عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." He said: "Do you intend any action of Ignorance period?" He said: "No," He said: "Then fulfill your vow." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مکہ کے نشیب میں یا ینبوع کے پیچھے ایک جگہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بت یا قبر جس کی لوگ پوجا کریں، اس پر ذبح کرنا جائز نہیں، اور جو جانور اولیاء اللہ کی قبروں پر ذبح کئے جاتے ہیں اور انہی کے نام پر پالے جاتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے، اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، کیونکہ مقصود ان کے ذبح کرنے سے غیر اللہ کی تعظیم ہے، تو وہ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ (سورة البقرة: 173) میں سے ہوا۔
میمونہ بنت کردم یساریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کی، وہ اس وقت اپنے والد کے پیچھے ایک اونٹ پر بیٹھی تھیں، والد نے کہا: میں نے مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہاں کوئی بت ہے ؟ کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۔
It was narrated from Maimunah bint Kardam AlYasâriyyah that her father met the Prophet ﷺ when she was riding behind him. He said: “I vowed to offer a sacrifice at Buwânah.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Is there any idol there?” He said: “No.” He said: “Fulfill your vow." (Hasan) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ٧٥١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأیمان ٢٧ (٣٣١٤)، مسند احمد (٦/٣٦٦) (صحیح )
اس سند سے بھی میمونہ بنت کردم ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٢) (یزید بن مقسم نے میمونہ سے نہیں سنا ہے، اس لئے اس میں انقطاع ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مرگئیں، اور اس کو ادا نہ کرسکیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Sad bin Ubadahh asked the Messenger of Allah ﷺ about a vow which his mother had made, but she had died without fulfilling it. The Messenger of Allah ﷺ said: "Fulfill it on her behalf." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہوگیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "My mother has died, and she had made a vow to fast, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah ﷺ said. Let her guardian fast on her behalf." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ ہو یا نماز اس کا ولی رکھ سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک عورت کو جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور وہ مرگئی تھی، حکم دیا کہ تم اس کی طرف سے پڑھ لو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٥٤) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٠٧٧ )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور پیدل چل کر حج کے لیے جائیں گی، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ سوار ہوجائے، دوپٹہ اوڑھ لے، اور تین دن کے روزے رکھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Ar-Ru aini that Abdullah bin Malik told him, that Uqbah bin Amir told him, that his sister vowed to walk, barefoot and bareheaded, and he mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ He said. "Order her to ride and to cover her head, and to fast for three days." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قسم کو توڑ دے، اور بطور کفارہ تین دن کے روزے رکھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣، ٣٢٩٤)، سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٢ (٣٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ٤/ ١٤٥، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (سند میں عبید اللہ بن زحر ضعیف راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: بوڑھے سوار ہوجاؤ، اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بےنیاز ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said. "The Prophet ﷺ saw an old man walking between his two sons, and he said. What is the matter with him? His sons said: A vow, O Messenger of Allah. He said. Let this old man ride, for Allah has no need of you or your vow. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النذ ر ٤ (١٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٣)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دھوپ میں کھڑا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھے گا، اور رات تک سایہ میں نہیں رہے گا، اور نہ بولے گا، اور برابر کھڑا رہے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو چاہیئے کہ بولے، سایہ میں آجائے، بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ passed by a man in Makkah who was standing in the sun. He said. "What is this?" They said. "He vowed to fast and not to seek shade until night comes, and not to speak, and to remain standing." He said: "Let him speak and seek shade, and let him sit down, but let him complete his fast." (Sahih) Another chain from Ibn Abbas, from the Prophet ﷺ , with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس شخص نے بری اور اچھی دونوں کو ملا کر نذر کی تھی جیسے روزہ جس کا رکھنا ایک اچھا اور ثواب کا کام ہے، لیکن کسی سے بات نہ کرنا یہ لغو اور بےکار چیز ہے، بلکہ گناہ ہے، تو آپ ﷺ نے بری باتوں کو ختم کردیا، اور اچھی بات کے پورا کرنے کا حکم دیا۔
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔ واللہ اعلم۔