Sunan Ibne-Majah 284

پاکی کا بیان

284Sunan Ibne-Majah

طہارت کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ١ ؎۔

‘Abdulláh bin Mas’ud said: It was said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , how will you recognize Lose whom you have not seen of your Ummah?’ He said: ‘From the blazes on their foreheads and feet, like horses with black and white traces (which make them distinct m others) which are the traces of ablution.’” (Hasan) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟ اس سند سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٣، ٤٥١، ٤٥٣) (حسن صحیح )