Sunan Ibne-Majah 3865

دعاؤں کا بیان

3865Sunan Ibne-Majah

دعا میں ہاتھ اٹھانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ، فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب حی (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ١ ؎۔

It was narrated from Salman that the Prophet ﷺ (saw) said: “Your Lord is Kind and Most Generous , and is too kind to let His slave, if he raises his hands to Him, bring them back empty,” or he said “frustrated” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کرلی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٨) (صحیح )