قربانی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 28 · 80 hadiths · Page 3 of 4

3160Sunan Ibne-Majah

قربانیوں کا گوشت جمع کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا.

نبیشہ (نبیشہ بن عبداللہ الہذلی) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، لیکن اب اسے کھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کرو ١ ؎۔

It was narrated from Nubaishah that the Messenger of Allah ﷺ said: "I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days, but (now) eat some and store some."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنے دن چاہو اسے کھاؤ اور محفوظ کر کے رکھو، اس لئے کہ اب فقر و فاقہ کے دن گئے، لوگ خوشحال ہوگئے، اس لئے اب اس کو تین دن میں کھانا اور تقسیم کرنا غیر ضروری ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ١٠ (٢٨١٣)، ٢٠ (٢٨٣٠)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦)، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ (٢٠٠١) (صحیح )
3161Sunan Ibne-Majah

عیدگاہ میں ذبح کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ used to slaughter at the prayer place) (of the Eid congregation).

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ٩ (٢٨١١)، (تحفة الأشراف: ٧٤٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العید ین ٢٢ (٩٨٢)، الاضاحي ٦ (٥٥٥٢)، سنن الترمذی/الضحایا ٩ (١٥٠٨)، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٩٠)، الأضاحي ٢ (٤٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٨، ١٥٢) (صحیح )
3162Sunan Ibne-Majah

عقیقہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُتَكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.

ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ١ ؎۔

It was narrated that Umm Kurz said: "I heard the Prophet ﷺ say: On behalf of a boy, two sheep of equal age and on behalf of a girl one sheep."

Notes · وضاحت
١ ؎: جو جانور نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور نومولود کے بالوں کو بھی عقیقہ کہا جاتا ہے، جو جانور کے ذبح کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٥، ٢٨٣٦)، سنن النسائی/العقیقة ٣ (٤٢٢٢، ٤٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي ١٧ (١٥١٦)، مسند احمد (٦/٣٨١، ٤٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠٠٩) (صحیح )
3163Sunan Ibne-Majah

عقیقہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْيُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ نَعُقَّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا: ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to sacrifice two sheep for a boys Aqiqah and one sheep for a girl."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١٦ (١٥١٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ٨٢، ١٥٨، ٢٥١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠٠٩) (صحیح )
3164Sunan Ibne-Majah

عقیقہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْسَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةً فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى.

سلمان بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو ۔

It was narrated from Salman bin Amir that he heard the Prophet ﷺ say: "For a boy there should be an Aqiqah, so shed blood for him and remove the harm from him."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٧١ ٥٤)، سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٩)، سنن الترمذی/الضحایا ١٧ (١٥١٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العقیقة ١ (٤٢١٩)، مسند احمد (٤/١٧، ١٨، ٢١٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٠) (صحیح )
3165Sunan Ibne-Majah

عقیقہ کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔

It was narrated from Samurah that the Prophet ﷺ said: "Every boy is mortgaged by his Aqiqah, so slaughter for him on the seventh day, and shave his head, and name him."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٢٣ (١٥٢٢)، سنن ابی داود/الضحایا ٢١ (٢٨٣٧، ٢٨٣٨)، سنن النسائی/العقیقة ٤ (٤٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧٢)، مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح )
3166Sunan Ibne-Majah

عقیقہ کا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ.

یزید بن عبدالمزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے ١ ؎۔

Yazid bin Abdul-Muzani narrated that the Prophet ﷺ said: "Offer an Aqiqah for the boy, but do not smear his head with blood."

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا، سنن ابی داود کی روایت رقم ( ٢٨٣٧ ) جس میں عقیقہ کا خون بچے کے سر پر لگانے کا ذکر ہے یہ روایت منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٢) (صحیح) (یزید بن عبد المزنی مجہول ہے، لیکن عائشہ وبریدہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤/ ٣٨٨ / ٣٩٩ )
3167Sunan Ibne-Majah

فرعہ اور عتیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا لِلَّهِ، وَأَطْعِمُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟، قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ، حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ، فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ أُرَهُ، قَالَ عَلَى: ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ.

نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں عتیرہ کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر سائمہ (چرنے والے جانور) میں فرع ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق (یعنی جوان) ہوجائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت (میرا خیال ہے انہوں نے کہا) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے ١ ؎۔

It was narrated that Nubaishah said: "A man called the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah: during the Ignorance days in Rajab; what do you command us to do? He said: "Sacrifice to Allah whatever month it is, do good for the sake of Allah and feed (the poor):They said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Farah during the Ignorance days; what do you command us to do? He said: For every Saimah (flock of grazing animals), feed the I firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity - I think he said - to the wayfarer, for that is good.

Notes · وضاحت
١ ؎: عتیرہ رجب کی قربانی ہے، اور فرع جاہلیت میں جو مروج تھا وہ اونٹنی کا پہلونٹا بچہ ہوتا تھا، جس کو مشرک بتوں کے لئے ذبح کرتے تھے اور بعضوں نے کہا کہ جب سو اونٹ کسی کے پاس پورے ہوجاتے تو وہ ایک بچہ ذبج کرتا، اس کو فرع کہتے ہیں، اسلام میں یہ لغو ہوگیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ کاٹنے سے تو یہ بہتر ہے کہ اس کو جوان ہونے دے، جب مضبوط اور تیار ہوجائے تو اس کو اس وقت ذبح کر کے مسافروں کو کھلا دیا جائے، بعضوں نے کہا: فرع اور عتیرہ اب بھی مستحب ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا چاہیے، اور اس حدیث سے فرع کا جواز نکلتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ جوان ہوجائے، تو اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دے تاکہ جہاد میں اس پر سواری یا بوجھ لایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١٠ (٢٨١٣)، ٢٠ (٢٨٣٠)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦)، سنن الدارمی/الأضي ٦ (٢٠٠١) (صحیح )
3168Sunan Ibne-Majah

فرعہ اور عتیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالْفَرَعَةُ: أَوَّلُ النَّتَاجِ، وَالْعَتِيرَةُ: الشَّاةُ يَذْبَحُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ فِي رَجَبٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ فرعہ ہے اور نہ عتیرہ (یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے) ، ہشام کہتے ہیں:فرعہ: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ١ ؎ اور عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "There is no Farah and no Atirah." In his narration, Hisham said: "The Farah is the first offspring, and the Atirah is a sheep that the household sacrifices in Rajab."

Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کردیا کرتے تھے اسے فرعہ کہتے تھے۔ ٢ ؎: اسے رجبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العقیقة ٤ (٥٤٧٤)، صحیح مسلم/الأضاحي ٦ (١٩٧٦)، سنن ابی داود/الأضاحي ٢٠ (٢٨٣١)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (٤٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي ١٥ (١٥١٢)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٤، ٢٨٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ٨ (٢٠٠٧) (صحیح )
3169Sunan Ibne-Majah

فرعہ اور عتیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا مِنْ فَرَائِدِ الْعَدَنِيِّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ فرعہ (واجب) ہے اور نہ عتیرہ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔

It was narrated from Muhammad bin Abu (Umar) Adani that the Prophet ﷺ said: "There is no Far’ah and no Atirah.” Ibn Majah said: This (narration) is among those only narrated by (Muhammad bin Abi Umar) ‘Al-Adani.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٤٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٦) (صحیح )
3170Sunan Ibne-Majah

ذبح اچھی طرح اور عمدگی سے کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرلے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ١ ؎۔

It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has prescribed Al-Ihsan (proficiency) in all things. So if you kill, then kill well, and if you slaughter, then slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ذبح کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر جائے، یہاں تک کہ جانور ٹھنڈا ہوجائے، اس وقت کھال اتارے اور کاٹے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥)، سنن ابی داود/الأضاحي ١٢ (٢٨١٥)، سنن الترمذی/الدیات ١٤ (١٤٠٩)، سنن النسائی/الضحایا ٢١ (٤٤١٠)، ٢٦ (٤٤١٩)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٠ (٢٠١٣) (صحیح )
3171Sunan Ibne-Majah

ذبح اچھی طرح اور عمدگی سے کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَجُرُّ شَاةً بِأُذُنِهَا، فَقَالَ: دَعْ أُذُنَهَا وَخُذْ بِسَالِفَتِهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو (تاکہ اسے تکلیف نہ ہو) ۔

It was narrated that "Abu Sa’eed Al-Khudri said: The Prophet ﷺ passed by a man who was dragging a sheep by its ear. He said: Leave its ear alone and hold it by the sides of its neck.’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٧) (ضعیف جدا) (سند میں موسیٰ بن محمد منکر الحدیث راوی ہے )
3172Sunan Ibne-Majah

ذبح اچھی طرح اور عمدگی سے کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ابْنُ أَخِي حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ حَيْوَئِيلَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ، وَقَالَ: إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُجْهِزْ. حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چھری کو تیز کرنے، اور اسے جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو اچھی طرح ذبح کرے تاکہ اس کی جان جلد نکل جائے۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded that the blade should be sharpened, and hidden from the animals, and he said: When one of you slaughters, let him do it quickly." Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٨) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ اور قرة ضعیف راوی ہیں، تراجع الألبانی: رقم: ٨ ) اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٠٩٩ )
3173Sunan Ibne-Majah

ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ مَا ذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَلَا تَأْكُلُوا، وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ: إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم (سورة الأنعام: 121) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas (RA) : "And certainly, the Shayatin (devils) do inspire their friends (from mankind). He said: "They used to say: Whatever the Name of Allah has been mentioned over, do not eat it, and whatever the Name of Allah has not been mentioned over, eat it. Then Allah said: "Eat not of that over which Allahs Name has not been pronounced."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا نام ضرور لیا ہوگا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے منخنقہ وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ١٣ (٢٨١٨)، (تحفة الأشراف: ٦١١١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا ٤٠ (٤٤٤٨) (صحیح )
3174Sunan Ibne-Majah

ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، لَا نَدْرِي ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا، قَالَ: سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا، وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْكُفْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت (بیچنے کے لیے) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ (ابھی) نو مسلم تھے۔

It was narrated from Aisha (RA) , the Mother of the Believers, that some people said: of "O Messenger of Allah, Some people bring us meat, and we do not know whether the Name of Allah has been mentioned over it or not." He said: "Say: Bismillah and eat. They were new in Islam.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥ (٢٠٥٧)، الصید ٢١ (٥٥٠٧)، التوحید ١٣ (٧٣٩٨)، صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١)، سنن ابی داود/الأضاحي ١٩ (٢٨٢٩)، سنن النسائی/الضحایا ٣٨ (٤٤٤١)، موطا امام مالک/الذبائح ١ (١)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٤ (٢٠١٩) (صحیح )
3175Sunan Ibne-Majah

کس چیز سے ذبح کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ: ذَبَحْتُ أَرْنَبَيْنِ بِمَرْوَةٍ فَأَتَيْتُ بِهِمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.

محمد بن صیفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تیز دھار والے پتھر سے دو خرگوش ذبح کئے، پھر انہیں لے کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دی۔

It was narrated that Muhammad bin Saifi said: I slaughtered two rabbits with a sharp-edged stone and brought them to the Prophet, and he told me to eat them."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١٧ (٢٨٢٢)، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٨)، الضحایا ١٩ (٤٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢، ٧٦، ٨٠) (صحیح )
3176Sunan Ibne-Majah

کس چیز سے ذبح کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔

It was narrated from Zaid bin Thabit that a wolf bit a sheep, and they slaughtered it with a sharp-edged stone, and the Messenger of Allah ﷺ allowed them to eat it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ١٧ (٤٤٠٥)، ٢٣ (٤٤١٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٤) (صحیح) (سند میں حاضر بن مہاجر کو ابو حاتم نے مجہول کہا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3177Sunan Ibne-Majah

کس چیز سے ذبح کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَصِيدُ الصَّيْدَ فَلَا نَجِدُ سِكِّينًا، إِلَّا الظِّرَارَ وَشِقَّةَ الْعَصَا، قَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو ۔

It was narrated that Adi bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, we hunt game but we cannot find anything but the sharp edge of a stone or stick (with which to slaughter it). He said: Cause the blood to flow with whatever you want, and mention the Name of Allah over it.’”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ١٥ (٢٨٢٤)، سنن النسائی/الذبائح ٢٠ (٤٣٠٩)، الضحایا ١٨ (٤٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٣٥ )
3178Sunan Ibne-Majah

کس چیز سے ذبح کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغَازِي فَلَا يَكُونُ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ غَيْرَ السِّنِّ وَالظُّفْرِ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ، وَالظُّفْرَ مُدَى الْحَبَشَةِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ١ ؎۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We were with the Prophet ﷺ on a journey, and I said: O Messenger of Allah, we are (sometimes) on military campaigns, and we have no knife with us: He said: (Use) whatever causes the blood to flow, mention the Name of Allah and eat, but (do not use) teeth or nails, for the tooth is a bone and the nail is the knife of the Ethiopians."

Notes · وضاحت
١ ؎: دانت اور ناخن کے سوا ہر دھار دار اور تیز چیز سے ذبح کرنا جائز ہے، اور تلوار، چھری، نیزے، تیر کے پھل، دھاردار پتھر اور لکڑی، کانچ، تانبے اور ٹین وغیرہ سے غرض جو چیز تیز ہو کر خون بہا دے اس سے ذبح کرنا جائز، اور ذبیحہ حلال ہے، اور شافعی کہتے ہیں کہ ذبح میں حلقوم (گلے کی وہ نالی جس سے کھانا پانی نیچے اترتا ہے)، اور مری (مڑکنی ہڈی گلے سے معدہ تک کی نلی) کا کٹ جانا شرط ہے اور دونوں رگوں کا بھی کاٹ ڈالنا مستحب ہے، امام احمد سے بھی اصح روایت یہی ہے، اور لیث بن سعد، ابو ثور، داود ظاہری اور ابن منذر نے کہا ہے کہ ان سب کا کٹنا شرط ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا: اگر ان چاروں میں تین بھی کٹ جائیں تو درست ہے، اور مالک نے کہا کہ حلقوم اور دونوں (ودج) رگوں کا کٹنا ضروری ہے، مری کا کٹنا شرط نہیں، ابن منذر نے کہا: علماء کا اجماع ہے اس پر کہ جب حلقوم اور مری، اور مری اور دونوں رگیں کٹ جائیں، اور خون بہہ جائے، تو ذبح ہوگیا، امام نووی نے اہلحدیث کے مذہب میں اوداج کا کٹنا ضروری قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٣ (٢٤٨٨)، ١٦ (٢٥٠٧)، الجہاد ١٩١ (٣٠٧٥)، الذبائح ١٥ (٥٤٩٨)، ١٨ (٥٥٠٣)، ٢٠ (٥٥٠٦)، ٢٣ (٥٥٠٩)، ٣٦ (٥٥٤٣)، ٣٧ (٥٥٤٤)، صحیح مسلم/الاضاحی ٤ (١٩٦٨)، سنن ابی داود/الأضاحي ١٥ (٢٨٢١)، سنن الترمذی/الصید ١٩ (١٤٩٢)، سنن النسائی/الذبائح ١٧ (٤٣٠٢)، الضحایا ١٥ (٤٣٩٦)، ٢٦ (٤٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤، ٤/١٤٠، ١٤٢) (صحیح )
3179Sunan Ibne-Majah

کھال اتارنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا، حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ، وَقَالَ: يَا غُلَامُ، هَكَذَا فَاسْلُخْ، ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: الگ ہوجاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ passed by a boy who was skinning a sheep. The Messenger of Allah ﷺ said to him: "Step aside and I will show you how." The Messenger of Allah ﷺ put his hand between the skin and the flesh, and thrust his arm in until it disappeared up to the armpit, and said: "O boy, this is how you skin it." Then he went and led the people in prayer and did not perform Wudu.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٣ (١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٨) (صحیح )