Sunan Ibne-Majah 3809

آداب کا بیان۔

3809Sunan Ibne-Majah

سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ: التَّسْبِيحَ، وَالتَّهْلِيلَ، وَالتَّحْمِيدَ، يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا، أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ، أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح (سبحان الله ) ، تہلیل، لا إله إلا الله، اور تحمید، الحمد لله ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں (اللہ کے سامنے) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے ١ ؎۔

It was narrated from Numan bin Bashir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said "What you mention of the glory of Allah, of Tabsih (Subhan-Allah) , Tahlil (Allahu-Akbar) and Tahmid (AI-Hamdu lillah), revolves around the Throne, buzzing like bees, reminding of the one who said it. Wouldnt anyone of you like to have, or continue to have, something that reminds of him (in the presence of Allah)?" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، ان کلمات کی کیا فضیلت ہے، گویا یہ اپنے کہنے والے کے لئے شاہد اور مذکر ہیں، اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کا استواء عرش کے اوپر ہونا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٧١) (صحیح )