Sunan Ibne-Majah 3826

آداب کا بیان۔

3826Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا حَازِمُ، أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ.

حازم بن حرملہ ؓ کہتے ہیں کہ میں (ایک روز) نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔

It was narrated that Hazim bin Harmalah said: "I passed by the Prophet(saw) and he said to me: O Hazim, say often: "La hawla wa la quwwata ilia billah (there is no power and no strength except with Allah): for it is one of the treasures of Paradise:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢) (صحیح) (سند میں ابوزینب مجہول راوی ہیں، اور خالد بن سعید مقبول عند المتابعہ، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )