سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 14 of 14

261Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَاعَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَحْفَظُ عِلْمًا فَيَكْتُمُهُ، إِلَّا أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ أَيِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی علم دین یاد رکھتے ہوئے اسے چھپائے، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا ۔

It wa narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said:There is no man who memorizes knowledge then conceals it, but he will be brought forth on the Day of Resurrection bridled with reins of fire,” (Hasan) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے ) اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔ ( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے ) اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔ ( یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (١٤٧) پر موجود ہے )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ العلم ٩ (٣٦٥٨)، سنن الترمذی/ العلم ٣ (٢٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٢٦٣، ٣٠٥، ٣٤٤، ٣٥٣، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠٨) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
262Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حدثنا أبو مروان العثماني محمد بن عثمان حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول والله لولا آيتان في كتاب الله تعالى ما حدثت عنه- يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم- شيئا أبدا لولا قول الله: إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب إلى آخر الآيتين.

ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ کی قسم! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم ﷺ سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا، اور دو آیتیں یہ ہیں: إن الذين يکتمون ما أنزل الله من الکتاب إلى آخر الآيتين بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر (سورة البقرة: 174-175) ١ ؎۔

It was narrated that ‘AbdurRahmân bin Hurmuz Al-A’raj heard Abu Hurairah (RA) say: “By Allah, were it not for two Verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything from him, meaning from the Prophet ﷺ were it not for the Words of Allah: Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things), they eat into their bellies nothing but fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment. Those are they who have purchased error at the price of guidance, and torment at the price of forgiveness. So how bold they are (for evil deeds which will push them) to the Fire. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: آیت کا سیاق یہ ہے: إن الذين يکتمون ما أنزل الله من الکتاب ويشترون به ثمنا قليلا أولئك ما يأکلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم (١٧٤) أولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى والعذاب بالمغفرة فمآ أصبرهم على النار (١٧٥) (سورة البقرة: 174-175)، یہ آیات اگرچہ یہود کے متعلق ہیں، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی توراۃ میں موجود صفات چھپا لیں، مگر قرآن کے عمومی سیاق کا حکم شریعت کے احکام کو چھپانے والوں کو شامل ہے، علماء کے یہاں مشہور قاعدہ ہے: العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب یعنی: اصل اعتبار الفاظ کے عموم سے استدلال کا ہے، سبب نزول سے وہ خاص نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٢ (١١٨)، المزارعة ٢١ (٢٣٥٠)، الاعتصام ٢٢ (٧٣٥٤)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٥ (٢٤٩٢)، سنن النسائی/الکبری (٥٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٤) (صحیح )
263Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اس امت کے خلف (بعد والے) اپنے سلف (پہلے والوں) کو برا بھلا کہنے لگیں، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When the last people of this Ummah curse the first, (at that time) whoever conceals a Hadith will be concealing what Allah has revealed.” (Maudu’)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ إن الذين يکتمون ما أنزل الله کی آیت جو اوپر گذری ہے اس کا مستحق ٹھہرا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٥١، ومصباح الزجاجة: ١٠٨) (ضعیف جدًا) (سند میں حسین بن أبی السری سخت ضعیف ہیں، اور عبد اللہ بن السری صدق وزہد سے متصف ہوتے ہوئے عجائب ومناکیر روایت کرنے میں منفرد ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥٠٧ )
264Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنِي عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔

Yousuf bin Ibrahim said: ‘I heared Anas bin Malik (RA) say: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever is asked about knowledge and conceals it, will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٢٢٣ ، ٢٢٤ )
265Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حِبَّانَ بْنِ وَاقِدٍ الثَّقَفِيُّ أَبُو إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَتَمَ عِلْمًا مِمَّا يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ فِي الدِّينِ، أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی ایسا علم چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دینی امور میں نفع دیتا ہے، تو اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا ۔

It was narrated that Abu Sa’eed Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever conceals knowledge which Allah has made beneficial for mankind’s affairs of religion, Allah will bridle him with reins of fire on the Day of Resurrection.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٠) (ضعیف جدًا) (سند میں محمد بن داب سخت ضعیف ہیں، اور أبوزرعہ وغیرہ نے تکذیب کی ہے، اور وضع حدیث سے منسوب کیا ہے )
266Sunan Ibne-Majah

علم چھپانے کی برائی میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever is asked about knowledge that he has and he conceals it, will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٧٧) (صحیح )