ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں ۔
It was narrated that Jasrah said: "Umm Salamah told me: The Messenger of Allah ﷺ entered the courtyard of this Masjid and called out at the top of his voice: "The Masjid is not permissible for anyone who is sexually impure or any woman who is menstruating."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٥١، ومصباح الزجاجة: ٢٤٢) (ضعیف) (اس سند میں ابوالخطاب الہجری، اور محدوج الذہلی دونوں مجہول الحال ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بارے میں جو پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شبہ میں مبتلا کرے، فرمایا: وہ تو رگوں سے خارج ہونے والا مادہ ہے (نہ کہ حیض) ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔
It was narrated from Umm Bakr that she was told that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said concerning a woman who sees that which causes her doubt (i.e. some bleeding) after she becomes pure: That is a vein or veins." Muhammad bin Yahya said: "What was meant by after she becomes pure is after having a bath (following the end of her period)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٦، ومصباح الزجاجة: ٢٤٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١١١ (٢٩٣)، مسند احمد (٦/٧١، ١٦٠، ٢١٥، ٢٧٩) (صحیح) (سند میں ام بکر مجہول ہیں، لیکن متابعت و شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣٠٣ - ٣٠٤ )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah said: "We did not think anything of the yellowish or brOwnish discharge." (Another chain) It was narrated that Umm Atiyyah said: "We did not think that the yellowish or brownish discharge counted for anything." Muhamamd bin Yahya said: "Wuhaib (who narrated the second version) is the better of them with this according to us."
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب عورت کے حیض کی مدت ختم ہوجائے اور وہ غسل کر ڈالے، تو اس کے بعد زردی یا خاکی یا سفیدی نکلتی دیکھے تو شک میں نہ پڑے، وہ حیض نہیں ہے، البتہ حیض کی مدت کے اندر جب اول اور آخر حیض آئے، اور بیچ میں اس قسم کے رنگ دیکھے تو وہ حیض ہی میں شمار ہوگا، اہل حدیث کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٥ (٣٢٦)، سنن ابی داود/الطہارة ١١٩ (٣٠٨)، سنن النسائی/الحیض ٧ (٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٦، ١٨١٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٩٤ (٨٩٥) (صحیح )
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ١ ؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٨١٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٢٥ (٣٢٦) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس دن نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں، اور ہم اپنے چہرے پہ جھائیں کی وجہ سے ورس ملا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Umm Salamah said: "At the time of the Messenger of Allah, women in postnatal bleeding (after childbirth) used to wait for forty days, and we used to put Wars on our faces because of freckles."
Notes · وضاحت
١ ؎: ورس: یہ گھاس چہرے پر جھائیں کے علاج کے لئے مفید ہے، نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے، اور کم کی کوئی حد نہیں ہے، جب خون بند ہوجائے تو عورت پاک ہوگئی، اب وہ غسل کر کے نماز روزہ شروع کر دے، لیکن اگر چالیس دن کے بعد بھی نفاس کا خون جاری رہے تو اس کا حکم استحاضہ کا سا ہے، اور نفاس کا حکم جماع کی حرمت میں اور نماز روزہ نہ ادا کرنے میں حیض کے جیسا ہے، پھر جب نفاس سے پاک ہو تو نماز کی قضا نہ کرے، اور روزے کی قضا کرے، ام سلمہ ؓ سے ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کوئی عورت نفاس میں چالیس راتوں تک بیٹھتی تو آپ ﷺ اس کو قضائے نماز کا حکم نہ دیتے، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ set the time for postnatal bleeding at forty days, except for one who becomes pure before that."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠، ومصباح الزجاجة: ٢٤٤) (ضعیف جدًا) (سند میں سلام بن سلیم (یا سلم) أبوسلیمان الطویل المدائنی متروک الحدیث ہے، أبو الاحوص ثقہ متقن ہیں، جو صحاح ستہ کے روای ہیں، مدائنی سے صرف ابن ماجہ نے روایت کی ہے، اور سند میں یہی مدائنی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٥٣ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کرلیتا تو نبی اکرم ﷺ اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "If a man had intercourse with his wife while she was menstruating, the Prophet ﷺ commanded him to give half a Dinar in charity."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہا رة ١٠٣ (١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩١) (ضعیف) (سند میں مقسم ضعیف ہیں، ثابت شدہ حدیث: ٦٤٠ ، نمبر میں گذری )
عبداللہ بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ ۔
It was narrated that ‘Abdullâh bin Sa’d said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about eating with a menstruating woman and he said: ‘Eat with het”(Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز ادا کرتے تھے، اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ was performing prayer, and I was by his side. I was menstruating, and I was wearing a wool cloak, and part of it was over him.”(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ایک حصہ آپ ﷺ کے مبارک جسم پر ہوتا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن اور کپڑا پاک ہے، ورنہ ایک نجس کپڑا آپ ﷺ اپنے بدن پر نماز کی حالت میں کیوں کر رکھ سکتے تھے۔
ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی، اس چادر کا کچھ حصہ آپ پر تھا، اور کچھ مجھ پر تھا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔
It was narrated from Maimunah that the Messenger of Allah ﷺ performed prayer wearing a wool cloak. Part of it was over him and part was over her, and she was menstruating. (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کی لونڈی چھپ گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ بالغ ہوگئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے اپنے عمامہ سے ٹکڑا پھاڑ کردیا اور فرمایا: اس کو اوڑھنی بنا لو ۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ entered upon her, and a freed slave girl of hers concealed herself. The Prophet ﷺ ffl asked: “Have her periods begun?” She said: “Yes.” He tore a piece of his turban and said: “Cover your head with this.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٥) (ضعیف) (سند میں عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں فرماتا ۔
It was narrated from ‘Aishai that the Prophet ﷺ said: “Allah does not accept the prayer of a woman who menstruates (i.e., an adult woman) except with a head cover.” (Sahih)
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا حائضہ مہندی لگا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم ﷺ کے سامنے مہندی لگاتے تھے، لیکن آپ ہمیں منع نہ فرماتے ۔
It was narrated from Mu’âdh that a woman asked ‘ Aisha (RA) “Can a woman who is menstruating, dye her hands?” She said: “We were with the Prophet ﷺ and we used to dye our hands, and he did not tell us not to do that.” (Sahih)
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated that ‘All bin Abu Tâlib said: “I broke one of my forearms and I asked the Prophet ﷺ about that. He told me to wipe over the bandages.” (Maudu’)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٧) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ حسین بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، اور ان کا لعاب آپ کے اوپر بہہ رہا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I saw the Prophet ﷺ carrying Hasan bin ‘Ali on his shoulder, and his saliva was dripping down on him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کا لعاب پاک ہے، اسی طرح بڑے آدمی کا بھی لعاب پاک ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٧) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کی خدمت میں (پانی کا) ڈول حاضر کیا گیا، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکیزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی۔
It was narrated from ‘Abdul Jabbar bin Wá’il that his father said: “A bucket was brought to the Prophet ﷺ he rinsed his mouth and spat into it, and it was like musk or better than musk, and he rinsed his nostrils outside the bucket.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٧، ومصباح الزجاجة: ٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٣١٦، ٣١٨) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الجبار بن وائل اور ان کے والد کے مابین انقطاع ہے، انہوں نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت عورت کے اور مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے ۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahmân bin Abu Sa’eed Al-Khudri from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: “No woman should look at the nakedness of another woman, and no man should look at the nakedness of another man.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: ابونعیم عن مولاة لعائشة کہتے تھے۔
It was narrated from a freed slave of ‘ Aisha (RA) that ‘ Aisha (RA) said: “I never looked at (or I never saw) the private part of the Messenger of Allah ﷺ (One of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: “Abu Nu’aini would say; ‘(From) a freed female slave of ‘ Aisha (RA) .’”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٣، ١٩٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں مولیٰ عائشہ مجہول الحال ہیں، اس لئے یہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٨١٢ ، یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٩٢٢ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غسل جنابت کیا تو معمولی سی جگہ خشکی دیکھی، تو اپنے بالوں سے اس مقام کو تر کردیا۔ اسحاق بن منصور نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے اس پر اپنے بالوں کو نچوڑ کر تر کردیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas (RA) : “The Prophet ﷺ bathed to cleanse himself from sexual impurity, then he saw a spot that water did not reach.” Then he motioned with the hair hanging over his shoulders and squeezed (the water from it) over that spot.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٨، ومصباح الزجاجة: ٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٣) (ضعیف) (سند میں ابو علی الرحبی حسین بن قیس ہیں جن کی حدیثیں بہت زیادہ منکر ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی نماز پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا ۔
It was narrated that ‘Ali said: “A man came to the Prophet ﷺ and said; ‘I bathed to cleanse myself from sexual impurity, and I prayed Fajr, then I noticed a spot the size of a fingernail that the water did not reach.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If you had wiped it that would have been sufficient for you.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٠٥، ومصباح الزجاجة: ٢٥٢) (ضعیف جدًا) (سند میں سوید بن سعید صدوق ہیں، اندھے ہونے کے بعد دوسروں سے احادیث کی بہت زیادہ تلقین قبول کرنے لگے، حتی کہ ابن معین نے ان کو حلال الدم قرار دیا، نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی ضعیف اور متروک ہیں )