Sunan Ibne-Majah 250

سنت کی پیروی کا بیان

250Sunan Ibne-Majah

علم سے نفع اٹھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: اللهم إني أعوذ بک من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع اے اللہ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اور اس دل سے جو (اللہ سے) نہ ڈرے، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “One of the supplications that the Prophet ﷺ used to say was: ‘Allahumma, inni a’udhu bika min ‘ilmin la yanfa’u, wa min du’â’in la yusma’u, wa min qalbin la yakhsha’u, wa min nafsin lâ tasha’u [O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is of no benefit, from a supplication that is not heard, from a heart that does not fear (You) and from a soul that is not satisfied.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علم دین کا نفع یہی ہے کہ آدمی اس پر عمل کرے، اور خلق کو اس کی طرف بلائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٨)، مسند احمد (٢/١٢٦١) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٨٣٧) (صحیح )