عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا غلام کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ غلام کو اپنے ساتھ بٹھائے، یا یہ کہ اس میں سے اسے بھی دے، اس لیے کہ وہی تو ہے جس نے اس کی گرمی اور اس کے دھوئیں کی تکلیف اٹھائی ہے ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the servant of anyone of you brings his food, let him make him sit down with him or give him some of it, for he is the one who put up with its heat and smoke."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٤، ومصباح الزجاجة: ١١٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤٦) (حسن صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٤ - ١٠٤٣ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خوان (میز) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ سکرجہ (چھوٹی طشتری) ١ ؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس ؓ سے پوچھا: پھر آپ ﷺ کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس ؓ نے کہا: دستر خوان پر۔
It was narrated from Qatadah, that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ never ate from a dish or from an individual plate." He said: "From where did he eat?" He said: "From the dining sheet."
Notes · وضاحت
١ ؎: سکرجہ (چھوٹی طشتری) میں چٹنی اور کھٹائی وغیرہ رکھی جاتی ہے جس سے کھانے کی خواہش بڑھتی ہے یہ عیش پسندوں کا طریقہ ہے آپ کو یہ چیز پسند نہیں تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٨ (٥٣٨٦)، ٢٣ (٥٤١٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ١ (١٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ لوگ کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اٹھ جائیں۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade standing up before the food had been cleared away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٨، ومصباح الزجاجة: ١١٢٩) (ضعیف جدا) (سند میں ولید بن مسلم مدلس اور مکحول ضعیف اور منیر بن زبیر کثیر الارسال راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٩٤ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دستر خوان لگا دیا جائے تو کوئی شخص اس کے اٹھائے جانے سے پہلے نہ اٹھے، اور نہ ہی اپنا ہاتھ کھینچے گرچہ وہ آسودہ ہوچکا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ بھی کھانے سے فارغ نہ ہوجائیں، (اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو) تو عذر پیش کر دے، اس لیے کہ آدمی اپنے ساتھی سے شرماتا ہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a meal is served, a man should not stand up until it is removed, and he should not take his hand away, even if he is full, until the people have finished. And let him continue eating. For a man may make his companion shy, causing him to withhold his hand, and perhaps he has a need for the food."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٣٠) (ضعیف جدا) (سند میں عبدالاعلی ہیں جنہوں نے ابن أبی کثیر سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٣٨ )
رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! وہ شخص خود اپنے ہی کو ملامت کرے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو ۔
It was narrated from Husain bin Ali that his mother, Fatimah the daughter of the Messenger of Allah, said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A man has no one to blame but himself, if he goes to bed with a smell emanating from his hand."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٢، ومصباح الزجاجة: ١١٣١) (حسن) (سند میں جبارہ ضعیف ہے، لیکن ابوہریرہ ؓ کی آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you goes to bed with a smell emanating from his hand, and he does not wash his hand, and something happens to him, he should not blame anyone but himself."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٨ (١٨٦٠)، مسند احمد (٢/ ٢٦٣، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح )
اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ ﷺ نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ١ ؎۔
It was narrated that Asma bint Yazid said: "Some food was brought to the Prophet ﷺ and it was offered to us. We said: We do not have any appetite for it: He said: Do not combine hunger and lies."
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کوئی کھانے کو کہے تو بھوک رکھ کر یوں کہتے ہیں: مجھے خواہش نہیں ہے، آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اگر بھوک ہے تو کھانا کھا لینا چاہیے ورنہ غلط بیانی میں بھوکا رہے، اور عذاب میں مبتلا ہو۔
Takhrij · تخریج
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: ٩٢، المشکاة: ٣٢٥٦ )
انس بن مالک ؓ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھالیا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) - a man from the tribe of Banu Abdul-Ashhal said: "I came to the Prophet ﷺ when he was eating breakfast and he said: Come and eat.’ I said: I am fasting. Alas! Would that I had eaten of the food of the Messenger of Allah."
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Harith bin Jaz Az- Zubaidi said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to eat bread and meat in the Masjid.”
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to eat while walking, and drink while standing up."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے رہ کر یا چلتے چلتے کھانا پینا درست ہے بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، اور زمزم کے پانی کو خاص کیا ہے کہ اس کا کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے، باقی سب پانیوں کو بیٹھ کر پینا بہتر ہے، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے، البانی صاحب سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ( ٢٨٩ ؍ ١) میں فرماتے ہیں کہ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے، (یعنی کھڑے ہو کر نہ پینا زیادہ بہتر ہے) اور کھڑے ہو کر پینے والے سے جو آپ نے قے کرنے کے لیے کہا تو یہ مستحب ہے، لیکن ابن حزم نے ان کی مخالفت کی اور کھڑے ہو کر پینے کو حرام کہا، شاید کہ یہی مذہب صحت سے زیادہ قریب ہے، کھڑے ہو کر پینے والی احادیث کے بارے میں اس بات کا امکان ہے کہ ان کو عذر پر محمول کیا جائے، جیسے جگہ کا تنگ ہونا یا مشک کا لٹکا ہوا ہونا بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے، واللہ اعلم۔ (ملاحظہ ہو: الأختیارات الفقہیۃ للأمام الألبانی ٤٧٧ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ نے میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ ﷺ اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، (غلام نے) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ ﷺ کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھاچکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے (تازہ کھجور کا) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ ﷺ کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کردیا۔
It was narrated that Anas said: ‘Umm Sulaim sent with me a basket of fresh dates for the Messenger of Allah, but I did not find him, as he had just gone out to a freed slave of his who had invited him and made food for him. I came to him and he was eating, and he called me to eat with him. He (the freed slave) had served him Tharid with meat and gourd, and he liked the gourd, so I started to collect the (pieces of) gourd and put them near him. When we had eaten he went back to his house and I put the basket (of dates) before him, and he started to eat them and share them, until he finished the last of them."
جابر (جابر بن طارق) ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قرع یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Hakim bin Jabir that his father said: "I entered upon the Prophet ﷺ in his house, and he had some of this gourd. I said: What is this? He said: This is Qar; it is Dubba. We augment our food with."
Notes · وضاحت
١ ؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢١١، ومصباح الزجاجة: ١١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٣، ١٧٧، ٢٠٦) (صحیح )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل دنیا اور اہل جنت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے ۔
It was narrated from Abu Darda that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best food of the people of this world and the people of Paradise is meat."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٥، ومصباح الزجاجة: ١١٣٦) (ضعیف جدا) (سلیمان جزری منکر الحدیث ہیں، اس حدیث کو ابن الجوزی نے الموضوعات میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٧٢٤ )
ابوالدرد ١ ء ؓ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو گوشت کی دعوت دی گئی ہو اور اسے آپ نے قبول نہ کیا ہو، اور نہ ہی ایسا ہوا کہ آپ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ہو اور آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ہو۔
It was narrated that Abu Darda said: "The Messenger of Allah ﷺ was never invited to eat meat but he would respond, and he was never offered meat as a gift but he would accept it."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٦) (ضعیف جدا) (سلیمان بن عطاء منکر الحدیث راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "One day some meat was brought to the Messenger of Allah ﷺ and the foreleg was offered to him which he liked, so he bit it with his front teeth."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن سورة ١٧ (٤٧١٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٤)، سنن الترمذی/الأطعمة ٣٤ (١٨٣٧)، القیامة ١٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١، ٤٣٥) (صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے جنہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے سنا ہے جب لوگ آپ کے لیے گوشت ڈال رہے تھے: سب سے عمدہ اور لذیذ پٹھے کا گوشت ہوتا ہے ۔
Abdullah bin Jafar told Ibn Zubair, who had slaughtered a camel for them, that he heard the Messenger of Allah ﷺ and he (Abdullah) said: "Some people were bringing meat to the Messenger of Allah ﷺ and he said: The best meat is the meat of the back."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥) (ضعیف) (محمد بن عبد اللہ کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٨١٣ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I do not know of the Messenger of Allah ﷺ ever seeing a roasted sheep until he met Allah."
Notes · وضاحت
١ ؎: سمیط وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ ﷺ نے نہیں دیکھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٥٧)، الأطعمة ٢٦ (٥٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨، ١٣٤، ٢٥٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے بچا ہوا بھنا گوشت نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کبھی دری (چٹائی) لے جائی گئی۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "No leftovers of roast meat were ever cleared from in front of the Messenger of Allah ﷺ and no carpet was ever carried with him."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٦، ومصباح الزجاجة: ١١٣٨) (ضعیف) (جبارہ اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں )