تھوڑی سی دیر کریں نہ کہ ایک مثل کے بعد پڑھیں، ایک مثل کے بعد تو ظہر کا وقت ہی نہیں رہتا، اور ٹھنڈک سے یہ مراد ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں ذرا نرمی آجائے بالکل ٹھنڈک تو شام تک بھی نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٥٤) (صحیح) (اس سند میں مالک الطائی غیر معروف ہیں، اور معاویہ بن ہشام صدوق ہیں، وہم کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہوجائے تو نماز ٹھنڈی کرلو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When it is very hot, then wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hellfire.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ظہر کو جلدی نہ پڑھنے اور باقی نماز کو اول وقت میں پڑھنے کی افضلیت کے سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، وہ باہم معارض نہیں ہیں کیونکہ اول وقت میں پڑھنے والی روایتیں عام یا مطلق ہیں، اور ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے والی روایت مخصوص اور مقید ہے، اور عام و خاص میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، نہ ہی مطلق و مقید میں کوئی تعارض ہوتا ہے، رہی خباب ؓ والی روایت جو صحیح مسلم میں آئی ہے، اور جس کے الفاظ یہ ہیں: شکونا إلى النبي صلى الله عليه وسلم حرالرمضائ فلم يشكنا ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دھوپ کی تیزی کی شکایت کی لیکن آپ نے ہماری شکایت نہ مانی تو ابراد سے قدر زائد کے مطالبہ پر محمول کی جائے گی، کیونکہ ابراد یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہوجائے جس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہوجائے، اور ابراد سے زائد تاخیر یہ ہے کہ رمضاء کی گرمی زائل ہوجائے، اور یہ کبھی کبھی خروج وقت کو مستلزم ہوسکتا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا، نیز بہت سے علماء نے اس حدیث کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جب شدت کی گرمی ہو تو ظہر میں دیر کرنا مستحب ہے، اور اس حدیث کی شرح میں مولانا وحید الزماں حیدر آبادی فرماتے ہیں: حدیث کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جب گرمی کی شدت ہو تو اس کو نماز سے ٹھنڈا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے، اور جہنم کی بھاپ بجھانے کے لئے نماز سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے، اور اس مطلب پر یہ تعلیل صحیح ہوجائے گی، اور یہ حدیث اگلے باب کی حدیثوں کے خلاف نہ رہے گی۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہوجائے تو ظہر کو ٹھنڈا کرلیا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When it is very hot, then wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the HellFire.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الارض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مرجائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے، اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hell-fire.’” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٢، ٥٣، ٥٩) (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔
It was narrated that Mughirah bin Shu’bah said: We were praying Zuhr with the Messenger of Allah ﷺ at the time of intense heat (i.e., midday when the sun has just passed its zenith) and he said to us, “Wait for it to cool down before you pray, for intense heat is from the flaring up of the Hell-fire.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٦، ومصباح الزجاجة: ٢٥٥)، و قد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٢٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا، چناچہ (نماز پڑھ کر) کوئی شخص عوالی ١ ؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr when the sun was still hot and high, and if a person were to go to the suburbs (of Al-Madinah) he would be able to reach it while the sun was still hot and high. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٧ (٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٥٠)، الاعتصام ١٦ (٧٣٢٩)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١١)، مسند احمد (٣/٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥ (١٢٤٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Prophet ﷺ S.A.W.W prayed the ‘Asr when the sun was shining into my room and there were no shadows yet.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سائے کا کمرہ کے اندر ہونا دلالت کرتا ہے کہ عصر کا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ لی گئی تھی، اگر دیر کی جاتی تو سایہ کمرے میں نہ رہتا بلکہ دیواروں پر چڑھ جاتا۔
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ (عصر کی نماز) کی ادائیگی سے باز رکھا ۔
It was narrated from ‘Ali bin Abu Tâlib that, on the Day of Khandaq, the Messenger of Allah ﷺ said: “May Allah fill their houses and graves with fire, just as they distracted us from the middle prayer.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو معلوم ہوا کہ عصر کی نماز بھی نماز ہے، اور قرآن شریف میں ہر فریضہ نماز پر محافظت کرنے کا حکم دیا خصوصاً نماز وسطی پر، تو عصر کی محافظت کی زیادہ تاکید نکلی، اور نماز وسطی میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ وہ عصر کی نماز ہے، اور یہی مختار ہے، واللہ اعلم۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہوجائے، گویا اس کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب لٹ گئے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “The one who misses the ‘An prayer, it is as if he has been cheated out of his family and his wealth.” (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم ﷺ کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔
It was narrated that ‘Abdullâh said: “The idolaters kept the Prophet ﷺ from the ‘An prayer until the sun had set. He said: ‘They kept us from performing the middle prayer; may Allah fill their graves and their houses with fire.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٨)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة البقرة ٣ (٢٩٨٥)، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٩) وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٢، ٤٠٣، ٤٥٦) (صحیح )