ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ came to a man from among the Ansar who had picked up a knife to slaughter an animal for the Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said to him: “Avoid those that are lactating." (i.e. those from which milk is received).
Notes · وضاحت
١ ؎: دودھ والے جانور کا بلا عذر ذبح کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ دودھ سے بہتوں کو بہت دنوں تک فائدہ ہوسکتا ہے، اور گوشت کھا لینے میں یہ فائدہ جاتا رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٢٠ (٢٠٣٨)، سنن الترمذی/الزہد ٣٩ (٢٣٦٩) (صحیح )
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اور عمر ؓ سے فرمایا: تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ ﷺ نے فرمایا: دودھ والی یا فرمایا: تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔
Abu Hurairah (RA) narrated that Abu Bakr (RA) bin Quhafah narrated that the Messenger Of Allah said to him and to ‘Umar (RA) : "Let us go out to Waqifi." He said: “So we went out in the moonlight until we came to the garden and he (the owner of the garden) said: Welcome. Then he took up the knife and went among the sheep (to choose for slaughter), and the Messenger of Allah ﷺ said, Avoid those that are lactating.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٠٠) (ضعیف جدا) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک راوی ہے )
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بکری کو پتھر سے ذبح کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
It was narrated from a son of Kab bin Malik, from his father that a woman slaughtered a sheep with a stone, and that was mentioned to the Messenger of Allah, but he did not see any thing wrong with that.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہوگیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آسکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We were with the Prophet ﷺ on a journey, and a camel ran away. A man shot an arrow at it and the Prophet ﷺ said: It has the inclination to run away like a wild animal. If this happens to any of you, do likewise.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مرجائے تو حلال ہوگا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٦) (صحیح )
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں (ذبح) کرنا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے ۔
It was narrated from Abu Ushara that his father said: "I said: O Messenger of Allah, should slaughtering only be done in the throat or upper chest? He said: If you stab it in the thigh that will suffice you."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحي ١٦ (٢٨٢٥)، سنن الترمذی/الصید ١٣ (١٤٨١)، سنن النسائی/الضحایا ٢٤ (٤٤١٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (ابو العشراء اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٥٣٥ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade mutilating animals."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا کوئی عضو کاٹنے سے مثلا ناک، کان اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کیونکہ اس میں جانور کی تعذیب ہے، اور وہ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠١) (ضعیف جدا) (موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ضعیف راوی ہے، لیکن مثلہ سے ممانعت کی حدیث صحیح ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٣٠ )
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق (سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ishaq Shaiban said: "I asked Abdullah bin Abu Awfa about the flesh of domesticated donkeys and he said: We were starving on the Day of Khaibar, when we were with the Prophet. The people had gotten some donkeys as spoils of war on the way out from Al-Madinah, so we slaughtered them and our cooking pots were boiling when the caller of the Messenger Of Allah cried out, telling us to overturn our pots and not to eat anything of the flesh of donkeys. So we overturned them.’ I said to ‘Abdullah bin Abu Awfa: ‘Was it made unlawful?’ He said: ‘We think that the Messenger Of Allah forbade it altogether because it eats excrement.’
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء اور اہلحدیث کا یہ قول ہے کہ پالتو گدھا حرام ہے، اور اس کی حرمت میں براء بن عازب، اور ابن عمر اور ابوثعلبہ خشنی ؓ کی احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہیں، البتہ جنگلی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے، اور رسول اکرم ﷺ کو ہدیہ دیا گیا اور آپ نے اس میں سے کھایا (الروضۃ الندیۃ)۔ امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک پالتو گدھا حلال ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے کھانا چاہا، اور وہ منع ہے جیسے اوپر گزرا اور ان کی دلیل ابوداود میں موجود غالب بن ابجر ؓ کی یہ حدیث ہے کہ اپنے گھر والوں کو موٹے گدھوں میں سے کھلاؤ، میں نے ان کو نجاست کھانے کی وجہ سے حرام کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف اور مضطرب الاسناد ہے، یہ حلت کی دلیل نہیں بن سکتی خصوصاً جب کہ صریح احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔
It was narrated from Miqdam bin Madikarib Al-Kindi that the Messenger of Allah ﷺ forbade several things, until he mentioned (the meat of) domesticated donkeys.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٩، ١٣٢) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to throw away the meat of domesticated donkeys, raw or cooked, then he did not say anything to us about it after that.”
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہوگئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا پکا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل (دھو) ڈالیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسا ہی کرلو ۔
It was narrated that Salamah bin Akwa said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the campaign of Khaibar, and in the evening the people lit their fires, The Prophet ﷺ said: What are you cooking? They said: The meat of domesticated donkeys. He said: Throw out what is in them (the pots) and break them. A man said: Or can we throw out what is in them and wash them? The Prophet ﷺ said: Or (do) that."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٧)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٣ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٨، ٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the caller of the Prophet ﷺ cried out: "Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of domesticated donkeys, for it is filthy."
خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Khalid bin Walid said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the flesh of horses, mules and donkeys”
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ترمذی میں جابر ؓ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اکرم ﷺ نے گھریلو گدھے اور خچر کے گوشت سے منع فرمایا، معلوم ہوا کہ خچر کا گوشت حرام ہے (ملاحظہ ہو: تحفۃ الاحوذی: ج ٢ ص ٣٤٦ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٢٦ (٣٧٩٠)، سنن النسائی/الذبائح ٣٠ (٤٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٩، ٩٠) (ضعیف) (بقیہ اور صالح بن یحییٰ اور یحییٰ بن المقدام سب ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہوجاتا ہے ١ ؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کو سج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول الذکاة لا يقضى بها مذمة کے سلسلے میں کہتے سنا: مذم ۃ ذال کے کسرے سے ہو تو ذمام سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو ذمّ سے مشتق ہے۔
It was narrated that Abu Sa’eed said: "We asked the Messenger of Allah ﷺ about the fetus. He said: Eat it if you wish, for it is considered legally slaughtered with the slaughtering of its mother. Abu Abdullah said: I heard Al- Kawsaj Ishaq bin Mansur saying, concerning their saying: No Modhimmah (claim/blame) is determined by the slaughter (of the mother). He (Kawsaj) said: Madhimmah spelled with Kasr (i) is from Dhimam, meaning a claim (right); while Madhammah spelled with Fath (a) is from Dhamm, meaning blame.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جنین جب ماں کے ذبح کئے جانے کے بعد مردہ برآمد ہوا ہو تو ایسے جنین کا کھانا حلال ہے، اسے دوبارہ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی مذہب اہل حدیث اور جمہور علماء کا ہے، لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ اسے دوبارہ ذبح کیا جائے گا مگر یہ حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہے۔