نماز فجر کا وقت
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَذِهِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ.
مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کے ساتھ صبح کی نماز غلس (آخر رات کی تاریکی) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر ؓ کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ، اور ابوبکرو عمر ؓ کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر ؓ کو نیزہ مار کر زخمی کردیا گیا تو عثمان ؓ نے اسے اسفار (اجالے) میں پڑھنا شروع کردیا ١ ؎۔
Mughith bin Sumayi said : I prayed the Subh with ‘Abdullâh bin Zubair in the darkness, and when he said the Taslim, I turned to Ibn ‘Umar and said: ‘What is this prayer?’ He said: ‘This is how we prayed with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr (RA) and ‘Umar. When ‘Umar was stabbed, ‘Uthmân delayed it until there was light.” (Sahih)