Sunan Ibne-Majah 2122

کفاروں کا بیان۔

2122Sunan Ibne-Majah

منت ماننے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ اللَّئِيمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade vows and said: They are just a means of taking wealth from the miserly. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم ﷺ نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨)، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣)، صحیح مسلم/النذور ٢ (١٦٣٩)، سنن ابی داود/الایمان ٢١ (٣٢٨٧)، سنن النسائی/الایمان ٢٤ (٣٨٣٢، ٣٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١٨)، سنن الدارمی/النذور ٥ (٢٣٨٥) (صحیح )