کفاروں کا بیان۔

Sunan Ibne-Majah · Chapter 13 · 47 hadiths · Page 2 of 3

2110Sunan Ibne-Majah

نامناسب قسم کا کفارہ اس نامناسب کام کو نہ کرنا ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said. "Whoever takes an oath to cut off the ties of kinship, or to do something that is not nght, the fulfillment of his vow is not to do that." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩، ومصباح الزجاجة: ٧٤٠) (صحیح) (سند میں حارثہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مشکل الآثار ١ /٢٨٧، میں قوی شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٣٤ )
2111Sunan Ibne-Majah

نامناسب قسم کا کفارہ اس نامناسب کام کو نہ کرنا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَتْرُكْهَا، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said that the Prophet ﷺ said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him not do it, and his leaving it is the expiation for it." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٦٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٥ (٣٢٧٤)، سنن النسائی/الأیمان ١٦ (٣٨٢٣)، مسند احمد (٢/٢١٢) (منکر) (سند میں عون بن عمارہ منکر الحدیث راوی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: ٧ / ١٦٨، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٦٥ )
2112Sunan Ibne-Majah

قسم کے کفارہ میں کتناکھلائے۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنْالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ النَّاسَ بِذَلِكَ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ offered expiation of a sa of dates, and he enjoined the people to do likewise. Whoever does not have that (must give) half a sa of wheat." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: صاع: تقریبا ڈھائی کلو کا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٦، ومصباح الزجاجة: ٧٤٢) (ضعیف) (سند میں عمر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں )
2113Sunan Ibne-Majah

قسم کے کفارہ میں میانہ روی کے ساتھ کھلانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ، فَنَزَلَتْ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ سورة المائدة آية 89.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: من أوسط ما تطعمون أهليكم مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man would give his family food that was abundant and another would give his family food that was barely sufficient, then the following was revealed: With the Awsat of that with which you feed your families …." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥١٨، ومصباح الزجاجة: ٧٤٣) (صحیح الإسناد )
2114Sunan Ibne-Majah

اپنی قسم پر اصرار کرنے اور کفارہ نہ دینے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَلَجَّ أَحَدُكُمْ فِي الْيَمِينِ، فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوَحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ اللہ کے رسول ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اصرار کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گنہگار ہوگا، جس کی ادائیگی کا اسے حکم دیا گیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Hammam heard Abu Hurairah (RA) saying that Abul-Qasirn said: "If anyone of you insists on fulfilling what he swore to (after learning that it is wrong) then it is more sinful before Allah than (breaking the oath for which) the expiation that has been enjoined upon him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کفارہ ہمیشہ گناہ کا ہوتا ہے، تو قسم کا توڑنا بھی ایک گناہ ہے، اس لئے کہ اس میں اللہ کے نام کی بےحرمتی ہے، اسی کے نام پر کفارہ مقرر ہوا ہے، لیکن بری قسم کا نہ توڑنا، توڑنے سے زیادہ گناہ ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ١ (٦٦٢٥)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٥)، مسند احمد (٢/٢٧٨، ٣١٧) (صحیح ) صحیح البخاری/ الإیمان والنذور ١ (٦٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٦ )
2115Sunan Ibne-Majah

قسم کھانے والوں کو قسم پوری کرنے میں مدد دینا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to help fulfill the oath." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٣٩)، المظالم ٥ (٢٤٤٥)، النکاح ٧١ (٥١٧٥)، الأشربة ٣٨ (٥٦٣٥)، المرضی ٤ (٥٦٥٠)، اللباس ٣٦ (٥٨٤٩)، ٤٥ (٥٨٦٣)، الأدب ١٢٤ (٥٨٤٩)، الاستئذان ٨ (٦٢٣٥)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٦)، سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٩)، سنن النسائی/الجنائز ٥٣ (١٩٤١)، الأیمان ١٢ (٣٨٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٧، ٢٩٩) (صحیح )
2116Sunan Ibne-Majah

قسم کھانے والوں کو قسم پوری کرنے میں مدد دینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِأَبِي نَصِيبًا فِي الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتَنِي، قَالَ: أَجَلْ فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ فُلَانًا، وَالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَجَاءَ بِأَبِيهِ لِتُبَايعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَمَسَّ يَدَهُ، فَقَالَ: أَبْرَرْتُ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ: يَعْنِي لَا هِجْرَةَ مِنْ دَارٍ قَدْ أَسْلَمَ أَهْلُهَا.

عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس ؓ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس ؓ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کرلیں ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس ؓ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔

It was narrated from Mujahid, that Abdur-Rahman bin Safwan, or Safwiin bin Abdur-Rahman Al-Qurashi said: "On the Day of the conquest of Makkah, he came with his father and he said: O Messenger of Allah, give my father a share of Hijrah. He said: There is no Hijrah. Then he went away and entered upon Abbas and said: Do you know who I am? He said: Yes. Then Abbas went out, wearing a shirt and no upper wrap, and said: 0 Messenger of Allah, do you know so-and-so with whom we have friendly ties? He brought his father to swear an oath of allegiance (i.e., promise) to emigrate. The Prophet ﷺ said: There is no Hijrah:" Abbas said: I adjure you to do it. The Prophet ﷺ stretched forth his hand and touched his hand, and said: I have fulfilled the oath of my uncle, but there is no Hijrah. (Daif) Another chain with similar wording. Yazid bin Abu Ziyad said: "Meaning: There is no Hijrah from a land whose people have accepted Islam.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرے اور آپ کے درمیان جو دوستی ہے، اب اس کا حق ادا کیجیے، اور ہجرت کا ثواب دلوائیے۔ یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ اس شہر سے ہجرت نہیں جس کے رہنے والے مسلمان ہوگئے ہوں۔ اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد نے ایسے ہی روایت کی ہے، اور سند دونوں کی ایک ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٤، ومصباح الزجاجة: ٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٠) (ضعیف) (سند میں یزید بن آبی زیاد ضعیف راوی ہیں )
2117Sunan Ibne-Majah

ماشاء اللہ وشئت (جو اللہ اور آپ چاہیں) کہنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو ما شاء الله وشئت جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: ما شاء الله ثم شئت جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you swears an oath, let him not say: What Allah wills and what you will. Rather let him say: What Allah wills and then what you will. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ اس میں مخاطب کو اللہ کے ساتھ کردیا ہے جس سے شرک کی بو آتی ہے، اگرچہ مومن کی نیت شرک کی نہیں ہوتی پھر بھی ایسی بات کہنی جس میں شرک کا وہم ہو منع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٤، ٢٨٣، ٣٤٧) (حسن صحیح )
2118Sunan Ibne-Majah

ماشاء اللہ وشئت (جو اللہ اور آپ چاہیں) کہنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: فَقَالَ: نِعْمَ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْالطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے) ۔ لہٰذا تم ما شاء الله ثم شاء محمد جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ١ ؎۔

It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that a Muslim man saw in a dream that he met a man from among the People of the Book, who said: "What good people you would be if only you were not committing Shirk. For you say: What Allah wills and Muhammad wills." He mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: "By Allah, I am aware of that. Say: What Allah wills then what Muhammad wills. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہوجائے۔ اس سند سے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ ؓ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تجفة الأشراف: ٣٣١٨، ومصباح الزجاجة: ٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣٩٣٥) (صحیح ) تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٩٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٢، ٣٩٨ )
2119Sunan Ibne-Majah

قسم میں توریہ کرلینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا، فَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي، فَقَالَ: صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ.

سوید بن حنظلہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر ؓ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔

It was narrated that Suwaid bin Hanzalah said: "We went out looking for the Messenger of Allah ﷺ , and Wail bin Hujr was with us.An enemy of his seized him and the people were reluctant to swear an oath but I swore that he was my brother, so they set him free. We came to the Messenger of Allah ﷺ and I told him that the people had been reluctant to swear an oath, but I had sworn that he was my brother. He said: You told the truth. The Muslim is the brother of his fellow Muslim. (Hasan) ,

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٨ (٣٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (قصہ کے تذکرہ کے ساتھ یہ ضعیف ہے لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے )
2120Sunan Ibne-Majah

قسم میں توریہ کرلینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The oath is only according to the intention of the one who requests the oath to be taken." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہوگا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہوگا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہوگی۔ امام احمد (رح) کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٤ (١٦٥٣)، سنن ابی داود/الأیمان ٧ (٣٢٥٥)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح )
2121Sunan Ibne-Majah

قسم میں توریہ کرلینا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہوگی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Your oath is as your companion understands it to be." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث بھی اس مقام پر محمول ہے کہ معاملات میں آدمی قسم کھائے تو قسم دینے والے کے مطلب پر ہوگی، جیسے اگلی حدیث ہے۔
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (صحیح )
2122Sunan Ibne-Majah

منت ماننے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ اللَّئِيمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade vows and said: They are just a means of taking wealth from the miserly. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم ﷺ نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨)، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣)، صحیح مسلم/النذور ٢ (١٦٣٩)، سنن ابی داود/الایمان ٢١ (٣٢٨٧)، سنن النسائی/الایمان ٢٤ (٣٨٣٢، ٣٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١٨)، سنن الدارمی/النذور ٥ (٢٣٨٥) (صحیح )
2123Sunan Ibne-Majah

منت ماننے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ النَّذْرَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَيْءٍ إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ وَلَكِنْ يَغْلِبُهُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَهُ، فَيُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُيَسَّرُ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُيَسَّرُ عَلَيْهِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کردیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آجاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کردی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Vows do not bring the son of Adam anything unless it has been decreed for him. But he is dominated by Divine preordainment, and will get what is decreed for him, And (vows) are a means of making the miser give something, so what he desires becomes obtainable for him, which was not obtainable before his vow. And Allah says: Spend, I will spend on you: (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٤٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن الترمذی/الأیمان ١٠ (١٥٣٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٦)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )
2124Sunan Ibne-Majah

معصیت کی منت ماننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah ﷺ said "[There is no vow to commit disobedience and no vow concerning that which the san of Adam does not possess. " (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً دوسرے کے غلام آزاد کرنے کی نذر کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النذر ٣ (١٦٤١)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٨ (٣٣١٦)، سنن النسائی/الأیمان ٣٠ (٣٨٤٣)، ٤١ (٣٨٨٠)، (تحفة الأشرف: ١٠٨٨٤، ١٠٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٤) (صحیح )
2125Sunan Ibne-Majah

معصیت کی منت ماننا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no vow to commit disobedience, and the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath,"(Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٢ (٣٢٩٠، ٣٢٩١)، سنن الترمذی/الایمان ٢ (١٥٢٤)، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٨ (٦٦٩٦)، ٣١ (٦٧٠٠)، موطا امام مالک/النذور ٤ (٨)، مسند احمد (٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤)، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٣) (صحیح )
2126Sunan Ibne-Majah

معصیت کی منت ماننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him,"(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: آیت کریمہ: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ (سورة الإنسان: 7) سے مراد یہی اطاعت کی نذر ہے، طبری نے باسناد صحیح قتادہ سے آیت کریمہ:يُوفُونَ بِالنَّذْرِ کی تفسیر نقل کی ہے کہ اگلے لوگ صوم، صلاۃ، زکاۃ، حج و عمرہ اور فرائض کی نذر کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ابرار کہا، اور احمد، ابوداود نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نذر صرف وہی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان والنذور ٢٨ (٦٦٩٦)، ٣١ (٦٧٠٠)، سنن ابی داود/الإیمان والنذور ٢٢ (٣٢٨٩)، سنن الترمذی/النذور الإیمان ٢ (١٥٢٦)، سنن النسائی/الإیمان والنذور ٢٦ (٣٨٣٧)، ٢٧ (٣٨٣٨، ٣٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور (٨)، مسند احمد (٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٣) (صحیح )
2127Sunan Ibne-Majah

جس نے نذر مانی لیکن اسکی تعین نہ کی (کہ کس بات پر منت مان رہا ہے؟)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النذر ٥ (١٦٤٥)، سنن ابی داود/الأیمان ٣١ (٣٣٢٣)، سنن الترمذی/الأیمان ٤ (١٥٢٨)، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٣)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح) دون قولہ اذا لم یسمّہ من غیر ھذا السند وأما ھذا السند فضعیف لأجل إسماعیل بن رافع (ملاحظہ ہو: إلارواء: ٢٥٨٦ )
2128Sunan Ibne-Majah

جس نے نذر مانی لیکن اسکی تعین نہ کی (کہ کس بات پر منت مان رہا ہے؟)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath, Whoever makes a vow and is not able to fuIfill it, the expiation for that is the expiation for breaking an oa tho Whoever makes a vow and is able to fulfill it, let him do so," (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٣٠ (٣٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٦٣٤١) (ضعیف جدا) (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے جو کذابین سے تدلیس کرتا تھا، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨ / ٢١١ )
2129Sunan Ibne-Majah

منت پوری کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا أَسْلَمْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated that "Umar bin Khattab said: "I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet ﷺ (about it) after I became Muslim, He told me to fulfill my vow," (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کافر یا مشرک حالت شرک و کفر میں کسی نیک کام کی نذر مانے جیسے اعتکاف یا صدقہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد اسلام لے آئے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٥ (٢٠٣٢)، ١٥ (٢٠٤٢)، ١٦ (٢٠٤٣)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، سنن ابی داود/الصوم ٨٠ (٢٤٧٤)، الأیمان ٣٢ (٣٣٢٥)، سنن الترمذی/الأیمان ١١ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الأیمان ٣٥ (٣٨٥١)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧، ٢/٢٠، ٨٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النذور ١ (٢٣٧٨) (صحیح )