Sunan Ibne-Majah 2114

کفاروں کا بیان۔

2114Sunan Ibne-Majah

اپنی قسم پر اصرار کرنے اور کفارہ نہ دینے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَلَجَّ أَحَدُكُمْ فِي الْيَمِينِ، فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوَحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ اللہ کے رسول ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اصرار کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گنہگار ہوگا، جس کی ادائیگی کا اسے حکم دیا گیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Hammam heard Abu Hurairah (RA) saying that Abul-Qasirn said: "If anyone of you insists on fulfilling what he swore to (after learning that it is wrong) then it is more sinful before Allah than (breaking the oath for which) the expiation that has been enjoined upon him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کفارہ ہمیشہ گناہ کا ہوتا ہے، تو قسم کا توڑنا بھی ایک گناہ ہے، اس لئے کہ اس میں اللہ کے نام کی بےحرمتی ہے، اسی کے نام پر کفارہ مقرر ہوا ہے، لیکن بری قسم کا نہ توڑنا، توڑنے سے زیادہ گناہ ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ١ (٦٦٢٥)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٥)، مسند احمد (٢/٢٧٨، ٣١٧) (صحیح ) صحیح البخاری/ الإیمان والنذور ١ (٦٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٦ )