Sunan Ibne-Majah 2086

طلاق کا بیان

2086Sunan Ibne-Majah

کیا عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پہ سوگ کرسکتی ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔

It was narrated from Hafsah the wife of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any eceased person for more than three days, except for her husband.”(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١٨٤، ٢٨٦، ٢٨٧) (صحیح )