منت پوری کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا أَسْلَمْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي.
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated that "Umar bin Khattab said: "I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet ﷺ (about it) after I became Muslim, He told me to fulfill my vow," (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کافر یا مشرک حالت شرک و کفر میں کسی نیک کام کی نذر مانے جیسے اعتکاف یا صدقہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد اسلام لے آئے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٥ (٢٠٣٢)، ١٥ (٢٠٤٢)، ١٦ (٢٠٤٣)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، سنن ابی داود/الصوم ٨٠ (٢٤٧٤)، الأیمان ٣٢ (٣٣٢٥)، سنن الترمذی/الأیمان ١١ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الأیمان ٣٥ (٣٨٥١)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧، ٢/٢٠، ٨٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النذور ١ (٢٣٧٨) (صحیح )