اس شخص کا بیان جو لونڈی کو دو طلاقیں دے کر پھر خرید لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقَا يَتَزَوَّجُهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: عَمَّنْ، قَالَ: قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: لَقَدْ تَحَمَّلَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا صَخْرَةً عَظِيمَةً عَلَى عُنُقِهِ.
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہوجائیں، کیا وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں، کرسکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔
It was narrated that Abul Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: "Ibn Abbas was asked about a slave who divorces his wife twice, then (they are freed). Can he marry her? He said: Yes: It was said to him: On what basis? He said: The Messenger of Allah ﷺ passed such a judgement:" (Daif) (One of the narrators) Abdur-Razzaq said: "Abdullah bin Al-Mubarak said: This Abul Hasan loaded a tremendous boulder upon his neck:"