ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ ؓ کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم ﷺ کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ ﷺ فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ ﷺ نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء (غلام یا لونڈی کی میراث) اس کا ہے جو آزاد کرے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Three Sunan were established because of Barirah: She was given the choice (of whether to remain married) when she was freed, and her husband was a slave; they used to give her charity and she used to give it as a gift to the Prophet ﷺ and he would say: It is charity for her and a gift for us, and he said, the Wald is for the one who set the slave free." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب بریرہ ؓ کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The divorce of a slave woman is twice, and her waiting period is two menstrual cycles." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٣٣) (ضعیف) (سند میں ضعف کا سبب عطیہ العوفی ہیں، جو ضعیف ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the prophet ﷺ said: "The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles." Abu Asim said: "I mentioned this to Muzahir and said: Tell me what you told Ibn Juraij. So he told me, narrating from Qasim from Aisha (RA) , that the Prophet ﷺ said: The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles. (Daif)
ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے قاسم عن عائشہ کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٩)، سنن الترمذی/الطلاق ٧ (١١٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (ضعیف) (سند میں مظاہر بن أسلم ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کردیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my master married me to his slave woman, and now he wants to separate me and her. The Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H ascended the pulpit and said: O people, what is the matter with one of you who marries his slave to his slave woman, then wants to separate them? Divorce belongs to the one who takes hold of the calf (i.e., her husband). (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اس سے صحبت کرتا ہو یعنی شوہر کے اختیار میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢١٩، ومصباح الزجاجة: ٧٣٤) (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہوجائیں، کیا وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں، کرسکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔
It was narrated that Abul Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: "Ibn Abbas was asked about a slave who divorces his wife twice, then (they are freed). Can he marry her? He said: Yes: It was said to him: On what basis? He said: The Messenger of Allah ﷺ passed such a judgement:" (Daif) (One of the narrators) Abdur-Razzaq said: "Abdullah bin Al-Mubarak said: This Abul Hasan loaded a tremendous boulder upon his neck:"
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٧، ٢١٨٨)، سنن النسائی/الطلاق ١٩ (٣٤٥٧، ٣٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٣٤) (ضعیف) (عمر بن معتب ضعیف راوی ہیں )
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی محمد ﷺ کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin As said: "Do not corrupt the Sunnah of our Prophet ﷺ Muhammad ﷺ . The waiting period of an Umm Walad is four months and ten (days): (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد وہ لونڈی جو اپنے مالک کا بچہ جنے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب ام ولد کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، گویا یہ عدت میں مثل آزاد کے ہے، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٨ (٢٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٢٠٣) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مرگیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے ١ ؎۔
It was narrated from Humaid bin Nafay? that he heard Zainab the daughter of Umm Salamah narrating that she heard Umm Salamah and Umm Habibah mention that a woman caine to the Prophet ﷺ and said that her daughter’s husband had died, and she was suffering from an eye disease, and she wanted to apply kohl to her eyes (as a remedy). The Messenger of Allah ﷺ said: “One of you would throw ashe-camels dropping when a year had passed )Sinee the death of her husband). Rather it is four months and ten (days)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک خراب اور تنگ کوٹھری میں چلی جاتی، اور برے سے برے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو لگاتی نہ زینت کرتی، کامل ایک سال تک ایسا کرتی، جب سال پورا ہوجاتا تو ایک اونٹنی کی مینگنی لاتی، عورت اس کو پھینک کر عدت سے باہر آتی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں تو ایسی سخت تکلیف ایک سال تک سہتی تھیں، اب صرف چار مہینے دس دن تک عدت رہ گئی ہے، اس میں بھی زیب و زینت سے رکنا مشکل ہے، امام احمد اور اہلحدیث کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا کسی طرح جائز نہیں اگرچہ عذر بھی ہو، اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک عذر کی وجہ سے جائز ہے، بلاعذر جائز نہیں، اور شافعی نے کہا رات کو لگالے اور دن کے وقت اس کو صاف کر ڈالے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس عورت کا شوہر مرجائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ میں رہے، یعنی زیب و زینت نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٤٦ (٥٣٣٦)، ٤٧ (٥٣٣٨)، الطب ١٨ (٥٧٠٦)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٣ (٢٢٩٩)، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠)، ٦٧ (٣٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٦ و ١٨٢٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "It is not pennissible for a woman to mourn for any deceased person for more than three days, except for her husband." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩١)، سنن النسائی/الطلاق ٥٨ (٣٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/٣٧، ١٤٨، ٢٤٩)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٢٩) (صحیح )
ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔
It was narrated from Hafsah the wife of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any eceased person for more than three days, except for her husband.”(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١٨٤، ٢٨٦، ٢٨٧) (صحیح )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار (خوشبو) لگالے ١ ؎۔
It was narrated from Umin ‘Atiyyah that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘No deceased person should be mourned for more than three days, except a woman should mourn for her husband for four months and ten days, and she should not wear dyed clothes, except for a garment of ‘Mb, and she should not wear kohl or perfume, except at the beginning of her purity)’ when she may apply a little Qust and Azffir.’”121 (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چناچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "I had a wife whom I loved, but my father hated her, Umar mentioned that to the Prophet ﷺ and he ordered me to divorce her, so I divorced her." (Hasan)
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء ؓ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء ؓ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahrnan that a mans father or mother - Shubah (one of the narrators) was not sure -ordered him to divorce his wife, and he made a vow that he would free one hundred slaves if he did that He came to Abu Darda while he was praying the Ouha, and he was making his prayer lengthy, and he prayed between Zunr and Asr. Then he asked him, and Abu Darda said: "Fulfill your vow and honor your parents," Abu Ad-Darda said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: (Honoring) ones father may lead one to enter through the best of the gates of Paradise; so take care of your parents, (it is so, whether you take care of them) or not" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت ایسی عمدہ چیز ہے، جن کی اطاعت سے جنت ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جنت کی آدمی کو کتنی فکر ہونی چاہیے، پس ویسے ہی ماں باپ کی اطاعت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر و الصلة ٣ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧، ٦/٤٤٥، ٤٤٧، ٤٥١) (صحیح )