Sunan Ibne-Majah 676

نماز کا بیان

676Sunan Ibne-Majah

نماز فجر کا وقت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے اسے نظر انداز کردیا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdulláh bin Mas’ud said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the sunbaked ground, but he did not respond to our complaint.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد تھوڑی سی دیر کریں نہ کہ ایک مثل کے بعد پڑھیں، ایک مثل کے بعد تو ظہر کا وقت ہی نہیں رہتا، اور ٹھنڈک سے یہ مراد ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں ذرا نرمی آجائے بالکل ٹھنڈک تو شام تک بھی نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٥٤) (صحیح) (اس سند میں مالک الطائی غیر معروف ہیں، اور معاویہ بن ہشام صدوق ہیں، وہم کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )