Sunan Ibne-Majah 682

نماز کا بیان

682Sunan Ibne-Majah

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانيُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا، چناچہ (نماز پڑھ کر) کوئی شخص عوالی ١ ؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr when the sun was still hot and high, and if a person were to go to the suburbs (of Al-Madinah) he would be able to reach it while the sun was still hot and high. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٧ (٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٥٠)، الاعتصام ١٦ (٧٣٢٩)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١١)، مسند احمد (٣/٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥ (١٢٤٤) (صحیح )