رفاعہ بن عرابہ جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: والذي نفسي بيده قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔
It was narrated that Rifâ’ah bin ‘Arâbah Al-Juhani said: “The swearing of the Messenger of Allah ﷺ when he took an oath; and I bear witness before Allah was: ‘By the One in Whose Hand is my soul.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦١٢، ومصباح الزجاجة: ٧٣٦) (صحیح) (سند میں عبد الملک صنعانی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم اکثر یوں ہوتی تھی: لا ومصرف القلوب قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said: "The swearing most frequently sworn by the Messenger of Allah ﷺ was: No, by the Controller of the hearts:" (Daif)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم یوں ہوتی تھی: لا وأستغفر الله ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The swearing of the Messenger of Allah ﷺ was: No, and I ask Allah for forgiveness:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بےقصد و ارادہ جاری ہوجائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ ﷺ نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ ﷺ یوں قسم کھاتے تھے: لا ومقلب القلوب اور صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وأيم الله إن کان لخليقاً للإمارة یعنی، اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل (علیہ السلام) نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٢ (٣٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٤٢٣ )
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ، اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے ١ ؎۔
It was narrated from Salim bin Abdullah bin Umar, from his father, from Umar, that the Messenger of Allah ﷺ heard him swearing by his father. The Messenger of Allah ﷺ said: "Allah forbids you from making oaths by your forefathers." Umar said: "I never took an oath by them (i.e., my forefathers) myself nor narrating such words from anyone else." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جو کوئی قسم کھانا چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا إله إلا الله کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever takes an oath, and swears, saying: ‘By Al-Lât and Al-’Uzza,’ let him say: ‘La ilaha illallah .’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: لات اور عزی دو بڑے بت تھے جن کی زمانہ جاہلیت میں عرب عبادت کرتے تھے، واضح رہے اگر بےاختیار عادت کے طور پر ان کا نام نکل جائے اور دل میں ان کی کوئی تعظیم نہ ہو تو آدمی کافر نہ ہوگا، اگر تعظیم کی نیت سے کہا تو وہ کافر و مرتد ہے، اس پر دوبارہ اسلام لانا واجب ہے (لمعات التنقیح)۔
سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے لات اور عزیٰ کی قسم کھالی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لا إله إلا الله وحده لا شريك له اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ، پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کرو، اور اعوذ باللہ کہو میں شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں پھر ایسی قسم نہ کھانا ١ ؎۔
It was narrated that Sad said: "[ took an oath by Lat and Uzza. The Messenger of Allah ﷺ said: Say: "La ilaha illallah wahdahu Ia sharika lahu" (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate)," then spit toward your left three times, and seek refuge with Allah, and do not do that again:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر غیر اللہ کی قسم اس کو معظم سمجھ کر کھائے تو آدمی کافر ہوجاتا ہے، لیکن معظم سمجھنے سے کیا مراد ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر اور ہمسر سمجھے، لیکن ایسا تو کفار و مشرکین بھی نہیں سمجھتے تھے، وہ بھی جانتے تھے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اور آسمان اور زمین کا وہی خالق ہے جیسے اس آیت میں ہے: وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ( سورة لقمان: 25 ) اور اس آیت میں : مَا نَعْبُدُهُمْ إِلا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ( سورة الزمر:3 ) یعنی ہم بتوں کو اس لئے پوجتے ہیں تاکہ وہ ہم کو اللہ کے نزدیک کردیں، اور یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اور شرک کا معاملہ بہت بڑا ہے، شرک ایسا گناہ ہے جو کبھی نہیں بخشا جائے گا، پس ہر مسلمان کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، شرک یہ ہے کہ جب اللہ کے علاوہ کسی کو کوئی اس لائق سمجھے کہ وہ بغیر اللہ کی مشیت اور ارادے کے کوئی برائی یا بھلائی کا کام کرسکتا ہے، یا اس کا کچھ زور اللہ تعالیٰ پر ہے، معاذ اللہ، دنیا کے بادشاہوں کی طرح جیسے وہ اپنے نائبوں کا لحاظ رکھتے ہیں، یہ ڈر کر کہ اگر وہ ناراض ہوجائیں گے تو ان کے کارخانہ میں خلل ہوجائے گا۔ یا وہ اللہ کی طرح ہر پکارنے والے کی پکار سن لیتا ہے، یا نزدیک ہو یا دور، یا ہر مشکل کے وقت نزدیک ہو یا دور کام آسکتا ہے، یا ہر بات دیکھتا اور سنتا ہے، تو اس نے شرک کیا، گو وہ اس کو اللہ کے برابر نہ سمجھے، معظم سمجھنے کے یہی معنی ہیں، یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر اللہ کی عظمت بالکل نہ کرے، انبیاء ورسل، فرشتوں اور اولیاء وصلحاء کی تعظیم ہماری شریعت میں ہے، مگر یہ تعظیم یہی ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان کو اللہ کا نیک بندہ سمجھا جائے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کا رتی بھر کام نکال سکتے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے حکم میں کچھ چوں چرا کرسکتے ہیں، یا ان کا کچھ زور۔ معاذ اللہ۔ اللہ تعالیٰ پر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو کسی سے رتی برابر بھی ڈر و خوف نہیں ہے۔ اور یہ سب اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف متحد ہوجائیں تو وہ ایک لحظہ میں ان سب کو تباہ و برباد کرسکتا ہے، اور ان سب کے خلاف ہوجانے سے اس کا ذرہ برابر بھی کوئی کام متاثر نہیں ہوسکتا، یہ موحدوں کا اعتقاد ہے، پس موحد جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو یقینا کہا جائے گا کہ اس کی قسم لغو اور عادت کے طور پر ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ موحد غیر اللہ میں سے کسی میں کچھ بالاستقلال قدرت یا اختیار سمجھے۔ جو شرکیہ افعال کیا کرتا ہے لیکن نام کا مسلمان ہے وہ جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو شرک کا گمان اس کی طرف اور زیادہ قوی ہوگا، اور بہت مسلمان ایسے ہیں کہ اللہ کی قسم کہو تو وہ سو کھا ڈالیں لیکن کیا ممکن ہے کہ اپنے پیر مرشد یا مدار یا سالار یا غوث کی جھوٹی قسم کھائیں، ان کے مشرک ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہے، اب یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جو چیزیں ہماری شریعت میں بالکل لائق تعظیم نہیں ہیں بلکہ ان کی تحقیر اور توڑ ڈالنے کا حکم ہے، جیسے بت، اور تعزیہ والے جھنڈے وغیرہ ان کی تو ذرا سی تعظیم بھی کفر ہے، اس لیے کہ ان کی تعظیم مشرکین کی خاص نشانی ہے مثلاً ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی قبر یا کسی ولی یا نبی کی قبر پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو، اور دوسرا شخص کسی بت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو تو دوسرے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہ رہے گا، لیکن پہلے شخص کی نیت معلوم کی جائے گی، اگر عبادت کی نیت سے اس نے ایسا کیا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا، اور جو صرف ادب اور تعظیم میں ایسا کیا لیکن عقیدہ اس کا توحید کا ہے، تو وہ کافر نہ ہوگا مگر شرع کے خلاف کرنے پر اس کو اس سے منع کیا جائے گا۔ اکثر علماء محققین نے اس فرق کو مانا ہے، اور بعضوں نے اس باب میں دونوں کا حکم ایک سا رکھا ہے جو فعل ایک کے ساتھ کفر ہے وہ دوسرے کے ساتھ بھی کفر ہے، مثلاً بت کا سجدہ بھی کفر ہے اور قبر کا سجدہ بھی کفر ہے البتہ فرق یہ ہے کہ بت کی اہانت و تذلیل اور اس کے توڑنے کا حکم ہے، اور مومنین صالحین کی قبریں کھودنے کا حکم نہیں ہے اور یہ فرقہ کہتا ہے کہ انبیاء، اولیاء، ملائکہ اور شعائر اللہ کی تعظیم درحقیقت اللہ کی ہی تعظیم ہے کیونکہ اللہ ہی کے حکم سے اللہ کا مقبول بندہ سمجھ کر اس کی تعظیم کرتے ہیں، پس یہ غیر اللہ کی تعظیم نہیں ہوئی بلکہ صلحاء کی تعظیم ہوئی، وہ اس میں مستثنیٰ رہے گی، اس لیے کہ وہ اللہ ہی کی تعظیم ہے۔ اس فائدہ کو یاد رکھنا چاہیے اور ممکنہ حد تک جس کام میں شرک شک و شبہ بھی ہو اسے باز رہنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ١١ (٣٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٣) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق مختلط ومدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: ٨/١٩٢ )
ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ١ ؎۔
It was narrated that Thâbit bin Ad-Dahhâk said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever takes an oath to follow a religion other than Islam, telling a deliberate lie, he will be as he said.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً یوں کہا : اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں، یا نصرانی ہوں، یا اسلام سے یا نبی سے بری ہوں۔ اور اس کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا، اور اسلام سے نکل جائے گا، ظاہر حدیث کا یہی مطلب ہے، واضح رہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اتنی سختی سے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ ایسا کہنے سے بچیں، ورنہ اگر اس کا عقیدہ اسلام کا ہے تو کافر نہ ہوگا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں ایسا کروں تو یہودی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس پر یہ قسم واجب ہوگئی ۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ heard a man say: "If that happens, I will be a Jew." The Messenger of Allah ﷺ said: That is guaranteed." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٠، ومصباح الزجاجة: ٧٣٧) (ضعیف جدا) ( سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد اللہ بن محرر منکر الحدیث اور متروک ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father told that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever says: I have nothing to do with Islam: if he is lying then he is as he said, and if he is telling the truth, his Islam will not be sound." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس نے اسلام کی عظمت تسلیم نہیں کی، اور دین کو ایسا حقیر سمجھا کہ بات بات پر اس سے جدا ہوجانے کی شرط لگاتا ہے، مسلمان کو ہرگز ایسی شرط نہ لگانی چاہیے، گو وہ کتنا ہی بڑا کام ہو، اپنا دین سب سے زیادہ پیارا ہے، اور سب پر مقدم ہے، کوئی کام ہو یا نہ ہو، دین کی شرط لگانے سے کیا فائدہ؟ اور حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو کوئی ایسی شرط لگائے، پھر اس میں سچا بھی ہو جب بھی گنہگار ہوگا، اور اس کے دین میں خلل آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٩ (٣٢٥٨)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ heard a man taking an oath by his father and said: Do not make oaths by your forefathers. Whoever makes an oath by Allah, let him fulfill his oath, and if an oath is sworn for a person by Allah, let him accept it. Whoever is not content with Allah has nothing to do with Allah:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان نے اللہ کی قسم کھائی، تو اب اس کے بیان کو مان لینا اور اس پر رضا مند ہوجانا چاہیے، اب اس سے یوں نہ کہنا چاہیے کہ تمہاری قسم جھوٹی ہے، یا اللہ کے سوا اب کسی اور شخص کی اس کو قسم نہ کھلانی چاہیے، جیسے جاہلوں کا ہمارے زمانہ میں حال ہے کہ اللہ کی قسم کھانے پر ان کی تسلی نہیں ہوتی، اور اس کے بعد پیر و مرشد یا نبی و رسول یا کعبہ یا ماں باپ کی قسم کھلاتے ہیں، یہ نری حماقت اور سراسر جہالت ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر بھی کوئی نہیں ہے، سب سے زیادہ مومن کو اللہ کے نام کی حرمت و عزت اور عظمت کرنی چاہیے، اور احتیاط رکھنی چاہیے کہ اول تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم ہی نہ کھائے، اور اگر عادت کے طور پر اور کسی کے نام کی قسم نکل جائے اور جھوٹ اور غلط ہوجائے تو فوراً لا إِلَهَ إِلا الله کہے یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں عظمت و احترام کے لائق نہیں جانتا غیر کے الفاظ تو یونہی سہواً یا عادتاً میرے زبان سے نکل گئے تھے، مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ کے نام کی کبھی جھوٹی قسم نہ کھائے، اگر پیر، رسول، نبی، مرشد، ولی، غوث اور قطب وغیرہ کے نام پر لاکھوں قسمیں جھوٹ ہوجائیں تو اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کے نام کی ایک قسم جھوٹ ہونے سے ہے، یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کہ جب وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اب زیادہ تکلیف ان کو نہ دی جائے کہ وہ کسی اور کے نام کی بھی قسم کھائیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Eisa bin Maryam saw a man stealing and said: Did you steal? He said: No, by the One besides Whom there is no other God: Eisa said: I believe in Allah, and I do not believe what my eyes see:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی عظمت کے سامنے میری آنکھ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ممکن ہے کہ مجھ کو دھوکا ہوا ہو، آنکھ نے دیکھنے میں غلطی کی ہو، لیکن یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ مسلمان کی قسم کو جھٹلاؤں، ہمیشہ صالح، نیک اور بزرگ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مسلمان ان کے سامنے قسم کھا لیتا ہے تو ان کو یقین آجاتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “An oath (leads to) either sin or regret.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ قسم اکثر ان دونوں باتوں سے خالی نہیں ہوتی، آدمی اکثر غصے میں بےسوچے سمجھے قسم کھا بیٹھتا ہے کہ فلانی چیز نہ کھائیں گے، یا فلانے سے بات نہ کریں گے، پھر ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ قسم توڑنی پڑتی ہے، اور جب توڑے تو کفارہ دینا پڑا، مال بےفائدہ خرچ ہوا، اور ندامت اور شرمندگی بھی ہوئی، اگر نہ توڑا تو بھی ندامت ہوئی کہ قسم کی وجہ سے ایک لذت سے محروم رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٤، ومصباح الزجاجة: ٧٣٩) (ضعیف) (سند میں بشار بن کدام ضعیف راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور إن شاء الله کہا، تو اس کا إن شاء الله کہنا اسے فائدہ دے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever swears an oath and says In sha Allah, he will have made an exception.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فائدہ یہ ہوگا کہ اگر قسم کے خلاف بھی کرے تو کفارہ لازم نہ ہوگا، اور آدمی جھوٹا نہ ہوگا، اس لئے کہ اس کی قسم اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر معلق تھی، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہ چاہا تو اس نے قسم کے خلاف عمل کیا، یہ قسم کے کفارے سے بچنے کا عمدہ طریقہ ہے، صحیحین میں ہے کہ سلیمان بن داود (علیہما الصلاۃ والسلام) نے فرمایا: میں آج کی رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا، اخیر حدیث تک، اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو ان کی بات غلط نہ ہوتی، اور جمہور کا مذہب ہے کہ جب قسم میں إن شاء الله لگا دے تو وہ منعقد نہ ہوگی، یعنی توڑنے میں کفارہ واجب نہ ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ إن شاء الله قسم کے ساتھ ہی کہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان والنذور ٧ (١٥٣٢)، سنن النسائی/الإیمان والنذور ٤٢ (٣٨٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور إن شاء الله کہا، تو وہ چاہے قسم کے خلاف کرے، یا قسم کے موافق، حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہوگا ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears an oath and says In sha Allah, if he wishes he may go ahead and if he wishes he may not, without having broken his oath." (Sahih)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ تم کو دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آگئے، تو آپ ﷺ نے ہمارے لیے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواری مانگنے گئے تو آپ نے قسم کھالی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر ہم کو سواری دی؟ چلو واپس آپ کے پاس لوٹ چلو، آخر ہم آپ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھالی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر آپ نے ہم کو سواری دے دی، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تم کو سواری نہیں دی ہے بلکہ اللہ نے دی ہے، اللہ کی قسم! انشاء اللہ میں جب کوئی قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں، تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں یا یوں فرمایا: جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں، اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Burdah that his father Abu Musa said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ with a group of Asharites and asked him to give us animals to ride. He said: By Allah, I cannot give you anything to ride, and I have nothing to give you to ride. We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him, He ordered that we be given three she-camels with fine humps. When we left, we said to one another: We came to the Messenger of Allah ﷺ to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something. Let us go back. So we went to him and we said: O Messenger of Allah ﷺ We came to you seeking mounts, and you took an oath that you would not give us mounts, then you gave us some mounts. He said: By Allah, I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. I, by Allah, if Allah wills, do not swear and then see something better than it, but I offer expiation for what I swore about, and do that which is better. Or he said: I do that which is better and offer expiation for what I swore about." (Sahih)
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے ۔
It was narrated from Adi bin Hatim that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better that it, Jet him do that which is better and offer expiation for what he Swore about. " (Sahih)
مالک جشمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ١ ؎۔
It was narrated from Abul-Ahwas Awf bin Malik AI-Jushami that his father said: "I said:. a Messenger of AlIah, my cousin comes to me and I swear that I will not give him anything or uphold the ties of kinship with him.` He said: Offer expiation for what you swore about." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور یہ قسم کے خلاف بہتر کام ہے لہذا قسم کو توڑ دو، اور اس کا کفارہ ادا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ١٥ (٣٨١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٦، ١٣٧) (صحیح )