جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin ,Abdullah said: "We used to recite the Opening of the Book and a Surah behind the Imam in the first two Rakah of the Zuhr and the Asr, and in the last two Rakah (we would recite) the Opening of the Book: (Hasan)
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، عمران بن حصین ؓ نے اس کا انکار کیا، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب ؓ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ ؓ نے ٹھیک یاد رکھا ہے۔ سعید نے کہا: ہم نے قتادہ سے پوچھا: وہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک تو وہ جب آپ ﷺ نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قراءت فاتحہ سے فارغ ہوتے۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا: دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہہ لیتے، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ کو یہ پسند تھا کہ جب امام قراءت سے فارغ ہوجائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آجائے۔
It was narrated that Samurah bin Jundab said: "There are two pauses which I memorized from the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H but Imran bin Husain denied that. We wrote to Ubayy bin Kab in Al-Madinah, and he wrote that Samurah had indeed memorized them." (Hasan) (One of the narrators) Saeed said: "We said to Qatadah (RA) : What are these two pauses? He said: When he started his prayer, and when he finished reciting.": Then later he said: And when he recited: Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray. They used to like (for the Imam) when he had finished reciting to remain silent until he had caught his breath.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بھی جائز ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورت بھی پڑھے، پھر سورة فاتحہ کا پڑھنا کیونکر جائز نہ ہوگا، لیکن اولی یہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی صرف سورة فاتحہ پر قناعت کرلے، امام محمد نے موطا میں عبداللہ بن شداد سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز میں امامت کی، ایک شخص نے آپ ﷺ کے پیچھے قراءت کی، تو اس کے پاس والے نے اس کی چٹکی لی، جب وہ نماز پڑھ چکا تو بولا: تم نے چٹکی کیوں لی، پاس والے نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا امام ہو تو امام کی قراءت مقتدی کے لئے بھی کافی ہے، اس سے یہی مراد ہے کہ سورة فاتحہ کے علاوہ مقتدی اور دوسری سورة نہ پڑھے، اس باب کی تمام احادیث سے ثابت ہے کہ ہر نماز میں خواہ فرض ہو یا نفل، جہری ہو یا سری سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، بغیر فاتحہ پڑھے کوئی نماز درست نہیں ہوتی، یہ وہ مسئلہ ہے کہ امام المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری نے اس پر مستقل کتاب لکھی ہے، اور امام بیہقی نے ان سے بھی کئی گنا ضخیم کتاب لکھی ہے، اور سورة فاتحہ کے نہ پڑھنے والوں کے تمام شہبات کا مسکت جو اب دیا ہے، نیز مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری، اور مولانا ارشاد الحق نے اس موضوع پر مدلل کتابیں لکھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢٣ (٧٧٩، ٧٨٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٢ (٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حسن بصری ہیں، ان کا سماع سمرہ ؓ سے عقیقہ والی حدیث کے سوا کسی اور حدیث میں ثابت نہیں ہے، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٥٠٥ )
حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ ؓ نے کہا کہ میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت، اس پر عمران بن حصین ؓ نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب ؓ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ ؓ کی تصدیق کی۔
Samurah said: "I memorized two pauses in the prayer, a pause before reciting and a pause when bowing. "Irnr an bin Husain denied that, so they wrote to AIMadinah, to Ubayy bin Kab, and he said that Samurah was speaking the truth." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢٤ (٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١١، ٢١، ٢٣) (ضعیف) (اس حدیث میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی اور حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ٨٤٤ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ ألله أكبر کہے تو تم بھی ألله أكبر کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ١ ؎، اور غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب سمع الله لمن حمده کہے تو اللهم ربنا ولک الحمد کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Imlim has been appointed to be followed, so when he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar, when he recites, then listen attentively; when he says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray then say Amin; when he bows then bow; when he says Sami Allahu limon hamidah (Allah hears those who praise Him), then say Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You is the praise);" when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then all of you pray sitting down.(Sahih)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام جہری قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک پہلے التحيات پڑھے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Musa Al-Ashari said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the Imam recites, then listen attentively, and if he is sitting (in the prayer) then the first remembrance that anyone of you recites should be the Tashahhud: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زور سے قراءت نہ کرو، یہ مطلب نہیں کہ سورة فاتحہ نہ پڑھو، کیونکہ فاتحہ کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی، کیونکہ دوسری حدیثوں سے جو خود ابوہریرہ ؓ سے مروی ہیں یہ ثابت ہے کہ مقتدی کو سورة فاتحہ ہر ایک نماز میں پڑھنا چاہیے، ابھی اوپر گزرا کہ ابوالسائب نے ابوہریرہ ؓ سے کہا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: اے فارسی! اپنے دل میں پڑھ لو، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام کی قراءت کے وقت مقتدی زور سے قراءت نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے امام کو تکلیف ہوتی ہے، کبھی وہ بھول جاتا ہے۔ ٢ ؎: اگر امام کسی عذر کے سبب بیٹھ کر نماز پڑھائے، تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، اگر وہ معذور نہیں ہیں، اس حدیث کا یہ حکم کہ امام بیٹھ کر پڑھائے تو بیٹھ کر پڑھو منسوخ ہے، مرض الوفات کی حدیث سے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی، (ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی) نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟ ، ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت (کھینچا تانی) کر رہا ہے ۔
It was narrated that Ibn Ukaimah said: "I heard Abu Hurairah (RA) say: The Prophet ﷺ led his Companions in a prayer; we think it was the Subh. He said: "Did anyone among you recite?" A man said: "I did." He said: "I was saying to myself, what is wrong with me that someone is fighting to wrest the Quran from me?" (Sahih)…..
