ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے غلام نبیشہ ؓ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔
It was narrated that Umm Asim said: "Nubaishah, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ entered upon us when we were eating from a bowl He said that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever eats from a bowl and cleans it, the bowl will pray for forgiveness for him."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١١ (١٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٦)، سنن الدارمی/الأطمة ٧ (٢٠٧٠) (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ ؓ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کرلے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
Mualla bin Rashid Abu Yaman said: "My grandmother narrated to me from a man of Hudhail who was called Nubaishah Al-Khair. She said: Nubaishah entered upon us when we were eating from a bowl of ours. He said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever eats from a bowl then cleans it, the bowl will pray for forgiveness for him."
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When food is served, eat from that which is in front of you, and do not take from what is in front of your companion."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٢٤) (ضعیف جدا) (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٤٢٥٤ )
عکراش بن ذویب ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں ۔
It was narrated that Ikrash bin Dhu aib said: "The Prophet ﷺ was brought a bowl filled with Tharid and fatty meat, and we started to eat from it. My hand was wandering all over, so he said: O Ikrash, eat from one spot, for it is all the same food. Then we were brought a plate on which were different kinds of fresh dates, and the hand of the Messenger of Allah ﷺ went all around the plate. He said: O Ikrash, eat from wherever you want, for they are not all the same.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤١ (١٨٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٦) (ضعیف) (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠٩٨ )
عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے ۔
Abdullah bin Busr narrated that the Messenger of Allah ﷺ was brought a bowl (of food). The Messenger of Allah ﷺ said: "Eat from the sides and leave the top, so that it may be blessed."
واثلہ بن اسقع لیثی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے ۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa Al-Laithi said: "The Messenger of Allah ﷺ took hold of the top of the Tharid and said: Eat in the Name of Allah from its sides and leave the top, for the blessing comes from its top."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "When food is served, take from the sides and leave the middle, for the blessing descends in the middle."
معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گرگیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھالیا (یہ دیکھ کر) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی (چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کرلے پھر اسے کھالے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا ؎۔
It was narrated from Hasan about Maqil bin Yasar: "While (he) was eating lunch, a morsel of food fell on the floor. He picked it up, removed whatever dirt had gotten onto it, and ate it. The villagers and farmers winked at one another (finding it odd) and it was said: May Allah help the chief! These villagers and farmers are winking at one another because you picked up a morsel (from the ground) when you have this food in front of you. He said: I am not going to give up something I heard from the Messenger of Allah ﷺ for these non-Arabs. We were told, if one of us dropped a morsel of food, to pick it up, remove whatever dirt was on it, and eat it, and not to leave it for Satan."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیثیں جن میں شیطان کے کھانے کا ذکر ہے اپنے ظاہری معنوں پر ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو علم اپنے نبی کو دیا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ فرشتوں اور شیاطین کا حال بھی جانتے تھے، اور ان کا پھرنا زمین میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٩، ومصباح الزجاجة: ١١٢٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة ٨ (٢٠٧٢) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا سماع معقل بن یسار سے نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث جابر و انس ؓ سے ثابت ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھالے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a morsel falls from the hand of anyone of you, let him wipe off whatever dirt that is on it and eat it."
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣)، سنن الترمذی/الأطعمة ١١ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٢٣٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٥) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ ؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ١ ؎۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ashari that the Prophet ﷺ said: "Many men have attained perfection but no women have attained perfection except Maryam bint Imran (Mary) and Asiyah the wife of Firawn. And the superiority of Aisha (RA) over other women is like the superiority of Tharid over all other foods."
Notes · وضاحت
١ ؎: ثرید بلا دقت بن جاتا ہے، اور اس کے ساتھ جلدی ہضم ہونے والا، خوش ذائقہ، مقوی، اور بےحد نفع بخش ہے، ایسے ہی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے مسلمانوں کو بہت فوائد حاصل ہوئے، اور سیکڑوں مسئلے معلوم ہوئے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ ؓ کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۔
It was narrated from Abdullah bin Abdur-Rahman that he heard Anas bin Malik (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: The superiority of Aisha (RA) over other women is like the superiority of Tharid over all other foods."
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ہی میسر ہوتا تھا، اور جب ہمیں کھانا میسر ہوجاتا تو ہمارے پاس رومال اور تو لیے نہیں ہوتے تھے، سوائے اپنی ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے، پھر ہم نماز پڑھتے، اور دوبارہ وضو نہیں کرتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، یہ صرف محمد بن سلمہ سے مروی ہے۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "During the time of the Messenger of Allah ﷺ we often did not find anything to eat, and if we did, we did not have handkerchiefs, except our hands, arms and feet. Then we would pray without performing ablution." Abu Abdullah said: (This Hadith is) Gharib (Unfamiliar - containing a single narrator at one stage). It has only been narrated through Muhammad bin Salamah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٥٣ (٥٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٧٥ (١٩١)، سنن الترمذی/الطہارة ٥٩ (٨٠) (صحیح) (ابن ماجہ کے سند کی البانی صاحب نے تضعیف کی ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابن ماجہ، و سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٧٥ ، اور ابن حجر نے محمد بن ابی یحییٰ کی تعیین فرمائی ہے کہ وہ ابن فلیح ہیں، اور ان فلیح کی کنیت ابو یحییٰ ہے، کیونکہ دونوں روایتوں کا سیاق ایک ہی ہے، فتح الباری ٩ /٥٧٩ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھالیتے تو یہ دعا پڑھتے: الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين یعنی حمد وثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed said: "Whenever the Prophet ﷺ ate, he would say: Alhamdu lillahil-ladhi atamana wa saqana wa jaalana Muslimin (Praise is to Allah Who has fed us, given us to drink, and made us Muslims)."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بڑی نعمت ہے کہ دین حق کی توفیق بخشی، اگر دنیا بہت ہو اور دین تباہ ہو تو بڑی مصیبت کی بات ہے، چند روز میں یہاں سے جانا ہے، ساری دنیا پڑی رہ جائے گی ہم چل دیں گے، ہمارے ساتھ جو جائے گا، وہ ہمارا دین ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل سے سچے دین پر ہمیشہ قائم رکھ اور خاتمہ بالخیر فرما، آمین یارب العالمین۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٧ (٣٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٤٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٥٣ (٣٨٥٠)، مسند احمد (٣/٣٢، ٩٨) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مولی ابو سعید مبہم ہیں ملاحظہ ہو: المشکاة: ٤٣٠٤ )
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم ﷺ فرماتے: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد وثناء ہے، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں، اسے نہ چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بےنیاز ہوسکتا ہے، اے ہمارے رب! (ہماری دعا سن لے) ۔
It was narrated from Abu Umamah Al-Bahili that when his food, or whatever was in front of him was cleared away, the Prophet ﷺ used to say: "Alhamdu lillahi hamdan kathiran tayyiban mubarakan ghaira makfiyyin wa la muwaddain wa la mustaghnan anhu, Rabbana (praise is to Allah, abundant good and blessed praise, a never-ending praise, a praise that we will never bid farewell to and an indispensable praise, He is our Lord)."
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه حمد وثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا ۔
It was narrated from Sahl bin Muadh bin Anas Al-Juhani, from his father, that the Prophet ﷺ said: "Whoever eats food and says: Al-hamdu lillahil-ladhi atamani hadha wa razaqanihi min ghayri hawlin minni wa la quwwatin (praise is to Allah Who has fed me this and provided it for me without any strength or power on my part), - his previous sins will be forgiven."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١ (٤٠٢٣)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٦ (٣٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن )
وحشی بن حرب حبشی ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو ، لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ، اور اللہ کا نام لیا کرو، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہوگی ١ ؎۔
Wahshi bin Harb bin Wahshi bin Harb narrated from his father, from his grandfather, that they said: "O Messenger of Allah, we eat and do not feel full." He said: "Perhaps you eat separately?" They said. "Yes." He said. "Gather to eat together, and mention the Name of Allah over it, then it will be blessed for you."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بےبرکتی کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ١٥ (٣٧٦٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠١) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٩٧) ۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سب مل کر کھانا کھاؤ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے ۔
Salim bin Abdullah bin Umar said: "I heard my father say: ‘I heard Umar bin Khattab say: “The Messenger of Allah ﷺ said: Eat together and do not eat separately, for the blessing is being together."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٥، ومصباح الزجاجة: ١١٢٧) (ضعیف جدا) (عمرو بن دینار قہرمان آل الزبیر نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، اس لئے حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا جملہ کلوا جميعا ولا تفرقوا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٦٩١ ، تراجع الألبانی: رقم: ٣٦١ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ never blew onto his food or drink, and he did not breathe into the vessel."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأشربة ٢٠ (٣٧٢٨)، سنن الترمذی/الأشربة ١٥ (١٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٤٩)، وقد أخرجہ: حم ١/٢٢٠، ٣٠٩ ھ ٣٥٧)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٧ (٢١٨٠) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی سئی الحفظ ہیں، جنہوں نے حدیث کو فعل رسول بنادیا، جب کہ یہ قول رسول سے ثابت ہے کہ آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ مؤلف کے یہاں: ( ٣٤٢٩ ) نمبر پر آ رہا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے ١ ؎۔
Ismail bin Abu Khalid narrated from his father: "I heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the servant of anyone of you brings him his food, let him make him sit by his side and eat with him, and if he refuses then let him give him some."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مروت اور احسان ہے اگرچہ اس خادم کے لئے کھانا مقرر نہ ہو، نقد ہو یا اس کا کھانا الگ ہو خادم سے عام مراد ہے لونڈی ہو یا غلام مزدور یا نوکر یا خدمت کرنے والا وغیرہ، سبحان اللہ، اسلام کے اور مسلمانوں کے مثل کس شریعت اور کس قوم میں اخلاق ہیں کہ مالک اور غلام دونوں ایک ساتھ مل کر کھائیں، اور دونوں ایک سا کپڑا پہنیں اگرچہ اب بعض مغرور متکبر مسلمان ان پر عمل نہ کرتے ہوں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا غلام جب اس کے سامنے کھانا پیش کرے جس کو تیار کرنے میں اس نے اس کی طرف سے تکلیف اور گرمی برداشت کی ہے، تو اسے چاہیئے کہ اسے بھی بلائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھائے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو چاہیئے کہ ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the slave of anyone of you brings his food to him, for which he (the slave) has worked hard and endured heat, let him invite him to eat with him, and if he does not do that then let him take a morsel and put it in his hand."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ١٨ (٢٥٥٧)، صحیح مسلم/الأیمان ١٠ (١٦٦٣)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٤ (١٨٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٥) (صحیح )