آداب کا بیان۔

Sunan Ibne-Majah · Chapter 34 · 170 hadiths · Page 9 of 9

3817Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں پر زبان درازی کرتا تھا، لیکن اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور سے زبان درازی نہ کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کیا کرتے، تم ہر روز ستر بار استغفار کیا کرو ۔

It was narrated that Hudhaifah said: "I was harsh in the way I spoke to my family, but not to others, I mentioned that to the Prophet(saw) and he said: Why dont you ask for forgiveness? Ask Allah to forgive you, seventy times each day. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩٤، ٣٩٦، ٣٩٧، ٤٠٢)، سنن الدارمی/الرقاق ١٥ (٢٧٦٥) (ضعیف) (سند میں ابوالمغیرہ حذیفہ ؓ سے روایت میں مضطرب الحدیث ہیں )
3818Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا.

عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار پائے ۔

Abdullah bin Busr said that the Prophet(saw) said: "Glad tidings to those who find a lot of seeking forgiveness in the record of their deeds." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٩، ١٤٥، ١٨٨، ٢٣٩) (صحیح )
3819Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کرلیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever persists in asking for forgiveness, Allah will grant him relief from every worry, and a way out from every hardship, and will grant him provision from (sources) he could never imagine." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے گناہ بخش دوں گا، اس حدیث میں موحد مسلمانوں کے لیے بڑی امید ہے کہ توحید کی برکت سے اللہ چاہے گا تو ان کے گناہوں کو چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں بخش دے گا، لیکن کسی کو اس مغفرت پر تکیہ نہ کرنا چاہیے، اس لئے کہ انجام حال معلوم نہیں، اور اللہ رب العزت کی جیسی رحمت وسیع ہے ویسے ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے، پس ہمیشہ گناہوں سے ڈرتا اور بچتا رہے، توبہ اور استغفار کرتا رہے، اور شرک سے بچنے اور دور رہنے کا بڑا خیال رکھے کیونکہ شرک کے ساتھ بخشے جانے کی توقع نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥١٨)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨) (ضعیف) (سند میں حکم بن مصعب مجہول راوی ہیں )
3820Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساء وا استغفروا اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب برا کام کرتے ہیں تو اس سے استغفار کرتے ہیں ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) used to say: "Allahum-maj alni minalladhina idha ahsanu istabsharu, wa idha asau istaghfaru (O Allah, make me one of those who, if they do good deeds, they rejoice, and if they do bad deeds, they sek forgiveness).” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٩، ١٤٥، ١٨٨، ٢٣٩) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
3821Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقِرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً، ثُمَّ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کرسکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہوگا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہوگا تو میں اس سے ایک باع یعنی دونوں ہاتھ قریب ہوگا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah, the Blessed and Exalted, said: Whoever does one good deed will have (the reward of) ten like it and more, and whoever does a bad deed will have one like it, or I will forgive him. Whoever draws near to Me a hand span, I draw near to Him a forearms length; whoever draws near to Me a forearms length, I draw near to Him an arms length; whoever comes to Me walking, I come to him in a hurry. Whoever meets Me with an earthful of sins, but does not associate anything in worship With Me, I will meet it (i.e., his sins) with forgiveness equal to that. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٦ (٢٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٧، ١٤٨، ١٥٣، ١٥٥، ١٦٩، ١٨٠، سنن الدارمی/الرقاق ٧٢ (٢٨٣٠) (صحیح )
3822Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah says: I am as My slave thinks I am, and I am with him when he mentions me. If he makes mention of Me to himself, I make mention of him to Myself; and if he makes mention of Me in an assembly, I make mention of him in an assembly better than it. And if he draws near to Me a hand-span length, I draw near to him a forearms length. And if he comes to Me walking, I go to him in a hurry." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں لفظ نفس کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١ (٢٦٧٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٣٢ (٣٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥)، مسند احمد (٢/٢٥١) (صحیح )
3823Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ لَهُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw),said: "Every deed of the son of Adam will be multiplied for him, between ten and seven hundred times for each merit. Allah said: ‘Except fro fasting, for it is for Me and I shall reward it” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٢٥ (١١٥١)، سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٣ (٢٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٠، ١٢٥٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢ (١٨٩٤)، ٩ (١٩٠٤)، اللباس ٧٨ (٥٩٢٧)، التوحید ٣٥ (٧٥٠١)، ٥٠ (٧٥٣٧)، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٧)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٢٩٣، ٣٥٢، ٣١٣، ٤٤٣، ٤٤٥، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١، ٥١٠)، سنن الدارمی/الصوم ٥٠ (١٨١٢) (صحیح )
3824Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے لا حول ولا قوة إلا بالله گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: تم لا حول ولا قوة إلا بالله کہا کرو ۔

It was narrated that Abu Musa said: “The Prophet ﷺ (saw) heard me saying: ‘La hawla wala quwwata illa billah (there is no power and no strength except with Allah).’ He said: ‘O Abdullah bin Qais (RA) ! Shall I not tell you of a word which is one of the treasures of Paradise?” I said: ‘Yes, O Mesenger of Allah,’ He said: ‘Say: La hawla wala quwwata illa billah (There is no power and no strength except with Allah).’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن قیس یہ ابوموسیٰ اشعری ؓ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٠٥)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء، والتوبة، و الاستغفار ١٣ (٢٧٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥٢٦، ١٥٢٧، ١٥٢٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٣ (٣٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٢، ٤٠٧، ٤١٧، ٤١٨) (صحیح )
3825Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کلمہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah( ﷺ saw) said to me: ‘Shall I not tell you of a treasure which is one of the treasures of Paradise?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘ La hawla wa la quwwata illa billah(There is no power and no strength except with Allah).’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢، ١٥٢، ١٥٧، ١٧٩) (صحیح )
3826Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا حَازِمُ، أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ.

حازم بن حرملہ ؓ کہتے ہیں کہ میں (ایک روز) نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔

It was narrated that Hazim bin Harmalah said: "I passed by the Prophet(saw) and he said to me: O Hazim, say often: "La hawla wa la quwwata ilia billah (there is no power and no strength except with Allah): for it is one of the treasures of Paradise:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢) (صحیح) (سند میں ابوزینب مجہول راوی ہیں، اور خالد بن سعید مقبول عند المتابعہ، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )