تیمم کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 3 · 102 hadiths · Page 6 of 6

665Sunan Ibne-Majah

جس نے وضو کیا اور کچھ جگہ چھوڑ دی پانی نہ پہنچا یا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو ۔

It was narrated from Anas that a man came to the Prophet ﷺ he had performed ablution and has missed a spot the size of a fingernail where water had not reached. The Prophet ﷺ said to him: ‘Go back and perform ablution properly.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦٧ (١٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ١٤٦) (صحیح )
666Sunan Ibne-Majah

جس نے وضو کیا اور کچھ جگہ چھوڑ دی پانی نہ پہنچا یا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ عَلَى قَدَمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، قَالَ: فَرَجَعَ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی، تو آپ نے اسے وضو اور نماز دونوں کو دوہرانے کا حکم دیا، عمر ؓ کہتے ہیں: اس نے دوبارہ وضو کیا، اور نماز پڑھی۔

It was narrated that ‘Umar bin Khattäb said: “The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w a man performing ablution and he missed a spot the size of a fingernail on his foot. He commanded him to repeat his ablution and his prayer, so he did.” (Sahib)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٠ (٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٧ (١٧٣) مسند احمد (١/٢١، ٢٣) (صحیح )