Sunan Ibne-Majah 669

نماز کا بیان

669Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي: مِنَ الْغَلَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The believing women used to perform the Subh prayer with the Prophet ﷺ , then they would go back to their families and no one would recognize them,” meaning because of the darkness. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہیے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن النسائی/المواقیت ٢٤ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، المواقیت ٢٧ (٥٧٨)، الأذان ١٦٣ (٧٦٧)، ١٦٥ (٨٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢ (١٥٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠ (١٢٥٢) (صحیح )