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کرلی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer: and he mentioned a similar report, and added to it, and he said: "And after that they were quiet in the prayers in which the lmdm. Recites aloud." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہری نماز میں لوگوں نے آواز سے پڑھنا چھوڑ دیا، یا سورت کا پڑھنا ہی چھوڑ دیا، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی چھوڑ دیا جیسا حنفیہ نے سمجھا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ حدیث کا آخری ٹکڑا فسکتوا مدرج ہے، زہری کا کلام ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever has an Imam, the recitation of the lmam is his recitation." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں: له طرق أخرى كلها واهية یعنی اس حدیث کے تمام کے تمام طرق واہی ہیں، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: طرق کلها معلولة یعنی اس کے تمام طرق معلول ہیں، امام بخاری جزء قراء ت میں فرماتے ہیں: هذا خبر لم يثبت عند أهل العلم من أهل الحجاز وأهل العراق وغيرهم لإرساله و انقطاعه یعنی یہ حدیث حجاز و عراق وغیرہ کے اہل علم کے نزدیک بسبب مرسل اور منقطع ہونے کے ثابت نہیں، اور اگر ثابت مان بھی لیا جائے، تو اس کا معنی یہ ہے کہ صرف سورة فاتحہ پڑھے کچھ اور پڑھنے کی ضرورت نہیں، فاتحہ کافی ہے تاکہ اس کا معنی دوسری احادیث کے مطابق ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٥، ومصباح الزجاجة: ٣١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٩) (ضعیف) (سند میں جابر الجعفی ضعیف بلکہ متہم بالکذب راوی ہے، اس لئے علماء کی اکثریت نے اس حدیث کی تضعیف فرمائی ہے، شیخ البانی نے شواہد کی بناء پر اس کی تحسین کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨٥٠ ، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: و فتح الباری: ٢ /٢٤٢ وسنن الترمذی ب تحقیق احمد شاکر ٢ /١٢١-١٢٦، و سنن الدار قطنی: ١ /٣٢٣- ٣٣٣ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے امام نسائی نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام (آمین) کہے تو تم بھی آمین کہو ١ ؎، اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the reciter says Amin, then say Amin, for if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پہلے امام بلند آواز سے آمین کہے، پھر مقتدی بھی آواز سے آمین کہیں، اور اس کی دلیل میں کئی حدیثیں ہیں، اور حنفیہ کہتے ہیں کہ آمین آہستہ سے کہنا چاہیے، اور دلیل دیتے ہیں وائل کی حدیث سے جس میں یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين پر پہنچے تو آہستہ سے آمین کہی، (مسند امام احمد، مسند ابویعلی، طبرانی، دارقطنی، مستدرک الحاکم) ہم کہتے ہیں کہ خود اس حدیث سے زور سے آمین کہنا ثابت ہوتا ہے، ورنہ وائل نے کیوں کر سنا اور سفیان نے اس حدیث کو وائل سے روایت کیا، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے آمین کہی بلند آواز سے، اور صاحب ہدایہ نے آمین کو دھیرے سے کہنے پر ابن مسعود ؓ کے قول سے استدلال کیا ہے، اور وہ روایت ضعیف ہے، نیز صحابی کا قول مرفوع حدیثوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابن مسعود ؓ کی مراد اخفاء سے یہ ہو کہ زور سے کہنے میں مبالغہ نہ کرے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٣٣ (٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٧)، وحدیث سلمة بن عبد الرحمن تفرد بہ ابن ماجہ ١٥٣٠٢، (تحفة الأشراف: ١٥٣٠٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتے تو آمین کہتے، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The people stopped saying Amin, but when the Messenger of Allah ﷺ said Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray he would say Amin, until the people in the first row could hear it, and the Masjid would shake with it. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٤، ومصباح الزجاجة: ٣١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٧٢ (٩٣٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو عبداللہ مجہول ہیں، اور بشر بن رافع ضعیف ہیں، اس لئے ابن ماجہ کی یہ روایت جس میں فيرتج بها المسجد (جس سے مسجد گونج جائے) کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٦٥ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ جب آپ ﷺ ولا الضالين کہتے تو آمین کہتے ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying Amin after he said, nor of those who went astray: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آمین کے معنی ہیں قبول فرما، اور بعضوں نے کہا کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور بہر حال زور سے آمین کہنا سنت نبوی اور باعث اجر ہے، اور جو کوئی اس کو برا سمجھے اس کو اپنی حدیث مخالف روش پر فکر مند ہونا چاہیے کہ وہ حدیث رسول کے اعراض سے کیوں کر اللہ کے یہاں سرخرو ہو سکے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٣١٢) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن بعد میں آنے والی صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٨٤٥ ، فواد عبد الباقی اور خلیل مامون شیحا کے نسخوں میں اور مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں عثمان بن ابی شیبہ ہے، مشہور حسن نے ابوبکر بن ابی شیبہ ثبت کیا ہے، اور ایسے تحفة الأشراف میں ہے، اس لئے ہم نے ابوبکر کو ثبت کیا ہے، جو ابن ماجہ کے مشاہیر مشائخ میں ہیں، اس لئے کہ امام مزی نے تحفہ میں یہی لکھا ہے، اور تہذیب الکمال میں حمید بن عبدالرحمن کے ترجمہ میں تلامیذ میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے نام کے آگے (م د ق) کا رمز ثبت فرمایا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ صحیح مسلم، ابوداود، اور ابن ماجہ میں ابوبکر کے شیخ حمید بن عبد الرحمن ہی ہیں، ملاحظہ ہو، تہذیب الکمال: ( ٧ / ٣٧٧)، اور عثمان بن ابی شیبہ کے سامنے (خ م) یعنی بخاری و مسلم کا رمز دیا ہے، یعنی ان دونوں کتابوں میں حمید سے روایت کرنے والے عثمان ہیں، ایسے ہی عثمان کے ترجمہ میں حمید بن عبد الرحمن کے آگے (خ م) کا رمز دیا ہے )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے ولا الضالين کہا، تو اس کے بعد آمین کہا، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin wsu that his father said: "I performed prayer with the Prophet ﷺ and when he said: Nor of those who went astray he said Amin and we heard that from him." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا سلام کرنے، اور آمین کہنے پر حسد کیا ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "The jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) Amin" (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٧٤، ومصباح الزجاجة: ٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین کہنے پر کیا، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "The jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) Amin, so say Amin a great deal." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٩٧، ومصباح الزجاجة: ٣١٤) (ضعیف جدا) (سند میں طلحہ بن عمرو متروک ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث بغیر آخری ٹکڑے فأکثروا من قول آمين کے ثابت ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے مقابل لے جاتے، اور جب رکوع میں جاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، (تو بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے رفع یدین کرتے) اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ہاتھ نہ اٹھاتے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn e Umar said: I saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands until they were parallel to his shoulders when he started the prayer, and when he bowed in Ruku, and when he raised his head from Ruku, but he did not raise them between the two prostrations.(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوگیا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں۔
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیر تحریمہ کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے قریب تک اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
It was narrated that Malik bin Huwairith said that when the Messenger of Allah ﷺ said Allahu Akbar, he would raise his hands until they were close to his ears; when he bowed in Ruku he did likewise, and when he raised his head from Ruku he did likewise. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے دونوں ہاتھ نماز میں مونڈھوں (کندھوں) کے بالمقابل اٹھاتے جس وقت نماز شروع کرتے، جس وقت رکوع کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، اور جس وقت سجدہ کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands during prayer until they were parallel with his shoulders when he started to pray, when he bowed and when he prostrated." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: سجدے کے وقت بھی رفع یدین کرنا اس روایت میں وارد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٥٥، ومصباح الزجاجة: ٣١٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٥) (صحیح) (اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق و شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧٢٤ )
عمیر بن حبیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر کے ساتھ فرض نماز میں اٹھاتے تھے۔
It was narrated that Umair bin Habib said: "The Messenger of Allah ﷺ used to raise his hands at every Takbir (saying Allahu Akbar) in the oblige tory prayer." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣١٦) (صحیح) (اس سند میں رفدة بن قضاعہ ضعیف راوی ہیں، اور عبد اللہ بن عبید بن عمیر نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے، کما فی التاریخ الأوسط والتاریخ الکبیر: ٥ /٤٥٥، اور تاریخ کبیر میں عبد اللہ کے والد کے ترجمہ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ہے، بایں ہمہ طرق شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧٢٤ )
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی کو کہتے سنا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے دس اصحاب کے بیچ میں تھے جن میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابو حمید ساعدی ؓ نے کہا: میں تم میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر ألله أكبر کہتے، اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب سمع الله لمن حمده کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہوجاتے، اور جب دو رکعت کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو ألله أكبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Muhammad bin Amr bin Ata said, concerning Abu Humaid As-Sadi: "I heard him when he was among ten of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ one of whom was Abu Qatadah bin RibI, saying: I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ When he stood up for prayer, he stood up straight and raised his hands until they were parallel to his shoulders, then he said: Allahu Akbar. When he wanted to bow in Ruku, he raised his hands until they were parallel to his shoulders. When he said Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), he raised his hands and stood up straight. When he stood up after two Rakah, he said Allahu Akbar and raised his hands until they were parallel to his shoulders, as he did when he started the prayer.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس میں دس صحابہ کی رفع یدین پر گواہی ہے، کیونکہ سب نے سکوت اختیار کیا، اور کسی نے ابوحمید ؓ پر نکیر نہیں کی، ان دس میں حسن بن علی ؓ بھی تھے۔