Sunan Ibne-Majah 2096

کفاروں کا بیان۔

2096Sunan Ibne-Majah

ماسوا اللہ (کی ذات کے) کے قسم کھانے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي يَمِينِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا إله إلا الله کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever takes an oath, and swears, saying: ‘By Al-Lât and Al-’Uzza,’ let him say: ‘La ilaha illallah .’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: لات اور عزی دو بڑے بت تھے جن کی زمانہ جاہلیت میں عرب عبادت کرتے تھے، واضح رہے اگر بےاختیار عادت کے طور پر ان کا نام نکل جائے اور دل میں ان کی کوئی تعظیم نہ ہو تو آدمی کافر نہ ہوگا، اگر تعظیم کی نیت سے کہا تو وہ کافر و مرتد ہے، اس پر دوبارہ اسلام لانا واجب ہے (لمعات التنقیح)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، الادب ٧٤ (٦١٠٧)، الاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، الأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٧)، سنن ابی داود/الایمان ٤ (٢٣٤٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٧ (١٥٤٥)، سنن النسائی/الأیمان ١٠ (٣٨٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )