آداب کا بیان۔

Sunan Ibne-Majah · Chapter 34 · 170 hadiths · Page 8 of 9

3797Sunan Ibne-Majah

یاد الہی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا يَسْبِقُهَا عَمَلٌ، وَلَا تَتْرُكُ ذَنْبًا.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا إله إلا الله سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں، اور یہ کلمہ کوئی گناہ باقی نہیں چھوڑتا ١ ؎۔

It was narrated that Umm Hani said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: (About saying) La ilaha. illallah. - no deed takes precedence over it and it does not leave any sin." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب کافر لا إله إلا الله کہہ کر مسلمان ہوجائے تو اس سے زمانہ کفر کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٢٦) (ضعیف) (زکریا بن منظور ضعیف راوی ہیں ہے )
3798Sunan Ibne-Majah

یاد الہی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عَدْلُ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكُنَّ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ سَائِرَ يَوْمِهِ إِلَى اللَّيْلِ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا أَتَى بِهِ، إِلَّا مَنْ قَالَ أَكْثَرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہوگا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو بار سے زیادہ کہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “Whoever says one hundred times each day: La ilaha illallahu wahdahu Ia sharika lahu, lahul-mulku wa tahul-hamdu wa Huwa ala kulli shayin Qadir (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion, all praise is to Him, and He is able to do all things), it will be equivalent to him freeing ten slaves, and one hundred merits will be recorded for him, and one hundred bad deeds will be erased from (his record), and it will be a protection for him against Satan all day until night comes. No one can do anything better than him except one who says more.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے زیادہ ثواب ہوگا اسی طرح جو کوئی اور زیادہ کہے اس کو اور زیادہ ثواب ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٩٣)، الدعوات ٦٥ (٦٤٠٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩١)، سنن الترمذی/الدعوات ٦٠ (٣٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٠)، مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٧٥) (صحیح )
3799Sunan Ibne-Majah

یاد الہی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ كَعَتَاقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز صبح (فجر) کے بعد لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير کہے تو اسے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed that the Prophet(saw) said: "Whoever says, following the morning prayer: La ilaha illallahu wahdahu Ia sharika lahu, lahul- mulku wa lahul-hamdu, bi yadihilkhair, wa Huwa ala kulli shayin Qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion, all praise is to Him, in His Hand is all goodness, and He is Able to do all things), it will be as if he freed a slave from among the sons of Ismail." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٣٨) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، عشرمرات کے لفظ سے اس طرح کی دعا ثابت ہے، کمافی صحیح الترغیب و الترھیب: ٤٧٢ - ٤٧٥ )
3800Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ الْفَاكِهِ، قَالَ: سَمِعْتُطَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ابْنَ عَمِّ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہترین ذکر لا إله إلا الله اور سب سے بہترین دعا الحمد لله ہے ١ ؎۔

Jabir bin Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say. The best of remembrance is La ilaha illallah (None has the right to be worshiped but Allah), and the best of supplication is AIHamdu Lillah (praise is to Allah)."(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جو کوئی اللہ کی حمد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ دے گا، پس اس کی سب مرادیں خود بخود پوری ہوں گی الگ الگ مانگنے کی کیا حاجت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٩ (٣٣٨٣)، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٦) (حسن )
3801Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى الْعُمَرِيِّينَ، قَالَ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَهُوَ غُلَامٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، قَالَ: يَا رَبِّ، لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ، وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ، فَعَضَّلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ، فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِهَا، فَصَعِدَا إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَا: يَا رَبَّنَا، إِنَّ عَبْدَكَ قَدْ قَالَ مَقَالَةً، لَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُهَا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُهُ، مَاذَا قَالَ: عَبْدِي؟ قَالَا: يَا رَبِّ، إِنَّهُ قَالَ: يَا رَبِّ، لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ، وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: اكْتُبَاهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي، حَتَّى يَلْقَانِي، فَأَجْزِيَهُ بِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یوں کہا: يا رب لک الحمد کما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانک اے میرے رب! میں تیری ایسی تعریف کرتا ہوں جو تیری ذات کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے ، تو یہ کلمہ ان دونوں فرشتوں (یعنی کراما ً کاتبین) پر مشکل ہوا، اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کلمے کو کس طرح لکھیں، آخر وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا: اے ہمارے رب! تیرے بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے جسے ہم نہیں جانتے کیسے لکھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے کیا کہا؟ حالانکہ اس کے بندے نے جو کہا اسے وہ خوب جانتا ہے، ان فرشتوں نے عرض کیا: تیرے بندے نے یہ کلمہ کہا ہے يا رب لک الحمد کما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانک تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کلمہ کو (ان ہی لفظوں کے ساتھ نامہ اعمال میں) اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے کہا: یہاں تک کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملے گا تو میں اس وقت اس کو اس کا بدلہ دوں گا ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah( ﷺ saw) told them: “One of the slaves of Allah said: Ya Rabbi Lakal-hamdu kama yambagili-jalali Wajhika wa li azimi sulta nika (O Lord, to You is praise as befits the Glory of Your Face and the greatness of Your Might.) The angels were uncertain and did not know how to write this down, so they ascended to heaven and said: ‘O our Lord, Your slave has said a word that we do not know how to write down. Allah said - and He knows best what His slave said - What did My slave say? They said: O Lord, he said: "ya Rabbi Lakal-hamdu kama yanbagi li-jalali Wajhika wa Iiazimi sultanika (O Lord, to You is praise as befits the Glory of Your Face and the greatness of Your Might)’” Allah said to them: Write it down as My slave said it, until He meets Me and I shall reward him for it." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٢٧) (ضعیف) (صدقہ اور قدامہ دونوں ضعیف ہیں )
3802Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي قَالَ هَذَا؟، قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ: لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ.

وائل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے (سمع الله لمن حمده کے بعد) الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کلمہ کس نے کہا؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی ۔

It was narrated from Abdul-Iabbar bin Wail that his father said: "I prayed with the Prophet ﷺ (saw) and a man said: AIhamdu lillahi hamdan kathiran tayyiban mubarakan. fihi (Praise is to Allah, much, good and blessed praise). When the Prophet(saw) finished praying, he said: Who said that? The man said: It was me, but I did not mean anything but good. He said: The gates of heaven were opened because of it and nothing prevented it from reaching the Throne. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٦، ٣١٨، ٣١٩) (ضعیف) (ابو سحاق سبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد الجبار بن وائل ثقہ راوی ہیں، لیکن اپنے والد سے ان کی روایت مرسل ہے، یہ حدیث ابن عمر اور انس ؓ سے ثابت ہے، لیکن فما نهنهها شيء دون العرش ثابت نہیں )
3803Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَى مَا يُحِبُّ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں ، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: الحمد لله على كل حال ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said : When the Messenger of Allah( ﷺ saw) saw something that he liked, he would say: AI-hamdu lillahil-ladhi bi ni’matihi tatimmus-salihat (Praise is to Allah by Whose grace good deeds are completed). And if he saw something that he disliked, he would say: Al-hamdu lillahi ala kulli haal (Praise is to Allah in all circumstances). (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٢٩) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٩٦ ) (سند میں الو لید بن مسلم ثقہ لیکن کثیر التدلیس والتسویہ راوی ہیں، لیکن ابوہریرہ ؓ کی اگلی حدیث سے یہ حسن ہے، بوصیری نے اسناد کی تصحیح کی ہے )
3804Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے: الحمد لله على كل حال رب أعوذ بک من حال أهل النار ہر حال میں اللہ کا شکر ہے میرے رب! میں جہنمیوں کے حال سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairahh that the Prophet ﷺ (saw) used to say: “ Alhadulillahi ala kulli haal. Rabbi a’udhu bika min halo alhlinnaar (Praise is to Allah in all circumstances, O Allah, I seek refuge with You from the situation of the people of Hell).” (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٠) (ضعیف) (موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، اور محمد بن ثابت مجہول )
3805Sunan Ibne-Majah

اللہ کی حمد وثناء کرنے والوں کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِلَّا كَانَ الَّذِي أَعْطَاهُ، أَفْضَلَ مِمَّا أَخَذَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے، اور وہ الحمدللہ کہتا ہے تو اس نے جو دیا وہ اس چیز سے افضل ہے جو اس نے لیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘Allah does not bestow a blessing upon any slave and he says: ‘Al hamdu Lillah (praise is to Allah), except that what he gives(the praise) is better than what he received (the blessing).” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا الحمد للہ کہنا یہ اس نعمت سے افضل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دی، تو گویا بندے نے نعمت لی، اور اس سے افضل شئے اللہ تعالیٰ کی نزدیک اس کی عنایت ہے ورنہ اس کی نعمت کے سامنے ہمیں زبان سے ایک لفظ نکالنے کی کیا حقیقت ہے، اگر ہم لاکھوں برس تک الحمد للہ کہا کریں تو بھی اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہ ہو سکے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٣١) (حسن )
3806Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ١ ؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں) سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم اللہ (ہر عیب و نقص سے) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم (عظمت والا) اللہ (ہر عیب و نقص) سے پاک ہے) ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil- Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بہت مختصر کلمے ہیں اور ان کا پڑھنا بھی سہل ہے، آدمی کو چاہیے کہ ہر وقت ان کلموں کو پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٦٥ (٦٤٠٦)، التوحید ٥٧ (٧٥٦٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٤)، سنن الترمذی/الدعوات ٦٠ (٣٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٢) (صحیح )
3807Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا الَّذِي تَغْرِسُ، قُلْتُ: غِرَاسًا لِي، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى غِرَاسٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ هَذَا؟، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، يُغْرَسْ لَكَ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں درخت لگا رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: تم سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) passed by him when he was planting a plant, and said: "O Abu Hurairah (RA) h, what are you planting?" I said: "A plant for me." He said: "Shall I not tell you of a plant that is better than this?" He said: "Of course, O Messenger of Allah." He said: "Say: Subhan- Allah" wal-hamdu-lilIah, wa la ilaha illallah, wa Allahu Akbar (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is the Most Great.) For each one a tree will be planted for you in Paradise." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں چار کلمے ہیں تو ایک بار کہنے سے جنت میں چار درخت لگائے جائیں گے، اسی طرح دو بار کہنے سے آٹھ درخت، امید ہے کہ ہر ایک مومن ان کلموں کو لاکھوں بار پڑھا ہو، اور جنت کے اندر اس کی زمین میں لاکھوں درخت لگائے گئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٢) (صحیح )
3808Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ، أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ وَهِيَ تَذْكُرُ اللَّهَ، فَرَجَعَ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، أَوْ قَالَ: انْتَصَفَ وَهِيَ كَذَلِكَ، فَقَالَ: لَقَدْ قُلْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَنْكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَهِيَ أَكْثَرُ وَأَرْجَحُ، أَوْ أَوْزَنُ مِمَّا قُلْتِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ.

جویریہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح (فجر) کے وقت یا صبح کے بعد ان کے پاس سے گزرے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی تھیں، پھر آپ ﷺ اس وقت لوٹے جب دن چڑھ آیا، یا انہوں نے کہا: دوپہر ہوگئی اور وہ اسی حال میں تھیں (یعنی ذکر میں مشغول تھیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں جب سے تمہارے پاس سے اٹھا ہوں یہ چار کلمے تین مرتبہ پڑھے ہیں، یہ چاروں کلمے (ثواب میں) زیادہ اور وزن میں بھاری ہیں، اس ذکر سے جو تم نے کئے ہیں، (وہ چار کلمے یہ ہیں) سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد کلماته میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن، اور لامحدود کلمے کے برابر اس کی حمد وثناء بیان کرتا ہوں ۔

It was narrated that Juwairiyah said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) passed by her when he prayed the morning prayer, or after he prayed the morning prayer, and she was remembering Allah. He came back when the sun had risen”- or he(one of the narrators) said, “at midday and she was still doing that. He said: ‘I have said four words, three times, since I left you, and the are greater and weigh more heavily than what you have said. They are: Subhan-Allahi ‘adada khalqihi, Subhan-Allahi rida nafsihi, Subhan-Allahi midada kalimatihi (Glory is to Allah, as much as the number of His creation, glory is to Allah as much as pleases Him, glory is to Allah as much as the weight of His Throne, glory is to Allah as much as the ink of His words)’.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٩ (٢٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٩ (١٥٠٣)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٤ (٣٥٥٥)، سنن النسائی/االسہو ٩٤ (١٣٥٣)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٤٢٩) (صحیح )
3809Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ: التَّسْبِيحَ، وَالتَّهْلِيلَ، وَالتَّحْمِيدَ، يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا، أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ، أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح (سبحان الله ) ، تہلیل، لا إله إلا الله، اور تحمید، الحمد لله ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں (اللہ کے سامنے) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے ١ ؎۔

It was narrated from Numan bin Bashir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said "What you mention of the glory of Allah, of Tabsih (Subhan-Allah) , Tahlil (Allahu-Akbar) and Tahmid (AI-Hamdu lillah), revolves around the Throne, buzzing like bees, reminding of the one who said it. Wouldnt anyone of you like to have, or continue to have, something that reminds of him (in the presence of Allah)?" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، ان کلمات کی کیا فضیلت ہے، گویا یہ اپنے کہنے والے کے لئے شاہد اور مذکر ہیں، اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کا استواء عرش کے اوپر ہونا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٧١) (صحیح )
3810Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْأُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، فَإِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ وَبَدُنْتُ، فَقَالَ: كَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَسَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ، خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُلْجَمٍ مُسْرَجٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ، وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہوگئی ہوں، میرا بدن بھاری ہوگیا ہے ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: سو بار اللہ اکبر، سو بار الحمدللہ، سو بار سبحان اللہ کہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں ۔

It was narrated that Umm Hani said: "I came to the Messenger of Allah( ﷺ saw) and said: O Messenger of Allah, tell me of a (good) deed, for I have become old and weak and overweight. He said: Proclaim the greatness of Allah (say Allahu Akbar) one hundred times, praise Allah (say AI-Hamdu Lillah) one hundred times, and glorify Allah (say Subhdn-Allah) one hundred times. (That is) better than one hundred horses bridled and saddled for the sake of Allah, better than one hundred sacrificial camels, and better than (freeing) one hundred slaves. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اب محنت والی عبادت مجھ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٣، ١٨٠١٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٤) (حسن) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف اور محمد بن عقبہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ حسن ہے )
3811Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْهِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرْبَعٌ أَفْضَلُ الْكَلَامِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں، وہ یہ ہیں سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر اللہ کی ذات پاک ہے، ہر سم کی حمد وثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Samurah bin Jundab that the Prophet(saw) said: "(There are) four that are the best of words, and it does not matter with which you begin:": Subhan-Allah, wal-Hamdu- L,illah, wa la ilaha illallah, wa Allahu Akbar-(Glory is to Allah praise is to Allah, none has the right to be worshipped but Allah and Allah is the Most Great).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے پہلے سبحان اللہ کہے، چاہے الحمد للہ چاہے اللہ اکبر چاہے: لا إله إلا الله اگر اس کے بعد یہ بھی ملائے ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم تو اور زیادہ ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٢ (٢١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١١، ٢٠) (صحیح )
3812Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سو بار سبحان الله وبحمده کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔

It was narrated from Aby Hurairahh that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “Whoever says Subhan Allah wa bi hamdihi (Glory and praiseis to Allah) one hundred times, his sins will be forgiven even if they were like the foam of the sea””. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٠ (٣٤٦٦، ٣٤٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات ٦٥ (٦٤٠٥)، مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٧٥، ٥١٥) (صحیح )
3813Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ بِسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِنَّهَا يَعْنِي: يَحْطُطْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر کہنے کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ یہ کلمے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے (پرانے) پتے جھاڑ دیتا ہے ۔

It was narrated that Abu Darda said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw), said to me: You should recite Subhan·Allah, wal-Hamdu- Lillah, wa Ia ilaha illallah, wa Allah Akbar (GIory is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, and Allah is Most Great), for it sheds sins a tree sheds its leaves.(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤٠) (ضعیف) (سند میں عمر بن راشد کی ابن أبی کثیر سے روایت میں اضطراب ہے )
3814Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ، يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُمِائَةَ مَرَّةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ مجلس میں رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے سو بار کہتے تھے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "We used to count that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said one hundred times in a gathering: Rabbighfirli wa tub alayya innaka Antat- Tawwabur Rahim (O Allah forgive me and accept my repentance, for You are the Accepter of repentance, the Most Merciful}." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥١٦)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
3815Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے سو بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘I seek the forgiveness of Allah and repent to Him one hundred times each day_ "(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥١٠٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٢) (حسن صحیح )
3816Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے ستر بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔

It was narrated from Saeed bin Abu Burdah bin Abu Musa, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: I seek the forgiveness of Allah and repent to Him seventy times each day.": (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٠، ٥/٣٩٧) (صحیح )