قسم اٹھالی پھر خیال ہوا کہ اس کے خلاف کرنابہتر ہے تو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.
مالک جشمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ١ ؎۔
It was narrated from Abul-Ahwas Awf bin Malik AI-Jushami that his father said: "I said:. a Messenger of AlIah, my cousin comes to me and I swear that I will not give him anything or uphold the ties of kinship with him.` He said: Offer expiation for what you swore about." (Sahih)