Sunan Ibne-Majah 3825

آداب کا بیان۔

3825Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کلمہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah( ﷺ saw) said to me: ‘Shall I not tell you of a treasure which is one of the treasures of Paradise?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘ La hawla wa la quwwata illa billah(There is no power and no strength except with Allah).’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢، ١٥٢، ١٥٧، ١٧٩) (صحیح )