سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 13 of 14

241Sunan Ibne-Majah

لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھانے والے کا ثواب

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنيْسَةَ، عَنْ زيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ مَا يُخَلِّفُ الرَّجُلُ مِنْ بَعْدِهِ ثَلَاثٌ، وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا، وَعِلْمٌ يُعْمَلُ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ يَعْنِي أَبَاهُ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنی موت کے بعد جو چیزیں دنیا میں چھوڑ جاتا ہے ان میں سے بہترین چیزیں تین ہیں: نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائے خیر کرتی رہے، صدقہ جاریہ جس سے نفع جاری رہے، اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا، اور ایسا علم کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے ۔

‘Abdulldh bin Abi Qatâdah narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best things that a man can leave behind are three: A righteous son who will pray for him, ongoing charity whose reward will reach him, and knowledge which is acted upon after his death.’” (Hasan) Another chain with similar meaning.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧، ومصباح الزجاجة: ٩٥) (صحیح ) اس سند سے ابوقتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا پھر انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
242Sunan Ibne-Majah

لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھانے والے کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ، وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ، عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The rewards of the good deeds that will reach a believer after his death are: Knowledge which he taught and spread; a righteous son whom he leaves behind; a copy of the Qur’ân that he leaves as a legacy; a Masjid that he built a house that he built for wayfarers; a canal that he dug; or charity that he gave during his lifetime when he was in good health. These deeds will reach him after his death.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٤، ومصباح الزجاجة: ٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا ١٤ (٢٨٨٠)، مسند احمد (٢/٣٧٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (حسن )
243Sunan Ibne-Majah

لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھانے والے کا ثواب

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا، ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم دین سیکھے، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said:“The best of charity is when a Muslim man gains knowledge, then he teaches it to his Muslim brother.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٠، ومصباح الزجاجة: ٩٧) (ضعیف) (اس سند میں اسحاق بن ابراہیم ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا ابوہریرہ ؓ سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٢٩ )
244Sunan Ibne-Majah

ہمراہیوں کو پیچھے پیچھے چلانے کی کراہت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے۔

It was narrated from Shu’aib bin ‘Abdullâh bin ‘Amr that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ was never seen eating while reclining or making two men walk behind him.” (Sahih)Other chains with the same meanings.

Notes · وضاحت
١ ؎: اتکاء (ٹیک لگانے) سے مراد کیا ہے؟ اس میں اختلاف ہے، صحیح یہی ہے کہ ایک جانب جھک کر کھانا اتکاء ہے جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ پر یا دیوار کے ساتھ ٹیک لگانا وغیرہ، ٹیک لگا کر کھانا منع ہے، گاؤ تکیہ لگا کر اس پر ٹیک دے کر کھانا، یا ایک ہاتھ زمین پر ٹیک کر کھانا، غرض ہر وہ صورت جس میں متکبرین و مکثرین (تکبر کرنے والوں، زیادہ کھانے والوں) کی مشابہت ہو منع ہے۔ ٢ ؎ نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے مطلب: جیسے دینی تعلیم سے غافل عام امراء اور مالداروں کے بارے میں مشاہدہ ہے کہ ان میں تکبر پایا جاتا ہے۔ (امام ابن ماجہ (رح) کے شاگرد) ابوالحسن القطان نے اپنی عالی سند سے یہی حدیث حماد بن سلمہ کے دوسرے دو شاگردوں سے بھی بیان کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ١٧ (٣٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٥، ١٦٧) (صحیح )
245Sunan Ibne-Majah

ہمراہیوں کو پیچھے پیچھے چلانے کی کراہت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ ﷺ نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کرلیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آجائے۔

It was narrated that Abu Umâmah said: “The Prophet ﷺ walked on a very hot day towards Baqi’ Al-Gharqad (graveyard of Al-Madinah), and the people were walking behind him. When he heard the sound of their shoes, it affected his soul so he sat down until he made them go ahead of him, lest that make him feel too proud.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٥، ومصباح الزجاجة: ٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٦) (ضعیف) (علی بن یزید الألہانی ضعیف و منکر الحدیث ہیں، نیز القاسم بھی ضعیف ہیں، اور اس سند پر کلام کے لئے ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٢٢٨ )
246Sunan Ibne-Majah

ہمراہیوں کو پیچھے پیچھے چلانے کی کراہت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب چلتے تو صحابہ ؓ آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “When the Prophet ﷺ walked, his Companions would walk in front of him, and he would leave his back for the angels.”(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١٢١، ومصباح الزجاجة: ٩٩)، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٣٢) (صحیح )
247Sunan Ibne-Majah

طلب علم کے بارے میں وصیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَاشِدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، فَقُولُوا لَهُمْ: مَرْحَبًا مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاقْنُوهُمْ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا اقْنُوهُمْ؟ قَالَ: عَلِّمُوهُمْ.

ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ علم حاصل کرنے آئیں گے، لہٰذا جب تم ان کو دیکھو تو رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق انہیں مرحبا (خوش آمدید) کہو، اور انہیں علم سکھاؤ۔ محمد بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا کہ اقنوهم کے کیا معنی ہیں، تو انہوں نے کہا: علموهم، یعنی انہیں علم سکھلاؤ۔

Abu Sa’eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “People will come to you seeking knowledge. When you see them, say to them, ‘Welcome, welcome,’ in obedience to the injunctions of the Messenger of Allah ﷺ , and instruct them in knowledge.” (One of the narrators said) “I said to Al-Hakam: ‘What is ‘Iqnuhum?’ He said: ‘Instruct them.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٤ (٢٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٢) (حسن) (سند میں ابوہارون العبدی ضعیف ومتروک راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٨٠ )
248Sunan Ibne-Majah

طلب علم کے بارے میں وصیت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ لِجَنْبِهِ، فَلَمَّا رَآنَا قَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ مِنْ بَعْدِي يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَرَحِّبُوا بِهِمْ، وَحَيُّوهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، قَالَ: فَأَدْرَكْنَا وَاللَّهِ أَقْوَامًا مَا رَحَّبُوا بِنَا، وَلَا حَيَّوْنَا، وَلَا عَلَّمُونَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ كُنَّا نَذْهَبُ إِلَيْهِمْ فَيَجْفُونَا.

اسماعیل (اسماعیل بن مسلم) کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر کہا: ہم ابوہریرہ ؓ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے، اور کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، آپ ﷺ پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر فرمایا: عنقریب میرے بعد کچھ لوگ طلب علم کے لیے آئیں گے، تو تم انہیں مرحبا کہنا، مبارکباد پیش کرنا، اور انہیں علم دین سکھانا ۔ پھر حسن بصری کہتے ہیں: قسم اللہ کی (طلب علم میں) ہمارا بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا کہ انہوں نے نہ تو ہمیں مرحبا کہا، نہ ہمیں مبارکباد دی، اور نہ ہی ہمیں علم دین سکھایا، اس پر مزید یہ کہ جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ بری طرح پیش آتے۔

It was narrated that Ismâ’il said: “We entered upon Hasan to inquire after him until we filled the house. He tucked up his legs, then he (Hasan) said: ‘We entered upon Abu Hurairah (RA) to inquire after him until we filled the house. He ( Abu Hurairah (RA) h) tucked up his legs and said: “We entered upon the Messenger of Allah ﷺ until we filled the house. He was lying on his side, but when he saw us he tucked up his legs then he said: ‘After I am gone, there will come to you people seeking knowledge. Welcome them, greet them and teach them.” (Maudu’) A narrator said: By Allah! we came across some people who did not welcome us, greet us, nor teach us until we used to go to them, then they treated us rudely.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٤١٤) (موضوع) (اس سند میں المعلی بن ہلال کی کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے، اور اس پر وضع حدیث کا الزام لگایا ہے، اور اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٣٤٩ )
249Sunan Ibne-Majah

طلب علم کے بارے میں وصیت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَاأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّهُمْ سَيَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا.

ہارون عبدی کہتے ہیں کہ جب ہم ابو سعید خدری ؓ کے پاس آتے تو وہ فرماتے: رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: لوگ تمہارے پیچھے ہیں، اور عنقریب وہ تمہارے پاس زمین کے مختلف گوشوں سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا ۔

It was narrated that Abu Hârun Al-’Abdi said: “When we came to Abu Sa’eed Al-Khudri, he would say: ‘Welcome, in accordance with the injunction of the Messenger of Allah ﷺ , for the Messenger of Allah ﷺ said to us: “The people will follow you; they will come to you from all parts of the earth seeking to understand the religion. So when they come to you, take care of them.” (Da`if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٤ (٢٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٢) (ضعیف) (سند میں ابوہارون العبدی ضعیف راوی ہے )
250Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: اللهم إني أعوذ بک من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع اے اللہ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اور اس دل سے جو (اللہ سے) نہ ڈرے، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “One of the supplications that the Prophet ﷺ used to say was: ‘Allahumma, inni a’udhu bika min ‘ilmin la yanfa’u, wa min du’â’in la yusma’u, wa min qalbin la yakhsha’u, wa min nafsin lâ tasha’u [O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is of no benefit, from a supplication that is not heard, from a heart that does not fear (You) and from a soul that is not satisfied.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علم دین کا نفع یہی ہے کہ آدمی اس پر عمل کرے، اور خلق کو اس کی طرف بلائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٨)، مسند احمد (٢/١٢٦١) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٨٣٧) (صحیح )
251Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، اور میرا علم زیادہ کر دے، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to say: ‘Allahhumma, anfa’ni bima ‘allamtani, wa ‘allimni ma yanfa’uni, wa zidni ‘ilman. wà’l-hamdu Lillahi ‘ala kulli hal. [O Allah, benefit me by that which a have taught me, and teach that which will benefit me Iiiand increase my knowledge. Praise is to Allah in all circumstances.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٩ (٣٥٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٦)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٨٣٣) (صحیح) (الحمد لله على كل حال کا جملہ ثابت نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٦٢ )
252Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ٍأَبِي طُوَالَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِيَعْنِي: رِيحَهَا. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے علم دین کو جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوتی ہے محض کسی دنیاوی فائدہ کے لیے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever acquires knowledge by which the pleasure of Allah is sought, but he only acquires it for the purpose of worldly gain, will not smell the fragrance of Paradise on the Day of Resurrection.” (Hasan) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العلم ١٢ (٣٦٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٨) (صحیح ) اس سند سے بھی فلیح بن سلیمان نے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
253Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَرِبٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے علم سیکھا تاکہ بیوقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے، یا علماء پر فخر کرے، یا لوگوں کو اپنی جانب مائل کرے، تو وہ جہنم میں ہوگا ۔

It was narrated from Thu ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people’s attention, will be in Hell.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٤٤، ومصباح الزجاجة: ١٠١) (حسن) (تراجع الألبانی رقم: ٣٨٩ ، سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند میں حماد بن عبد الرحمن اور ابوکرب ازدی دونوں مجہول راوی ہیں )
254Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم ١ ؎۔

It was narrated from Jâbir bin ‘Abdulláh that the Prophet ﷺ said: “Do not seek knowledge in order to show off in front of the scholars, or to argue with the foolish, and do not choose the best seat in a gathering, due to it (i.e. the knowledge which you have learned) for whoever does that the Fire, the Fire (awaits him).” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم کا مستحق ہے، یا وہ علم اس کے حق میں خود آگ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٢) (صحیح) (تراجع الألبانی رقم: ٣٨٨ ، و صحیح الترغیب: ١٠٢ ، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
255Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا، قَال مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي: الْخَطَايَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے، قرآن پڑھیں گے، اور کہیں گے کہ ہم امراء و حکام کے پاس چلیں اور ان کی دنیا سے کچھ حصہ حاصل کریں، پھر ہم اپنے دین کے ساتھ ان سے الگ ہوجائیں گے، (آپ ﷺ نے فرمایا:) یہ بات ہونے والی نہیں ہے، جس طرح کانٹے دار درخت سے کانٹا ہی چنا جاسکتا ہے، اسی طرح ان کی قربت سے صرف ... چنا جاسکتا ہے ۔ محمد بن صباح راوی نے کہا: گویا آپ نے (گناہ) مراد لیا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Prophet ﷺ said: “There will be some people among my Ummah (nation) who will gain knowledge of the religion, and they will recite Qur’an, and will say: ‘We come to the rulers so that we may have some share of their worldly wealth, and we will make sure that our religious commitment is not affected,’ but that will not be the case. Just as nothing can be harvested from the Qatid except thorns, so nothing can be gained from being close to them except (sins).’” (Da’if) (One of the narrators) Muhammad bin As-Sabbâh said: “It is as if he meant, ‘except sins.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٤) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی عبید اللہ بن أبی بردہ مقبول راوی ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے سے لین الحدیث ہیں، یعنی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٥٠ )
256Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيّ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ؟ قَالَ: وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَ مِائَةِ مَرَّةٍ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَدْخُلُهُ؟ قَالَ: أُعِدَّ لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِينَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ، قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: الْجَوَرَةَ. قال أبو الحسن: حدثنا حازم بن يحيى حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن نمير قالا: حدثنا ابن نمير عن معاوية النصري -وكان ثقة- ثم ذكر الحديث نحوه بإسناده. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ. قَالَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل: قَالَ عَمَّارٌ: لَا أَدْرِي مُحَمَّدٌ، أَوْ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب الحزن سے اللہ کی پناہ مانگو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جب الحزن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں ۔ محاربی کہتے ہیں: امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Seek refuge with Allah from the pit of grief.’ They said: ‘O Messenger of Allah, what is the pit of grief?’ He said: ‘A valley in Hell from which Hell itself seeks refuge four hundred times each day.’ It was said: ‘O Messenger of Allah, who will enter it?’ He said: ‘It has been prepared for reciters of the Qur’ân who want to show off their deeds. The most hateful of reciters of the Qur’ân to Allah are those who visit the rulers.’” (Da’if)

Notes · وضاحت
( مصباح الزجاجۃ، تحت رقم : ١٠٣) د/عوض شہری کے نسخہ میں یہ عبارت نہیں ہے جب کہ مصری نسخہ میں یہ یہاں، اور بعد میں نمبر (٢٥) کے بعد ہے، یہاں پر اس نص کا وجود غلط معلوم ہوتا ہے، اس کا مقام نمبر (٢٥٧) کے بعد ہی صحیح ہے )
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ بہذا السیاق (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد ٤٨ (٣٢٨٣)، دون قوله: وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّائِ إِلَى...، وقال: مئة مرة، بدل: أربع مئة، والباقي نحوه، وقال: غريب (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی عمار بن سیف وابومعاذ البصری دونوں ضعیف راوی ہیں، ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے، جس کا مطلب ان کے یہاں حدیث کی تضعیف ہے ) اس سند سے بھی معاویہ نصری نے جو ثقہ ہیں مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ عمار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابومعاذ کے شیخ محمد ہیں یا انس بن سیرین۔ امام ابن ماجہ (رح) نے ایک دوسری سند سے (حدیث کے راوی ابن سیرین) کے بارے میں راوی کا تردد بھی بیان کیا ہے کہ وہ محمد بن سیرین ہے یا انس بن سیرین۔
257Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْنَهْشَلٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، وَكَانَ ثِقَةً، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہوگئے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہوگا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوجائے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mas’ud said: “If the people of knowledge had taken care of it and presented it only to those who cared for it, they ould have become the leaders of .eir age by virtue of that. But the squandered it on the people of wealth and status in this world order to gain some worldly nefit, so the people of wealth d status began to look down on em. I heard your Prophet ﷺ Whoever focuses all his concerns on one issue, the concerns of the Hereafter, Allah suffice him and spare him the of this world. But uever wanders off in concern ar different worldly issues, Allah will not care in which of these valleys he is destroyed.”(Da’if) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس حالت میں اللہ تعالیٰ اس سے اپنی مدد اٹھا لے گا۔ ابن نمیر نے معاویہ نصری ثقہ سے اس اسناد سے اسی طرح حدیث روایت کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٥) (ضعیف) (اس سند میں نہشل متروک ہے راوی، مناکیر روایت کرتا ہے، اس لئے حدیث کا پہلا ٹکڑا ضعیف ہے، لیکن حدیث کا دوسرا ٹکڑا: من جعل الهموم شواہد کی وجہ سے حسن ہے، جو اسی سند سے مؤلف کے یہاں کتاب الزہد ( ٤١٠٦ ) میں آ رہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: کتاب الزهد لوكيع بن الجراح، تحقیق دکتور عبد الرحمن الفریوائی ) (مصباح الزجاجة: ١٠٥، ط، مصریہ، وموطا امام مالک/ الجامعة الإسلامیة )
258Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَأَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الْهُنَائِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے غیر اللہ کے لیے علم طلب کیا، یا اللہ کے علاوہ کی (رضا مندی) چاہی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم کو بنا لے ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “Whoever seeks knowledge for a reason other than for the sake of Allah, or intends it for a purpose other than for the sake of Allah, let him take his place in Hell.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٦ (٢٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٢) (ضعیف) (خالد بن دریک کا سماع ابن عمر ؓ سے نہیں ہے، اس لئے یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے )
259Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْحُذَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِتَصْرِفُوا وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْكُمْ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کرنے یا لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نہ سیکھو، جس نے ایسا کیا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا ۔

It was narrated that Hudhaifah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Do not acquire knowledge in order to show off before the scholars, or to argue with the foolish, or to attract people’s attention, for whoever does that will be in Hell.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٦) (حسن) (سند میں بشیر بن میمون متروک ومتہم اور اشعث بن سوار دونوں ضعیف ہیں، اس لئے یہ سند سخت ضعیف ہے، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تخريج اقتضاء العلم، للخطیب البغدادی: ١٠٠ - ١٠٢، وصحيح الترغيب: ١٠٦ -١١٠ )
260Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَيُجَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people’s attention, Allah will admit him to Hell.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٨) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم )